لوندخوڑ قتل

لوندخوڑ میں محنت کش کے قتل،کراس ایف آئی آر تنازعہ بڑھ گیا

ویب ڈیسک : سابق صوبائی وزیر اور امن جرگہ خیبر پختونخوا کے چیئرمین سید کمال شاہ باچہ نے لوندخوڑدندیا میں گزشتہ روز بیگناہ قتل ہونے والے غریب محنت کش نوجوان وسیم خان کے قتل میں ملوث پولیس کے اہلکار ان کے دیگر بھائیوں کے خلاف فوری کارروائی کے ساتھ ساتھ ان کی طرف سے کیس کو کراس کرنے کی خاطر بوگس ایف آئی آر ختم کرنے اور بوگس ایف آئی آر کے انداراج میں ملوث پیٹی بندوں کو فوری طور پر معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔بصورت دیگر امن جرگہ راست اقدام اٹھانے پر مجبور ہوگی وہ علاقہ.
لوندخوڑدندیامیں مقتول وسیم خان کی رسم سوئم کے موقع پر ایک بڑے تعزیتی اجتماع سے خطاب کررہے تھے جس سے امن جرگہ کے صوبائی کوارڈینیٹر عابد سلطان،سابق ڈسٹرکٹ ناظم مردان احتشام خان ایڈوکیٹ،اے این پی تحصیل تخت بھائی کے صدر حاجی سجاد خان،جمعیت علماء اسلام کے امیر مولانا محمد نصیر۔جماعت اسلامی کے حاجی محمد اقبال۔ارشد خان۔مسلم لیگ کے محمد اصیل خان۔سماجی رہنماء احمدی سجاد اور دیگر نے بھی اظہار خیال کیا۔اس موقع مقتول کے والدین اور بھائیوں کو میڈیا کے سامنے پیش کیا ۔
مقررین نے کہا۔کہ رشتے کے تنازعے پر مقتول وسیم خان کو قتل کرنے سے پہلے ملزم سپاہی اسلام اکبر نے اپنے ملزم بھائی شکیل اکبر کے ذریعے پیٹی بندوں کے تعاون سے اپنے زخمی ہونے کی بوگس ایف آئی آر میں مقتول وسیم اور اس کے دوسرے بھائی واصل خان کو ملزم گردانا گیا تاکہ کیس کو کراس ثابت کرسکے۔تھانے سے فارغ ہونے کے بعد ملزمان سپاہی اسلام اکبر۔شکیل اکبر۔خیرالاکبر اور ملزم علی اصغر نے فائرنگ کرکے بے گناہ دہاڑی دار مزدور وسیم خان ولد رحم سید کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔مقررین نے کہا کہ پولیس کے اعلیٰ حکام غیر جانبدار انکوائری کرکے مقتول پارٹی کے خلاف درج بوگس ایف آئی آر ختم اور ملزم اسلام اکبر کے ساتھ ساتھ بوگس ایف آئی آر میں ملوث پیٹی بندوں کو ملازمت سے برخاست کریں

مزید دیکھیں :   بچوں کی پیدائش کے وقت آپریشن کے رجحان میں خطرناک اضافہ