ڈولتی معیشت اور ڈنگ ٹپائو حکومت

معیشت کی نیا بیچ منجدھار کے ڈول اور ڈوب رہی ہے ۔زرمبادلہ ذخائر کا بھرم چند دوست اور مخیر ملکوں کے اُدھار نے باقی رکھا ہے ۔یہ اُدھار منہا ہوجائے تو خزانہ خالی اور بینک ویران ہو سکتے ہیں ۔ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی اور ایندھن فراہم کرنے والی کمپنیوں کو پیسوں کی فراہمی ناممکن ہو کر رہ جائے گی ۔معیشت ایک کچے دھاگے سے بندھ کر رہ گئی ہے ۔اسحاق ڈار کی جادوگری اور صلاحیت ابھی تک اپنا کوئی کمال دکھانے میں ناکام ہے ۔مفتاح اسماعیل کو بہت اہتمام اور انتظام کے ساتھ رخصت کیا گیا تھا اور اسحاق ڈار کو بہت شان اور مان کے ساتھ معیشت کے سنگھاسن پر بٹھایا گیا تھا ۔ردوبدل کی اس کہانی کا خلاصہ یہ تھا کہ مفتاح مل مالک اورسیٹھ ہیں اور ان کا معیشت کی باریکیوں سے کوئی لینا دینا نہیں اس کے برعکس اسحاق ڈار ایک چارٹرڈ اکاونٹینٹ اورمعیشت دان ہیں اور ان کا تجربہ بھی مسلمہ ہے ۔مسلم لیگ ن کی کئی حکومتیں ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اُٹھا ہی چکی ہیں مگر یوسف رضاگیلانی کی پیپلز پارٹی حکومت نے بھی بجٹ کی تیاری میں ان کی مدد حاصل کی تھی ۔خدا جانے اسحا ق ڈار کی صلاحیتوں کے اس ہرے بھرے چمن پر کیوں خزاں طاری ہو گئی اور ڈالر کی قیمت ان کے اس دعوے کا مذاق اُڑا ررہی ہے کہ وہ ڈالر کی قدر کو دوسو روپے تک پہنچائیں گے ۔اسحاق ڈار کے انہی دعوئوں نے جنرل باجوہ کا من موہ لیا تھااور انہیں عمران حکومت سے گلو خلاصی کے لئے کان کو اُلٹے ہاتھ سے پکڑ نا پڑا تھا ۔جس کے لئے ایک سائفر منگوا کر اچھی بھلی دیسی ٹائپ حکومتی تبدیلی کو رجیم چینج کے انگریزی سٹائل کا رنگ دینا پڑا اور یہ بلا اب مستقل طور پر ان کے گلے پڑ گئی ہے۔انہی دعوئوں کے باعث یہ تاثر تھاکہ پی ڈی ایم کی معاشی ٹیم زمین پر لوٹ پوٹ ہوتی ہوئی پاکستانی معیشت کو اُٹھا کر آسمان کی بلندیوں تک لے جا سکتی ہے ۔اے بسا آرزو کہ خاک شدہ کے مصداق یہ آرزو خاک میں مل گئی اور اسحاق ڈار حالات کی لہروں میں گھری معیشت کی نیا کے بہتر ناخدا ثابت نہ ہو سکے۔ملک میں مہنگائی قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے ۔ڈور کا کوئی سرا بھی نہیں مل رہا ۔امریکہ پاکستان کی سیاسی تبدیلیوں پر سراپا سپاس رہا مگر جب عملی مدد کا وقت آیا تو ایک طویل خاموشی ۔حد تو یہ کہ حالات سے تنگ آکر حکومتی وفد مصدق ملک کی قیادت میں کسی ہوم ورک کے بغیر روس سے سستا تیل لینے ماسکو پہنچ گیا ۔ایک اخبار کی رپورٹ کے مطابق ماسکو میں پاکستانی وفد نے مطالبہ دہرایا کہ پاکستان کو بھی بھارت اور چین کی قیمت پر تیل فراہم کیا جائے تو جواب میں روسی حکام نے کہا کہ یہ رعایت صرف روس کے دوستوں اور شراکت داروں کے لئے تھی مغرب نواز قوتوں کے لئے نہیں ۔ماسکو میں پاکستانی سفارت خانے نے نجانے کہاں سے یہ اندازہ کرلیا تھا کہ روس پاکستان کو بھارت کی طرح سستا تیل فراہم کرنے پر تیار ہے ۔