سیاست کی بازیاں

ایک ہنگامہ خیز دور کے اختتام اور سیاست میں عملی عدم مداخلت کے آغاز کے ملکی سیاست پر اثرات مرتب ہونے کے آثار مذاکرات کے موضوع پر بیانات سے نظر آنے لگے ہیں سیاسی اختلافات پر مذاکرات شروع کرنے کے لئے ماحول بنانے کا عمل اہمیت کا حامل ہوتا ہے اگرچہ حکومت کی طرف سے بعض سخت بیانات اور انکار کی کیفیت ظاہر کی جارہی ہے لیکن بہرحال مذاکرات ہمیشہ سے سیاسی حکومت ہی کی ضرورت رہے ہیں تمام تر مخالفتوں اور بیانات کو ایک طرف رکھ کر اگر دیکھا جائے تو سربراہ حکومت شہباز شریف مذاکرات کی پیشکش کر چکے ہیں اگرچہ فی الوقت تحریک انصاف کی جانب سے بھی مشروط مذاکرات پر قائد تحریک کی سطح پر آمادگی اور پیشکش کا اظہار کیاگیا ہے بات آگے بڑھے گی تو شرائط کی بجائے سیاست اور سیاسی انداز میں کچھ لو کچھ دو کی معاملت شروع ہونا بعید نہیں لیکن اس کے لئے فریقین کو رواداری اختیارکرنے کی ضرورت ہو گی سیاسی معاملت اور مذاکرات میں تعطل اور ڈیڈ لاک کی کیفیت کابار بارآنا معمول کا عمل ہوتا ہے ایک ایسے وقت میں جب مذاکرات ہونے کا علم ہی نہ تھا کہ ڈیڈ لاک کی خبر بھی آئی ہے جس کا مطلب یہی نکلتا ہے کہ درپردہ معاملت ہو رہی ہے اور عین ممکن ہے کہ اس معاملت کا آغاز اہم تقرری سے قبل وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور صدر مملکت کی ملاقات سے ہوا ہو بہرحال اخباری اطلاعات میں بتایاگیا ہے کہ حکومت کے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے ذریعے ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے وزیر خزانہ اسحاق ڈار جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے ذریعے موجودہ سیاسی صورتحال پر بات جاری تھی۔دوسری جانب بھی صورتحال کافی گھمبیر ہے اور اتحادیوں کے درمیان بھی سلسلہ جنبانی چل رہی ہے جس کے تحتپنجاب اسمبلی کی تحلیل سمیت دیگر سیاسی معاملات پر مشاورت کے لیے پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کی قیادت کا ایک اور رابطہ ہوا ہے۔جس میں اسمبلی کی تحلیل اور دیگر سیاسی معاملات پر مشاورت کی گئی۔اتحادیوں کے بظاہر ایک صفحے پر ہونے اور اختیار عمران خان کے سپرد کرنے کے اعلان کے باوجود پس پردہ چلنے والے معاملات بلاوجہ نہیں دوسری جانب سابق صدر آصف علی زرداری کی چوہدری شجاعت حسین سے بھی ملاقات اہم ہے شنید ہے کہ اسمبلیوں کے اندراور اراکین اسمبلی سے بھی روایتی ملاقاتوں اور مبینہ طور پر پیشکشوں کا سلسلہ بھی چل رہا ہے سیاست میں ایک مرتبہ پھر اس سب کی گنجائش نکالنے کا سلسلہ نظر آتا ہے جو باب ناپسندیدہ قرار دے کر کسی حد تک بند کیا گیا تھا مگر درحقیقت اور عملی طور پر وہ باب چیئرمین سینٹ کے انتخاب کے موقع پر پوری طرح کھلا نظر آیا اور عین ممکن ہے کہ وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے دنوں بھی نظریہ ضرورت کا سہارا لیا گیا ہو۔ تحریک انصاف کی مشکل یہ رہی ہے کہ جن معاملات سے ان کی قیادت کو چڑ رہی ہوتی ہے بالآخر وہی عناصر اور وہی حالات و عوامل ان کو درپیش ہوئے ہیں اور خواستہ و ناخواستہ ان کو واپس مڑنے کی مجبوری کو قبول کرنا پڑا ہے بیشتر مواقع پر تو وہ قابل استہزاء نوعیت کا عمل تھا لیکن اس مرتبہ اسے احسن گردانا جائے گا اور یہ موقع بھی ہے دستور بھی ہے کہ موقف میں لچک اور نرمی لائی جائے سنجیدہ اور سیاسی مذاکرات کاآغاز کیا جائے حکومت کے لئے بھی اب مذاکرات کا راستہ ہی بچا ہے حالات و واقعات سے اس امر کا ا ظہار ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت کوبظاہر پنجاب کی اتحادی جماعت اور وزیراعلیٰ کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے لیکن درپردہ معاملات کی نوعیت الگ ہے اس موقع پر تحریک انصاف دوصوبوں کی حکومت کی قربانی مخالفین کے لئے جس بھی قسم کے حالات کا باعث بنے خود تحریک انصاف اوراس کی اتحادی جماعت کے لئے سیاسی طور پرموزوں عمل نہ ہوگاشاید یہی وجہ ہے کہ اعلان کے باوجود مزید وقت لیاجارہا ہے۔باوجود اس کے کہ دوسری جانب سے مذاکرات سے یکسر انکار نہیں کیاگیا بلکہ لچک کاعندیہ ملتا ہے جس سے امید وابستہ کی جا سکتی ہے کہ سیاسی مشکلات کا ا ونٹ کس کروٹ بیٹھ جائے گا اس امر سے کسی کو انکار نہیں ہونا چاہئے کہ سیاست میں ہر وقت حالات ایک جیسے نہیں رہتے اور سیاستدانوں کی خوبی اور سیاست کا حسن ہی یہ کہلاتا ہے اس کا تقاضا ہے کہ وقت اور حالات کی مناسبت سے لچک اور اعتدال کا راستہ اختیار کیا جائے ملکی حالات اور خاص طورپر سیاسی عدم استحکام معاشی صورتحال پر جواثرات مرتب ہوتے ہیں اس کاتقاضا ہے کہ حکومتی جماعتیں اورتحریک انصاف ہر دو فریق اپنے اپنے موقف پر نظرثانی کریں اعتدال کاراستہ یہی ہوسکتا ہے کہ سیاسی اختلافات کو مل بیٹھ کر طے کرنے کا راستہ اختیار کیاجائے کچھ لو اورکچھ دو کا اصول پرمذاکرات ہوں تو قابل قبول راستہ نکل سکتا ہے اور ملک جس بحران کاشکار ہے اس سے نکلنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے ۔

مزید دیکھیں :   من چہ می سرایم و طنبورہ من چہ می سراید