بیوروکریسی کی تعیناتی

ہیلتھ کے تمام انتظامی عہدوں پر بیوروکریسی کی تعیناتی ناگزیر

ویب ڈیسک :محکمہ صحت میں ڈی جی ہیلتھ سروسز بشمول تمام اہم عہدوں پر ڈاکٹرز کی بجائے صوبائی اور وفاقی بیوروکریسی کے افسران کی تعیناتی ناگزیر ہوگئی ہے اس وقت انتظامی کیڈر مکمل طور پر فیل ہوگیا ہے اور اس کے قیام کے بعد سے محکمہ صحت میں پیش رفت کی بجائے بدعنوانی میں اضافہ ہوا ہے سول سیکرٹریٹ کے ذرائع کے مطابق ہیلتھ ڈائریکٹوریٹ میں ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز اور ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن سمیت تمام اہم عہدوںپرپی ایم ایس یا سی ایس ایس کیڈر کے افسران کی تعیناتی کی تجویزکو زیر غور لایا گیا تھاجس کی روشنی میں مذکورہ اسامیوں کو شیڈول پوسٹوں میں بدلنے کی منصوبہ بندی تھی لیکن اس تجویز پر عملدرآمدسے قبل ہی اس بارے میں پراونشل ڈاکٹر ز ایسوسی ایشن کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا تھا اوراس کے بعد یہ منصوبہ سائیڈ لائن کیا گیا تاہم اس تجویز پر عملدر آمد نہ ہونے کی وجہ سے کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی ہے
ذرائع نے بتایا کہ2008تک خیبر پختونخوا میں ہر کیڈرکے ڈاکٹرز کی انتظامی عہدوں پر تعیناتی کی روایت تھی تاہم اس کے بعد محکمہ صحت میں مینجمنٹ گروپ قائم کیا گیا اور اس کے بعد سے کلیدی عہدوں پر اس کیڈر کے ڈاکٹرز تعینات ہیں اس کیڈر کے قیام سے قبل محکمہ صحت میں کرپشن سے متعلق شکایات بہت کم تھیں لیکن اب ہر سال انتظامی کیڈر کے ڈاکٹرز پر کروڑوں روپے کی بے قاعدگی کے الزامات لگ رہے ہیں اب تک جن افسران کیخلاف انکوائریز ہوئیں ان میں سے تقریبا95فیصد ڈاکٹرز مینجمنٹ کیڈرز سے ہے بلکہ اب تک ہونیوالی تمام انکوائریز بھرتی اور خریداری کے معاملات میں بد عنوانی کے الزامات کی چھان بین کیلئے چل رہے ہیں
اس تناظر میں محکمہ صحت میں کسی قسم کی بہتری نہیں آئی ہے اور اضلاع میں ہسپتالوں اور ضلعی صحت دفاتر کیلئے کارکردگی کے بارے میں متعین اشاروں پر بھی کوئی باز پرس نہیں ہورہی ہے اس تناظر میں محکمہ صحت کے ڈائریکٹوریٹ کے اہم عہدے شیڈول پوسٹوں میں شامل کرنے اور ضلعی صحت نظام بھی بیوروکریسی کے حوالے کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید دیکھیں :   انتخابات کی تاریخ کا فوری اعلان کریں، صدر کا چیف الیکشن کمشنر کو خط