پاکستانی سفارت خانے نے حکومت تک یہی غلط سگنل منتقل کیا اور یوں ایک وفد بہت اہتمام اور دھوم دھام سے ماسکو پہنچا اور اب مصدق ملک نے روس کے ساتھ معاہدات ہونے کی خبر دی ہے ۔سوال تو بنتا ہے کہ اگر یہی کرنا تھا تو اس کے لئے اتنا لمبا چکر کاٹنا اور سات ماہ ضائع کرنا کیوں ضروری تھا۔پاکستان نے یوکرین کی جنگ میں غیر جابندار رہنے کی جو پالیسی اپنائی تھی اسی کی وجہ سے روس نے سستے تیل گیس اور گندم کے مسائل کو حل کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی ۔یہ حالات کی دلدل سے نکلنے کا ایک بہتر متبادل راستہ تھا مگراس کا کیجئے کہ عمران خان برسرعام کہتے رہے کہ ہم کیوں روس کی مذمت کریں ہم کوئی غلام ہیں کیا؟دل خراش حقیقت یہ ہے کہ ابھی عمران خان آئینی لحاظ سے وزیر اعظم کے منصب پر براجمان ہی تھے کہ ایک تقریب میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکہ اور یورپی سفیروں کا مطالبہ پورا کرتے ہوئے روس کی مذمت کر رہے تھے۔جس سے خدا ہی ملا نہ وصال صنم ۔امریکہ نے خوش ہونا تھا نہ ہو ا مگر روس جو بہت مشکل سے کسی ٹھوس مدد پر آمادہ تھا ناراض ہو گیا ۔اب اس سارے پس منظر کے باجود ہم سستے تیل کی قطار میں جا کھڑے ہوئے ہیںمگر جو نقصان ہونا تھا ہو چکا ہے۔اس ماحول میں حکومت محض ڈنگ ٹپائو پالیسی پر چل رہی ہے ۔سیاسی بحران گہرا ہو چکا ہے اور انتخابات کے سوا اس کا کوئی حل نظر نہیں آتا ۔انتخابات کے بغیر کوئی بھی آئینی یا ماورائے آئین سیٹ اپ ساکھ اور اعتبار کو ترستا رہے گا ۔اس سیٹ اپ کی حیثیت عوام کے جذبات پر تیرتی ہوئی کاغذ کی کشتی سے زیادہ نہیں ہوگی ۔تیرہ جماعتی حکومت کے کارپردازان کی سب سے بڑی دلچسپی سیر وسیاحت اور اپنے عزیر واقارب کے لئے عہدے سمیٹنے میں ہے ۔حکومت صرف ایک موہوم امید پر دن گزار رہی ہے اب تو شاید امید بھی باقی نہیں رہی اسی لئے جس آئی ایم ایف کا ہاتھ جھٹکنے پر سابق وزیر خزانہ شوکت ترین پر ”توہینِ آئی ایم ایف ” کا الزام عائد کرکے غداری کے مقدمات قائم کرنے کے مطالبے کئے جاتے تھے اب اسحاق ڈار اورمولانا فضل الرحمان خود توہین ِ آئی ایم ایف کے مرتکب ہونے لگے ہیں ۔مولانا تویوں بھی کمال کے سیاست دان ہیں جو اس اسمبلی کو جعلی ،ناجائز، غیر قانونی سمیت کئی موٹی موٹی اصطلاحات سے نوازتے تھے اب اپنے دئیے گئے القابات اور ماضی کے بیانات کو بھول بھال کراسی اسمبلی کی مدت میں ایک سال کی مزید توسیع اور انتخابات میں ایک سال کی مزید تاخیر کی خواہش کا برملا اظہار کر رہے ہیں۔جن لوگوں کے پورے کے پورے خاندان حکومت بن بیٹھے ہیں اگر اسمبلی کی مدت بیس برس کرنے کی خواہش کریں تو کم ہے ۔اس عالم میں معیشت کا کباڑہ نکل رہا اور اس کا سارا ملبہ بازاروں میں عام آدمی پر گر رہا ہے اورابھی بجٹ کا بھونچال آنا باقی ہے ۔

مزید دیکھیں :   من چہ می سرایم و طنبورہ من چہ می سراید