غیر ملکی ائیر لائنز پاکستان کو وارننگ

غیر ملکی ائیر لائنز کے 50ارب روپے روکنے پر پاکستان کو وارننگ

ویب ڈیسک :انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (ایاٹا)نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان نے غیرملکی ایئرلائنز کے225ملین ڈالر (50ارب روپے) روک رکھے ہیں، جس کی وجہ سے اس نے وارننگ لیٹرز جاری کر دیے ہیں۔ ایاٹا کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق حکومتوں کی جانب سے ایئرلائنز کے واپس ہونے والے فنڈز میں گذشتہ چھ ماہ کے دوران 25 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے، تاہم مجموعی طور پر مختلف حکومتوں نے ایئرلائنز کے دو ارب ڈالر تک روک رکھے ہیں۔
پاکستان سول ایوی ایشن کے ترجمان نے معاملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سول ایوی ایشن صرف عمل درآمد یقینی بنانے والا ایک ادارہ ہے جبکہ متعلقہ معاملہ سٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کا ہے۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ یہ معاملہ غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی موجوہ صورت حال کے باعث تعطل کا شکار ہوا ہے۔ایاٹا نے بھی اس حوالے سے واضح کیا ہے کہ ایئرلائنز کو رقوم کی واپسی روکنا کم ہوتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کا آسان طریقہ نظر آتا ہے لیکن بالآخر مقامی معیشت کو اس کی بڑی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درآمد کیا جائے اور ٹکٹوں کی فروخت اور دیگر سرگرمیوں سے حاصل کی جانے والی آمدنی غیرملکی ایئرلائنز کو واپس بھیجنے میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔
سول ایوی ایشن کے ذرائع کے مطابق سول ایوی ایشن نے متعلقہ معاملہ متعدد بار وزارت خزانہ کے سامنے رکھا ہے تاہم اس پر پالیسی فیصلہ سٹیٹ بینک آف پاکستان اور وزارت خزانہ کا ہے۔ذرائع کے مطابق فنڈز روکنے کے معاملے کا تعلق ملک کی موجودہ غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی صورتحال سے ہے۔ غیرملکی ائیر لائنز پاکستان میں ٹکٹنگ اور دیگر سروس سے حاصل کرنے والی آمدنی کو ڈالر میں تبدیل کر کے اپنے ملک واپس بھیجتی ہیں۔پاکستان کے علاوہ 27 دیگر ممالک نے بھی غیرملکی ایئرلائنز کی رقوم کو روکی ہوئی ہیں جن میں پاکستان کا دوسرا نمبر ہے،ایاٹا کے مطابق پہلے نمبر پر نائجیریا، پاکستان دوسرے جبکہ بنگلہ دیش غیرملکی ائیر لائنز کے آمدنی روکنے کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے۔

مزید پڑھیں:  پی آئی اے کی پرائیوٹائزیشن جولائی تک ہوجائے گی، محمد اورنگزیب