بنوں شہر میں ہڑتال

بنوں شہر میں شٹر ڈان اور پہیہ جام ہڑتال ، تعلیمی ادارے بند رہے

ویب ڈیسک :امن کیلئے ترسنے والے بنوں کی عوام بپھر گئے، پورے شہر میں شٹر ڈان اور پہیہ جام ہڑتال کی گئی تعلیمی ادارے بند رہے، بعض مقامات پر جزوی ہڑتال تھی لیکن وہاں پر پھر مظاہرین نے زبردستی دُکانیں بند کروادیں،بنوں پولیس لائن کے مقام پر لگائے گئے امن کیمپ میں ہزاروں کی تعداد میں شہری شریک ہو ئے
جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان بھی بنوں دھرنے میں شریک ہو ئے،دھرنے سے خطاب کر تے ہوئے سینیٹر مشتاق احمد خان، مولانا سید نسیم علی شاہ، ایم پی اے ملک پختونیار خان، میئر بنوں عرفان درانی، ملک شکیل خان، اقبال جدون، حلیم زادہ وزیر، پیر قیصر عباس شاہ، ملک مامون وزیر، مفتی عبدالغنی ایڈووکیٹ، سابق ناظم ڈومیل فداء محمد خان، جنید الرشید، معصوم وزیر، ملک مویز خان، ملک مقبول خان، ملک راحت خان ایڈووکیٹ، غلام قیباز خان، ملک شیروز خان، ڈاکٹرعبدالرف قریشی، فہیم آزاد وزیر ایڈووکیٹ، عرفان پیر زادہ ایڈووکیٹ، شاہ وزیر خان، ملک ناصر خان بنگش، ملک شیرین مالک و دیگر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پھر سے دہشت گردی کی لہر چل رہی ہے لیکن کوئی روک تھام کا نام نہیں لے رہا، جوکہ عالمی سازش کا حصہ ہے ضلعی حکام کی جانب سے دھرنے کے منتظمین کی فریاد نہ سننا، دھرنے میں شرکت نہ کر نا اور دھرنے کو ناکام بنانے کیلئے منڈان پارک میں کبڈی کھیل کا تماشہ بنانا شرمناک فعل ہے ،اُنہوں نے دھرنے کے منتظم عبدالصمد خان اور گران وزیر کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا
ہم شمالی وزیرستان میں قتل تاجروں کی ایف آئی ار نہیں بلکہ قاتل چاہتے ہیں سپریم کورٹ خیبرپختونخوا میں قتل عام پر سوموٹو ایکشن لے، بعض شرکاء نے مطالبہ کیا کہ اگرحکومت ہمیں تحفظ فراہم نہیں کر سکتی تو قانونی اسلحہ کی اجازت دی جائے، سیکورٹی گارڈز اور مظاہرین کے درمیان پتھرا ہوا سیکورٹی گارڈزنے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے ہوائی فائرنگ کی بھگدڑ مچنے سے آ ئی ایس ایف کے دو طلبہ بھی زخمی ہو ئے، امن دھرنے میں شرکت کیلئے آ نے والے کوٹ عادل کے رہائشی نوجوان حبیب ولد روحان استاد دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے، وقوعہ کے بعد مظاہرین نے سکیورٹی گارڈ اور مالی پر لاتوں اور مکوں کی بارش کر دی جس میں دونوں زخمی ہو ئے ہیں، طلبہ نے یونیورسٹی میں شدید توڑ پھوڑ بھی کی، ڈویژنل انتظامیہ کی جانب سے تین ہفتوں کا وقت مانگا گیا تھا مگر دھرنے کے منتظمین نے امن کی تحریری ضمانت تک احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان کیا ۔

مزید دیکھیں :   خیبرپختونخواکے7سابق وزراء اعلیٰ جائے وقوعہ پرنہ آئے