سب سمجھتے ہیں اور سب چپ ہیں

مقطع میں سخن گسترانہ بات یوں آپڑی ہے کہ سابق حکمران جماعت اقتدار سے محروم ہونے کے دن سے لے کر تادم تحریر ملک میں عام انتخابات کے مطالبات شدو مد سے کر رہی ہے اور اس کے رہنمائوں کی بے چینی سے کھل کر یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ وہ اپنے اس مطالبے کے حوالے سے کتنی مشوش ہے ‘ اس حوالے سے لانگ مارچ کی سیریل چلا کر جماعت نے اپنا بیانیہ تو فوری انتخابات کا چلایا لیکن لاہور سے راولپنڈی تک چیونٹی کی رفتار سے قسطوں میں چلتے ہوئے بد قسمتی سے ایک حادثہ بھی رونما ہوا جس میں خود پارٹی سربراہ اور دیگر اہم رہنمائوں کو گولیوں کے زخم بھی آئے ‘ ایک ورکر جان سے بھی گیا ‘ جس کی موت ابھی تک معمہ بنی ہوئی ہے کہ اس کی موت کس کی گولی سے واقع ہوئی جبکہ پارٹی کے سربراہ کو ٹانگوں پر گولی لگی اور ان کو آج تک پلستر کے بعد پٹیاں باندھی جارہی ہیں ‘ بعض لوگوں نے اس حوالے سے بھی سوالات اٹھائے ہیں ‘ جبکہ اس واقعے کے حوالے سے ایف آئی آر درج کے حوالے سے بھی اختلافات سامنے آئے ہیں اور پارٹی کی اپنی حکومت ہوتے ہوئے بھی پنجاب میں مقدمے کے اندراج کا مسئلہ عدلیہ کے احکامات کے تابع مہمل رہا مگر اس کے باوجود مرضی کی ایف آئی آر کے اندراج میں حائل ہونے والی مشکلات پر بحث مباحثہ کسی طور رکنے ہی میں نہیں آرہا تھا اوراب لیگ (ق) کے سربراہ نے اس راز سے بھی پردہ اٹھا دیا ہے کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کو آرمی آفیسر کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے احتراز کامشورہ انہوں نے (چوہدری شجاعت حسین) نے دیا تھا ‘ خیر یہ تو چند جملہ ہائے معترضہ تھے اصل مسئلہ تو ملک میں عام انتخابات کے اعلان پرحکومت کو مجبور کرنا بلکہ دبائو میں لانے کا تھا اور تحریک انصاف نے اس مقصد کے حصول کے لئے ایک جانب تولانگ مارچ کے ذریعے حکومت کو بہر صورت مجبور کرنا تھا اور دوسری جانب نئے آرمی چیف کی تقرری کے معاملے کو کسی نہ کسی طور کھٹائی میں ڈال کر یہاں بھی اپنی مرضی کے مطابق تقرری کروانے کے لئے دبائو میں لانا تھا ‘ اس حوالے سے یہاں تک صورتحال کو تلخی کا نشانہ بنایا گیا کہ صدرمملکت کے ذریعے نئے آرمی چیف کی تقرری کے نوٹیفیکیشن کو رکوا کراس پر ملک کے اندر اختلافات ابھارنا تھے ‘ مگر صدرمملکت نے مسئلے کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے سمری پر (دستیاب معلومات کے مطابق) دستخط کرنے کے بعد عمران خان سے لاہور زمان پارک میں جا کرملاقات میں انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ کم از کم اس معاملے میں بطور پارٹی سربراہ ان کے حکم کی تعمیل نہیں کرسکتے ‘ حالانکہ آئینی طور پر بھی صدرمملکت یا گورنر کے عہدے پارٹی لائن کے تابع نہیں رہ سکتے اور تحریک انصاف کی حکومت سے پہلے یہ دونوں آئینی عہدے ہمیشہ غیر جانبداری کے تقاضوں کو پوراکرتے رہے جبکہ تحریک ا نصاف کے مقرر کردہ اپنے صدر ‘ گورنر ‘ یہاں تک کہ سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ ‘ سپیکر صوبائی اسمبلی جوپارٹی کے رکن رہے تھے’ ان مناصب پربراجمان ہونے کے بعد کھلم کھلا اور دھڑلے کے ساتھ پارٹی پالیسیوں کے تابع رہے جو سیاسی اخلاقیات کے خلاف اور آئینی تقاضوں کے برعکس ہے ‘ مگر محولہ تمام عہدوں پرپارٹی ممبران کی تقرری کے بعد یہ تمام پارٹی ورکرز کی حیثیت سے ہی پارٹی پالیسی پر عمل پیرا ہے ‘ اس کی تازہ مثال حال ہی میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے سپیکر کی ہے جنہوں نے ایک ایسے اجلاس میں شرکت کی جس پر اے این پی کے سربراہ حسین بابک نے حرف گیری کی تو سپیکر صاحب نے فرمایا کہ میں سپیکر اسمبلی کے اندر ہوں ‘ باہر میری مرضی ہے جوبھی کرتا
