مشرقیات

ہم بھگت رہے ہیں اور آپ جناب کو سیاست کی پڑی ہوئی ہے صاف ظاہر ہے کہ ملک کو دیوالیہ پن کی راہ پر ڈال کر بھی ہمارے سیاستدانوں کو ابھی عقل نہیں آئی عقل تو دور کی بات انہیں اتنا بھی ادراک نہیں کہ خلق خدا ایک مسلسل عذاب میں ہے کوئی اگر سڑکوں پر نکلا بھی توسیاسی جماعتوں کی بجائے اپنے مسائل کے غم میں ہلا گلا مچائے گا تب ہی انقلاب کے وہ آثار نظر آئیں گے جس میں آپ جناب کی سیاست سلامت رہے گی نہ تاج وتخت۔ابھی وقت ہے سر جوڑ کر بیٹھ جائیں ایک دوسرے کے جان کے دشمن ہمارے لیے آپ نہیں بنے بلکہ ہمارا آپ کی اس دشمنی سے کوئی لینا دینا ہے ہی نہیں۔بس اپنے مفاد کو ایک طرف رکھیں تو آپ کو ملکی مفاد بھی نظر آجائے گا۔عجیب مذاق بنایا ہوا کہ ایک مذاکرات کی بات کرتا ہے اور اگلے ہی لمحے ان مذاکرات سے منکر ہوکر ایک سو نوے درجے کا یوٹرن لے لیتا ہے ادھر سرکار مذاکرات کی آفر مار کر اسے ہنسی مذاق بنائے ہوئے ہے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے ہم فٹ بال بنے ہوئے ہیں کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ جب تک ہم اس قسم کی قیادت سے جان نہیں چھڑائیں گے فٹ بال کی طرح ان کی ٹھوکروں میں رہیں گے۔یہ ہمارے ملک کے مامے چاچے بنے ہوئے ہیں اور اسی ملک کو ڈبونے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں پہلے تو ہمیں خوش گمانی تھی کہ نادانستہ وہ ہمارا یا اس ملک کا نقصان کر رہے ہیں ورنہ نیت ان کی نیک ہے تاہم اب صاف ظاہر ہے کہ یہ لوگ دانستہ طور پر ملک وقوم کو ڈبونے کی کوشش کر رہے ہیں اب ملک وقوم کو ان سے جان چھڑانی ہی پڑے گی،بلا سے کوئی بھی آئے بس اس ملک کو آئین وقانون کے مطابق آگے بڑھائے اور سیاست کی بجائے مسائل پر توجہ دے۔آپ دیکھ ہی رہے ہیں کہ ہمارے دوست ملک تک بھی ہمیں ہمارے حال پر چھوڑتے جا رہے ہیں۔آپ کا کیا خیال ہے کہ اپنے عرب پتی ہماری مالی مدد نہیں کر سکتے یا ادھر جو ہمالیہ سے بلند دوستی کا حامل دوست بیٹھا ہے وہ ہمیں ڈوبتا دیکھ سکتا ہے توجناب ایسی کوئی بات نہیں ،دنیا میں اب بھی ہمارے خیر خواہ ہیں بس مسئلہ یہ ہے کہ ہم خود اپنے بدخواہ بن چکے ہیں اور اسی وجہ سے دوست بھی فی الحال منہ موڑے کھڑے ہیں ،ان دوستوں کا مشورہ ہے کہ اپنے ہاں سیاسی استحکام لائیں ،یہ ہو جائے تو کوئی ٹھوس اور قابل عمل معاشی پلان بنائیں اس حوالے سے ہماری مدد کی ضرورت ہو تو ہم حاضر ہیں۔تب سے آج تک ہم نے دوست ممالک کی بات پر بھی توجہ نہیں دی اور یوں اپنی دشمنی میں اس حد سے بھی گزر چکے ہیں جہاں کوئی اصلاح واحوال کی گنجائش نکلتی ہو۔اب سوائے اس کے کیا چارہ رہا ہے کہ ہما شما یعنی عوام معاملہ اپنے ہاتھ میں لے کر سیاسی قیادت کا قبلہ درست کر نے نکل پڑیں۔

مزید دیکھیں :   مودی، مغرب کے اثاثے سے بوجھ تک