چین سعودی تعلقات میں جامنی رنگ کا افسانہ

عوامی جمہوریہ چین کے صدر ژی جن پنگ کا سعودی عرب پہنچنے پر غیر معمولی اور والہانہ استقبال ہوا ہے۔صدر ژی کے جہا ز کوسعودی حددد سے شاہ خالد ائرپورٹ تک کئی رنگ بکھیرتے جہازوں نے گھیرے میں لیا رکھا اور ائر پورٹ پر ان کا جامنی قالین بچھا کر استقبال کیا گیا ۔سعودی پروٹوکول کے تحت گورنر نے ان کا استقبال کیا ۔صدر ژی کے دورے کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی اور دوررس اہمیت کے حامل معاہدات ہونے جا رہے ہیں ۔چین سعودی عرب کو تیل فروخت کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے مگر اس دورے کو جیو پولٹیکس تناظر میں دیکھا جا رہا ہے ۔مشرق وسطیٰ کے قائدانہ کردار کے حامل ملک کی پالیسی میں ایسی تبدیلی ہے جس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو نا لازمی ہیں ۔سعودی عرب نے مشرق وسطیٰ اور عرب ملکوں کا قائد ہونے کا تاثر گہرا کرنے کے لئے چینی صدر کے ساتھ عرب سربراہوں کی ایک ملاقات کا اہتمام بھی کر رکھا ہے ۔سعودی عرب امریکہ کا سٹریٹجک شراکت دار اور خطے میں اس کا اہم اتحادی ہے مگر محمد بن سلمان کے ولی عہد بننے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں پہلے سی گرم جوشی عنقا ہے ۔گرم جوشی کی تو بات ہی کیا اب دونوں ملکوں کے تعلقات کو کشیدگی کا دیمک بھی لگ چکا ہے ۔صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد پیدا ہونے والے واقعات نے کشیدگی کو اندر ہی اندر بڑھا دیا ہے ۔اس کے بعد امریکہ نے ولی عہد محمد بن سلمان کے خلاف ایک اعلانیہ مہم جا ری رکھی جس نے سعودی حکمرانوں کی انا کو ٹھیس پہنچائی ۔امریکہ جس چہرے اور کردار سے نالاں نظر آتا ہے سعودی حکام اس کی پزیرائی کرتے ہیں ۔جب امریکی صدر بائیڈن عمران خان سے کوئی رابطہ نہ کرکے ان سے اپنی نفرت اور بیزاری کا اظہار کر رہے تھے اور اس کا ایک موڑ عالمی ماحولیات کانفرنس میں انہیں مدعو نہ کرنا تھا تو اس وقت محمد سلمان نے ماحولیات سے متعلق ایک بڑی تقریب کرکے عمران خان کو مہمان خصوصی کی سی حیثیت دی تھی ۔یہ عمران خان کی پزیرائی سے زیادہ جو بائیڈن کو چڑانے کا ایک انداز تھا ۔اسی طرح اسلام آباد میں او آئی سی وزرائے خارجہ کا اجلاس منعقد ہوا تو اس میں چینی وزیر خارجہ بہت اہتمام کے ساتھ شریک ہوئے ۔یہ مغرب کے لئے خطرے کی گھنٹی تھی کہ مسلمان دنیا کی تنظیم اجتماعی طور پر چین کے قریب ہو رہی تھی حالانکہ امریکہ نے مسلمان دنیا کو چین سے بدظن اور نالاں کرنے کے لئے اویغور مسلمانوں کے مسائل کو ہر پہلو اور انداز سے استعمال کرنے کی حکمت عملی اختیار کی تھی ۔یوکرین بحران کے بعد امریکہ نے سعودی عرب کو تیل کی قیمتیں بڑھانے کے لئے خاصا دبائو ڈالا مگر سعودی حکومت نے اس دبائو کی مزاحمت کی اور روس کے ساتھ مراسم برقرار رکھتے ہوئے تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ نہیں کیا ۔اب چینی صدر کا دورہ اس سفر میں ایک اہم پڑائو ہے ۔چینی صدر کے لئے بچھایا جانے والا جامنی رنگ کا قالین موضوع بحث بن گیا ہے ۔عمومی طور پر مہمانوں کا استقبال سرخ قالین بچھا کر کیا جاتا ہے ۔کہا جارہا ہے کہ جامنی رنگ کا قالین سرخ رنگ کے قالین کے مقابلے میں مہمان کی زیادہ قدر ومنزلت کا اظہار ہے ۔شاید ایسا بھی ہو اور اس کا مقصد مغرب کو کنفیوز کرنا بھی ہو مگر جامنی رنگ شاہی رنگ بھی سمجھا جاتا ہے اور سعودی عرب کے لئے اس کی اہمیت یوں بھی ہے کہ موسم بہار میں سعودی صحرا اسطوخود وس کے جامنی رنگ کے پھولوں سے ڈھک جاتے ہیں۔اسی لئے سعودی حکام نے سرخ کی بجائے جامنی رنگ کا قالین بچھا کر مہمانوں کے استقبال کا فیصلہ کیا ۔یوں جامنی رنگ سعودی اقدار اور ثقافت سے جڑا ہے ۔چین کی روایتی ثقافت میں بھی جامنی رنگ کو شاہی رنگ سمجھا جاتا ہے جو عزت اور شان کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔جامنی رنگ مشرق سے آنے والی جامنی لہروں یا وائبز کو بھی ظاہر کرتا ہے جس کا اظہار چین کی ایک کہاوت میں ملتا ہے۔سعودی عرب کی طرف سے چینی صدر کے استقبال کے لئے بچھنے والا جامنی قالین اب اپنے رنگ کی وجہ سے مغرب میں بے چینی پیدا کر رہا ہے ۔یہ دورہ اس صدی کو ایشیا کی صدی بنانے کی طرف ایک اہم قدم ہے اور امریکہ اس دورے کو بہت گہری نظر سے دیکھ رہا ہے ۔پاکستان کو اس بدلتے ہوئے منظر نامہ میں اپنے کردار اور راستے کو بدلنے کی حالیہ مشق کو بدلنا اور ترک کرنا چاہئے۔

مزید دیکھیں :   مودی، مغرب کے اثاثے سے بوجھ تک