سپریم کورٹ کے حکم

سپریم کورٹ کے حکم پر ارشد شریف کے قتل کا مقدمہ درج،3 ملزمان نامزد

سپریم کورٹ کے حکم پر ارشد شریف قتل کیس کا مقدمہ درج کرلیا گیا جس میں تین افراد کو نامزد کیا گیا ہے، وزارت داخلہ نے فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ عدالت عظمی میں جمع کرادی۔
ویب ڈیسک: سپریم کورٹ نے سینیئر صحافی ارشد شریف قتل کیس کا ازخود نوٹس لیا تھا اور چیف جسٹس کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے ارشد شریف کی میڈیکل رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے آج رات تک قتل کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا۔
سپریم کورٹ کے حکم پر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے تھانہ رمنا میں ایس ایچ او کی مدعیت میں مقدمہ درج کرتے ہوئے ارشد شریف قتل کیس میں وقار احمد، خرم احمد اور طارق وصی کو نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق ارشد شریف کی لاش بیرون ملک سے پاکستان لائی گئی تھی، بذریعہ میڈیکل بورڈ ارشد شریف کی لاش کا پوسٹ مارٹم کروایا گیا اور میڈیکل بورڈ نے چار نمونے لیبارٹری بھجوائے تھے۔
متن میں کہا گیا ہے کہ ارشد شریف کی بیرون ملک ہونے والی موت کی انکوائری اعلیٰ سطح پر ہو رہی ہے، پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ارشد شریف کی موت آتشی اسلحہ کا فائر لگنے سے ہوئی، انہیں کینیا میں قتل کیا گیا۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق قتل میں خرم احمد، وقار احمد، طارق احمد اور دیگر نامعلوم ملزمان کا ملوث ہونا پایا جا رہا ہے۔
خیال رہے سینئرصحافی ارشد شریف کو 23 اکتوبر کو کینیا کے شہر نیروبی میں مگاڈی ہائی وے پر قتل کر دیا گیا تھا۔
کینیا پولیس نے ابتدائی طور پر موقف اپنایا تھا کہ ارشد شریف شناخت میں غلطی پر پولیس کی گولی کا نشانہ بنے تاہم کینیا پولیس کے مؤقف میں تضاد پایا گیا ہے۔

مزید دیکھیں :   سرکاری ادویات اور ایکسرے فلم مارکیٹ میں فروخت