محاذ آرائی نہیں تدبر و تحمل اہم ہے

پنجاب کے وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی کا کہنا ہے کہ میں عمران خان کے حکم پر اسمبلی توڑنے کے لئے تیار ہوں لیکن آئندہ سال مارچ تک کچھ نہیں ہونے والا۔ پنجاب اسمبلی کی عدم تحلیل کے حوالے سے اپنے انٹرویو میں انہوں نے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شریک ارکان اسمبلی کے موقف سے بھی آگاہ کیا ان کے بقول ارکان اسمبلی سمجھتے ہیں کہ عمران خان علالت کے باعث انتخابی مہم نہیں چلاسکیں گے اس سے نقصان ہوگا۔ وجوہات یہی ہیں جو انہوں نے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو میں بتائیں یا ایک وجہ ملکی معیشت کی بے حالی بھی ہے۔ بہرطور پنجاب اسمبلی تحلیل کرنے کے معاملے کو آئندہ سال مارچ تک اٹھارکھنے کا موقف بظاہر درست ہے۔ اپنے انٹرویو میں انہوں نے انتخابی اصلاحات، چیف الیکشن کمشنر پر موجود تنازع اور وفاق سے تحریک انصاف کے مذاکرات کے بارے میں اہم باتیں کیں۔ آئندہ عام انتخابات سے قبل انتخابی اصلاحات بہت ضروری ہیں۔ پی ٹی آئی نے اپنے دور اقتدار میں اس کے لئے پرویز خٹک کی سربراہی میں جو کمیٹی بنائی تھی اس نے کتنا کام کیا تفصیلات کیا ہیں اس بارے تو خود پی ٹی آئی کے اپنے ارکان قومی اسمبلی لاعلم ہیں۔ اس امر سے
انکار ممکن نہیں کہ اگر انتخابی اصلاحات کے بغیر عام انتخابات کا ڈول ڈالا گیا تو نتائج ماضل کی طرح متنازعہ ہی ہوں گے اس لئے بہت ضروری ہے کہ انتخابی اصلاحات ہوں لیکن کیا پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی کی ایوان میں واپسی کے بغیر یہ معاملہ طے ہوسکتا ہے؟ بظاہر تو اس میں رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔ پی ٹی آئی انتخابی اصلاحات کے لئے دونوں صوبائی حکومتوں کے سربراہان (وزرائے اعلی)کو بااختیار قرار دے کر ایک کمیٹی بنادے جو وفاقی حکومت سے اس معاملے پر مذاکرات کرے لیکن کیا پی ٹی آئی حکومت سے مذاکرات کے لئے آمادہ ہوگی؟ اس سوال کی اہمیت اس لئے ہے کہ اگر کوئی کمیٹی بنا بھی دی جاتی ہے تو اس کے حتمی فیصلے کو عمران خان قبول کرلیں گے؟ بادی النظر میں ایسا ممکن نہیں اس کی وجہ عمران خان کا پل بھر میں بدلتا موقف ہے۔ چند دن قبل انہوں نے آئندہ عام انتخابات کے معاملے پر اتفاق رائے کے لئے حکومت سے مذاکرات کرنے کا اعلان کیا پھر 24گھنٹے کے اندر یہ بھی کہہ دیا کہ میری بات کا غلط مطلب لیا گیا ہے یہ کہ میں ان کے ساتھ کیسے بیٹھ سکتا ہوں۔ ظاہر ہے جب وہ پی ڈی ایم اور اتحادیوں کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے تو پی ڈی ایم و اتحادی تحریک انصاف کی دوسرے درجہ کی قیادت سے کیوں مذاکرات کریں گے۔ عمران خان کو سمجھنا ہوگا کہ سیاسی عمل میں کٹی کرکے بیٹھ جانے یا یہ تاثر دینا کہ مخالفین سے میری ذاتی عداوت ہے، درست فہم ہرگز نہیں۔ ثانیا یہ کہ خود عمران خان کی پارٹی اس وقت دو صوبوں میں برسراقتدار ہے حالات کو بہتر بنانے، معیشت اور دوسرے مسائل کے حوالے سے جتنی ذمہ داری دوسروں پر ہے اتنی ہی ان پر عائد ہوتی ہے۔ جہاں تک چیف الیکشن کمشنر پر ان کے اعتراضات کا تعلق ہے تو یہ ویسا ہی ہے جیسے وہ آجکل سابق
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے حوالے سے اپنائے ہوئے ہیں۔ اپنے دور حکومت میں مسلسل ضمنی انتخابات ہارنے اور ڈسکہ میں ہونے والی انتخابی دھاندلی کا نوٹس لئے جانے کے بعد وہ شمشیر بدست ہوکر چیف الیکشن کمشنر کے خلاف میدان میں اتر آئے لیکن اسی چیف الیکشن کمشنر کی موجودگی میں انہوں نے جولائی میں قومی اسمبلی کی سات نشستوں پر انتخاب لڑا چھ سے جیتے اور ایک پر ہار گئے۔ اس طور کیا یہ کہہ دیا جائے کہ اب چیف الیکشن کمشنر نے ان کے جیتنے میں تعاون کیا تھا ؟ سیاست میں سنجیدگی، تحمل اور معاملہ فہمی کی ضرورت مسلسل ہوتی ہے۔ عمران خان صبح کہی بات سے جس طرح دوپہر تک پلٹتے ہیں یہ غیرسنجیدگی ہے۔ وہ مسلسل بطور وزیراعظم اپنی بے اختیاری کی باتوں سے حامیوں کو بہلارہے ہیں جبکہ وزیراعظم کے طور پر کہا کرتے تھے کہ داخلہ، خارجہ اور معاشی پالیسیاں میرے ویژن کے مطابق ہیں۔ ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے میری ہی سوچ کو آگے بڑھایا۔
ہماری دانست میں انہیں کسی بھی موضوع پر اظہار خیال سے قبل اس موضوع پر ماضی میں کہی گئی اپنی باتوں کو ضرور سن لینا چاہیے تاکہ سبکی سے بچ رہیں۔ پنجاب کے وزیراعلی کا اسمبلی تحلیل نہ کرنے کے حوالے سے دیا گیا مشورہ اور پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ارکان نے جو کچھ کہا ضروری ہے کہ وہ ان ساری باتوں کو مدنظر رکھیں۔ بالفرض اگر ان کی اس بات کو درست مان لیا جائے کہ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہے تو کیا اس مشکل وقت میں جب معیشت پائی پائی کی محتاج ہے عام انتخابات کا ڈول ڈالا جانا عقل مندی کہلائے گا؟ چودھری پرویزالہی جہاندیدہ اور تجربہ کار سیاستدان ہیں انہوں نے معروضی حالات اور مسائل کو سامنے رکھ کر جو مشورہ دیا ہے عمران خان کو اس پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ ابھی مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہوپائے اس حالت میں انتخابی مہم ویڈیو لنک سے
چلاکر وہ کیا حاصل کرلیں گے اس کے لئے اگر وہ اپنے حقیقی آزادی مارچ کی وزیر آباد افسوسناک واقعہ کے بعد کی حالت کا جائزہ لیں تو انہیں بطور خاص یہ بات سمجھ میں آجائے گی کہ لانگ مارچ احتجاجی تحریک یا انتخابی مہم میں کسی بھی جماعت کے مرکزی لیڈر کا ذاتی طور پر موجود ہونا اہم ہوتا ہے۔ تحریک انصاف کا ووٹ بینک ان کی ذات کا ووٹ بینک ہے۔ وزیرآباد کے بعد لانگ مارچ میں لوگوں کی عدم دلچسپی اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی غیرموجودگی کے باعث لوگوں نے بھی لانگ مارچ میں شرکت میں دلچسپی نہیں لی۔ ان حالات میں اگر حکومت واقعی انتخابات کرانے پر آمادہ ہوجاتی ہے تو کیا وہ دو ماہ کی انتخابی مہم خود چلاپائیں گے؟ صاف سیدھی بات یہ ہے کہ اس کا امکان نہیں ہے کیونکہ ابھی وہ مکمل کیا پچاس فیصد بھی صحت یاب نہیں ہوئے۔ ڈاکٹروں کے منع کرنے کے باوجود انہوں نے 26نومبر کو راولپنڈی کے جلسہ میں شریک ہوکر دیکھ لیا کہ اس کے ان کی صحت پر کیا منفی اثرات مرتب ہوئے۔ اندریں حالات یہ عرض کرنا ضروری ہوگا کہ وہ اپنی صحت پر توجہ دیں۔ اگلے مرحلہ پر انتخابی اصلاحات کے ادھورے کام مکمل کرنے کے لئے حکمت عملی اپنائیں۔ اطلاعات یہ ہیں کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے بھی انہیں قبل از وقت دو صوبائی اسمبلیاں تحلیل نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

