زرعی منصوبے کا آغاز

امریکہ اور پختونخوا حکومت کے اشتراک سے زرعی منصوبے کا آغاز

ویب ڈیسک :پاکستان میں امریکی سفارتخانے اورخیبرپختونخوا حکومت کے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات نے دس لاکھ ڈالر مالیت کے ایک مشترکہ منصوبہ کا آغاز کیا ہے جس کے تحت صوبہ کے کاشتکاروں کے لیے تربیت کی فراہمی، آبپاشی نظام میں بہتری اورکُنبوں کی آمدنی میں اضافہ پرمرکوز اقدامات کیے جائیں گے۔ امریکی اعانت کے ذریعہ خواتین کاشتکاروں پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے چار ہزار کسانوں کے لیے دو سو تربیتی کورس مکمل کیے جائیں گے۔ یہ منصوبہ سیلاب کے خطرات میں کمی اورآبی وسائل کے استعمال میں بہتری کے لیے آبپاشی کے نظام کی تعمیر کرے گاتاکہ فصلوں کی پیداوار میں اضافہ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں معاونت میسر ہو۔
اس حالیہ معاونت کے بعد امریکہ کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل پر مجموعی لاگت ساٹھ لاکھ ڈالر ہوجائے گی، جن سے باجوڑ، خیبر، مہمند اور تورغر کے 44ہزار خاندان مستفید ہوئے۔ اس منصوبہ پر دستخط کرنے کی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس میں امریکی سفارتخانے کے ڈپٹی چیف آف مشن اینڈریوشوفر، امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی انسداد منشیات اور نفاذِ قانون ( آئی این ایل)کے ڈائریکٹر لوری اینتولینز، صوبائی ایڈیشنل چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ، خیبرپختونخوا حکومت کے ڈی جی برائے محکمہ منصوبہ بندی اور ترقیات اور معاشی اُمور ڈویژن کے جوائنٹ سیکرٹری اسلم زیب نے شرکت کی۔
اس موقع پر ڈپٹی چیف آف مشن اینڈریو شُوفر نے صوبہ میں غیر قانونی فصلوں کی پیداوار کے خاتمے کے سلسلے میں امریکہ اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان دیرینہ شراکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کے ساتھ 46 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کے نتیجے میں نئے ضم شدہ اضلاع میں خواتین کاشتکاروں کو کلیدی مہارتوں کی تربیت دی جائے گی ، فصلوں کی بہتر پیداوار اور مہمند، باجوڑ، خیبر اور تورغر میں معاشی مواقع میسر آئیں گے۔

مزید دیکھیں :   خیبرپختونخوااور پنجاب میں بلدیاتی اورکنٹونمنٹ حکومتیں معطل