پھروں ‘ ان حقائق کے باوصف اب یہ دیکھنا ہے کہ جس مقصد کے لئے لانگ مارچ شروع کیا گیا تھا کیا وہ مقصد حاصل ہوگیا ؟ یقینا اس سوال کا جواب نفی میں ہے ‘ اس ضمن میں اس اعلان کے بھی”پرزے” اڑتے ہوئے آسانی سے دیکھے جا سکتے ہیں جو اسمبلیوں کی تحلیل کے ”دعوئوں” کی کوکھ سے ابھر رہے ہیں ۔ پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے حوالے سے متضاد دعوے اور درون خانہ ان کی مخالفت کے بیانئے کا جادوسرچڑھ کر بول رہا ہے ‘ اور ایسا لگتا ہے کہ تقریباً ہر روز پارٹی کے مختلف رہنما بیان بازی کے ذریعے صرف سیاسی دبائو ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں ‘ یعنی بقول محبوب خزاں
سب سمجھتے ہیں اور سب چپ ہیں
کوئی کہتا نہیں کہ تم سے کہیں
اس سارے پس منظر میں جونئی بات سامنے آئی ہے اس نے اس مطالبے کے غبارے سے ہوا خارج کردی ہے کہ الیکشن کی تاریخ کا اعلان کیا جائے ‘ اس حوالے سے مبینہ طور پر ایک خاص ادارے کی نئی قیادت کی جانب سے ”مداخلت” سے واضح انکار نے توجو صورتحال پیدا کی ہے وہ اپنی جگہ ‘ مگر آئینی اور قانونی مسئلہ ہے جوخود تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں سامنے آیا تھا اور جس حوالے سے الیکشن تب تک منعقد نہیں ہو سکتے جب تک کہ نئی مردم شماری نہ ہو جائے ‘ یہ فیصلہ جیسا کہ اوپر کی سطور میں عرض کیا ہے ‘ خود عمران حکومت کے دوران مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں کیا گیا تھا ‘ اس فیصلے کی رو سے اب انتخابات سے پہلے نئی ڈیجیٹل مردم شماری لازمی ہے جس پر ایک اطلاع کے مطابق اربوں روپے خرچ ہوں گے اور یہ کام نہ اتنا آسان ہے نہ ہی متعلقہ ادارے کے پاس جادو کی چھڑی ہے کہ ادھر سے ہلایا اور ادھر مردم شماری کے نتائج سامنے آگئے ‘ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ مردم شماری پر بھی کئی جماعتوں نے اعتراض کئے تھے خصوصاً سندھ میں ایم کیو ایم نے شدید اعتراضات کرکے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسی مردم شماری کے تحت ہونے والے انتخابات پر بھی سوالیہ نشان ثبت کئے تھے ‘ تاہم اب چونکہ نئی مردم شماری ڈیجیٹل ہوگی تو امید ہے کہ اس پراعتراضات کی گنجائش بہت ہی کم ہو گی تاہم مردم شماری پرمدت پھر بھی لگے گی اور بھاری اخراجات کے لئے رقم کہاں سے مہیا ہو گی کیونکہ ملک کی موجودہ معاشی صورتحال
اتنے اخراجات کی متحمل نہیں ہوسکتی ‘ کسی نہ کسی طور پر یہ مرحلہ طے ہو بھی جائے توپھرنئی مردم شماری کے تحت نئی حلقہ بندیوں کاتعین ‘ ان پرممکنہ اعتراضات ‘ ان اعتراضات کو دورکرنے کے لئے اقدامات اور پھربھی شکایات دور نہ ہوسکیں تو معترضین کی جانب سے عدالتوں کے ذریعے حلقہ بندیوں کے حتمی حل تک مزید مدت درکار ہو گی ‘ گویا یہ اتنا سادہ اور آسان مسئلہ نہیں ہے کہ آسانی سے اس کو طے کیا جا سکے ‘ ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد ہی کہیں جا کر انتخابات کااعلان ممکن ہوسکے گا ‘ اب کوئی لاکھ بھی چاہئے مگر بیان بازی ‘ اور احتجاج کی دھمکیوں سے یہ معاملہ آسانی سے حل ہونے کے چانسز پیدا نہیں ہوسکتے ‘ بقول یار طرحدار ڈاکٹرنذیر تبسم
گفتگو میں کوئی منطق نہ دلیل
کیوں مچاتے ہو بہت شور میاں
ہم تو شطرنج کے مہرے ہیںنذیر
چال چلتا ہے کوئی اور میاں

مزید دیکھیں :   مشرقیات