پختونخوا میں عمران خان کی مقبولیت

سیاسی ہنگام میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی بڑھتی مقبولیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے، نوجوانوں کا پسندیدہ لیڈر اب بھی عمران خان ہے، خیبرپختونخوا کی حد تک دیکھا جائے تو تحریک انصاف دیگر کسی بھی جماعت کے مقابلے میں مقبول جماعت ہے، یہ واحد جماعت ہے جسے صوبے میں مسلسل دو بار حکومت کا موقع ملا ہے اور اگلے انتخابات کے بارے عام خیال یہی ہے کہ تحریک انصاف کو ہرانا مشکل ہو گا۔ حریف جماعتیں اسے دیوانے کا خواب قرار دے سکتی ہیں مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف کو خیبرپختونخوا میں باقی جماعتوں پر برتری حاصل ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دیگر سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین کے پاس نوجوانوں کیلئے کوئی پروگرام نہیں ہے، اس خلا کو تحریک انصاف نے عمدہ طریقے سے پُر کیا ہے، سیاسی جماعتوں کے قائدین اخلاقیات کی بات تو کرتے ہیں مگر موجودہ دور کے نوجوانوں کو قدیم طرز کی سیاسی جماعتوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی میں نوجوان قیادت کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی، تاہم یہ کوشش نوجوانوں میں مقبول نہیں ہو سکی ہے۔ ایک لمحے کیلئے سوچیں کہ مریم نواز جو اپنے سبھی بچوں کی شادی کر چکی ہیں وہ نوجوانوں کی آواز کیسے بن سکتی ہیں، ان کا مزاج اور انداز بالکل مختلف ہے۔ اسی طرح بلاول بھٹو اگرچہ نوجوان ہیں اور جب پیپلزپارٹی کی قیادت انہیں سونپی گئی تو توقع تھی کہ وہ نوجوانوں کی آواز بنیں گے مگر ان کی سیاسی تربیت بھی اس انداز سے کی گئی ہے کہ سنجیدگی ان کی طبیعت پر غالب ہے۔ سب سے اہم یہ کہ پرانی سیاسی جماعتیں اپنے قدیم طرز سیاست کو ترک کرنے کیلئے آمادہ نہیں ہیں، اس دوران زمانے میں کیا سے کیا تبدیلی آ گئی اور حالات یکسر تبدیل ہو گئے۔ عمران خان نے سیاسی جماعتوں کی اسی کمزوری کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے، عمران خان بھی اگرچہ عمر کے اس حصے میں ہیں کہ انہیں نوجوان نہیں کہا جا سکتا تاہم انہوں نے سپورٹس مین ہونے کا بھرپور فائدہ اٹھایا، اور نوجوانوں کی آواز بن گئے کیونکہ انٹرٹینمنٹ کے ساتھ ساتھ انہیں تحریک انصاف میں وہ ماحول ملتا ہے جو نوجوانوں کو چاہتے ہوتا ہے۔
تحریک انصاف کو نوجوانوں کی حمایت حاصل ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نوجوان جذبات کے دھارے پر کھڑے ہوتے ہیں، انہیں حقیقت سے کوئی سروکار نہیں ہوتا ہے، جب عمران خان کہتے تھے کہ وہ ملک سے کرپشن کا خاتمہ کر دیں گے، تو نوجوان اس پر یقین کر لیتے، جب عمران خان کہتے کہ وہ ملک و قوم کا پیسہ ہڑپ کرنے والوں کا کڑا احتساب کریں گے تو نوجوان یہ سوچنے کا تردد نہ کرتے کہ عملی طور پر ایسا ممکن بھی ہے یا نہیں؟ جب عمران خان کہتے کہ وہ دنیا کے ساتھ برابری کی سطح کے تعلقات استوار کریں گے تو نوجوان سمجھنے لگتے کہ اس سے پہلے ہم غلامی کی زندگی بسر کر رہے تھے اب امریکہ سمیت تمام ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات ہوں گے۔ اس طرح کی درجنوں مثالیں موجود ہیں کہ عمران خان نے دعوے تو کیے مگر انہیں جب حکمرانی کا موقع ملا تو اس پر عمل درآمد نہ کرا سکے، عمران خان نے مگر اس کی پرواہ نہ کی اور نوجوانوں کی نفسیات کو سمجھتے ہوئے ایک کے بعد ایک بیانیہ انہیں دیتے رہے، کارکنان کو جوڑے رکھنے کیلئے یہ ضروری بھی تھا، نوجوانوں نے ان کی بات پر اعتماد کیا ہے تو یہ مقبولیت کی دلیل ہے۔
تحریک انصاف کے مقابلے میں چودہ سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہے، تحریک انصاف نے اپوزیشن کے اس اتحاد کو کچھ اس طرح سے پیش کیا ہے کہ نوجوان عمران خان کے گرویدہ ہو کر رہ گئے ہیں، عمران خان نے نوجوانوں کو یہ باور کرایا ہے کہ اکیلے عمران خان کا مقابلہ چودہ جماعتوں سے ہے، نوجوان تحریک انصاف اور عمران خان کو اسی پیرائے میں پرکھ رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جب ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف نے اپنی بعض نشستیں ہار دیں تو نوجوانوں نے اسے دوسرے زاویے سے دیکھا کہ چودہ جماعتوں کے مقابلے میں تحریک انصاف نے سب سے زیادہ سیٹیں حاصل کی ہیں۔
عمران خان کو آٹھ ماہ قبل اقتدار سے نکالا گیا، دیکھا جائے تو تحریک عدم اعتماد آئینی آپشن تھا مگر انہوں نے بڑی مہارت سے نوجوانوں کو اپنے ساتھ جوڑے رکھا اور انہیں باور کرایا کہ ایک عالمی سازش کے تحت ان کی حکومت کو ختم کیا گیا ہے نوجوانوں
نے کپتان کی بات پر یقین کیا اور خان صاحب کی آواز میں اپنی آواز شامل کر کے اس احتجاج میں شریک ہو گئے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے اگر اگلے انتخابات کا انعقاد ہوتا ہے تو عمران خان کا پلڑا بھاری دکھائی دیتا ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پچھلے چار برسوں کے دوران نوجوانوں کا ایک کروڑ سے زائد ووٹ شامل ہوا ہے، ڈھائی کروڑ ایسا ووٹر ہے جس کی عمر اٹھارہ سے پچیس برس کے درمیان ہے کہا جاتا ہے کہ اس عمر کے ووٹرز کی اکثریت عمران خان کو سپورٹ کرتی ہے۔ خان صاحب مقبولیت میں سب سے آگے کھڑے ہیں، یہی دراصل جمہوریت ہے کہ اکثریت جس کے ساتھ ہو اسے حکمرانی کا حق ہونا چاہئے اگر خان صاحب کو تکنیکی بنیادوں پر باہر کرنے کی کوشش کی گئی تو نوجوان اسے قبول نہیں کریں گے۔

مزید دیکھیں :   انتخابات ہوگئے توپھر؟