مزید دیکھیں :   من چہ می سرایم و طنبورہ من چہ می سراید

اور اسمبلیوں کی تحلیل کی صورت میں پیش آنے والی مشکلات سے بھی تفصیل کے ساتھ آگاہ کیا ہے۔ اس طور درست فہم یہی ہوگی کہ وہ دونوں وزرائے اعلی کے مشورے اور ارکان صوبائی اسمبلی کے اٹھائے گئے سوالات کو سامنے رکھ کر نئی حکمت عملی بنائیں۔ انہیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ سیاست میں حرف آخر نہیں ہوتا حکمت عملی میں تبدیلی خود سیاست کا حصہ ہے۔ نیز یہ کہ شخصی اور جماعتی مفادات پر ملک کے مفاد کو مقدم رکھا جائے۔ وہ خود تواتر کے ساتھ یہ کہتے رہتے ہیں کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں۔ ہم بھی ان کی توجہ اسی امر کی جانب دلانا ضروری خیال کرتے ہیں کہ وہ ذاتی پسندوناپسند اور ترجیحات کی سطح سے بلند ہوکر ملک، نظام اور جمہوریت کے مفادات کو بہرصورت مدنظر رکھیں تاکہ سیاسی اور معاشی مسائل مزید گھمبیر نہ ہونے پائیں۔