صدرمملکت کا قابل غور مشورہ

صدرمملکت عارف علوی نے کہا ہے کہ آرمی نے سب کے سامنے اعلان کیا ہے کہ وہ اب سیاست سے دور رہے گی، سیاستدان ذمہ داری کا مظاہرہ کرکے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں۔سیاسی بحران کے حوالے صدر عارف علوی نے کہا کہ سیاستدانوں کو تمام متنازع معاملات پر بات چیت کرنی چاہئے انہوں نے سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو سیاسی بحران اور پولرائزیشن سے نکالنے کے لئے سیاستدانوں ہر معاملے پر آپس میں بات کریں، کوئی بھی ایسا معاملہ نہیں ہے جس پر بات نہ کی جاسکے ۔امر واقع یہ ہے کہ سیاسی معاملات اور حالات کے معیشت و اقتصاد پر پڑنے والے حالات کے باعث صورتحال گھمبیر ہوتی جارہی ہے ایک سروے کے مطابق 6ماہ کے دوران کاروباری اعتماد میں مزید کمی واقع ہوئی بڑھتی ہوئی مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی کے علاوہ سیاسی اور معاشی غیر یقینی صورتحال سمیت متعدد عوامل کی وجہ سے ملک بھر کے مختلف معاشی شعبہ جات میں گزشتہ 6 ماہ کے دوران مجموعی کاروباری اعتماد میں کمی آئی ہے۔ گزشتہ 6 ماہ کے دوران ملک کی غیر مستحکم سیاسی اور معاشی صورتحال کے پیش نظر کاروباری اعتماد میں کمی حیران کن نہیں ہے۔اس کے علاوہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور روپے کی قدر میں مسلسل کمی نے ملک کی معاشی سرگرمی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔یہ خبر بھی پریشان کن ہے کہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائرچارسال کی کم ترین سطح پر آگئے۔جو کہ تقریباً چار سال کی کم ترین سطح ہے ذخائر میں کمی پاکستان کے لئے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی مزید مشکل بنا سکتی ہے۔جب ملک کی معاشی صورتحال یہ ہو تو ملک میں خواہ جس کی بھی حکومت آئے جس کی حکومت چلی گئی تھی اور جنہوں نے اقتدارسنبھالا ہے اور عام انتخابات کے نتیجے میں جس جماعت یا اتحاد کی کامیابی ہو اور حکومت جوبھی بنائے اس سے رسم تو پوری ہوگی وزیراعظم کانام تو تبدیل ہو گا لیکن ملک جس بحران کاشکار ہے اس کا حل نہیں نکل سکتا ایک ایسے وقت میںجب ملک شدید اقتصادی و معاشی بحران کا شکار ہے ہمارے سیاستدانوں کو سیاسی جھگڑوں اور اقتدار سے فرصت نہیں کیا حکومت اور کیا حزب اختلاف سبھی قوم کو جوابدہ اور موجودہ صورتحال کے ذمہ دار ہیں جس کا ان کو احساس کرناچاہئے جس کا تقاضا یہی ہے کہ سیاسی معاملات کو سیاسی انداز اور سیاسی طور طریقوں سے حل کیا جائے ۔ صدر مملکت نے درست نشاندہی کی ہے اور ان کا مشورہ صائب ہے کہ جب فوج بطور ادارہ سیاست سے عملی علیحدگی کااعلان کرکے اس پر عمل پیرا ہوچکی ہے تو اب یہ سیاستدانوں کا فرض ہے کہ وہ بھی باہم بچوں کی طرح لڑائی اور ضد وانا پرستی کا مظاہرہ کرنا چھوڑ دیں اور سنجیدہ سیاست کی طرف رجوع کریں۔ملکی معیشت اور معاشی حالات سیاسی تصادم کے متحمل نہیں ہوسکتے مہنگائی چالیس سال کی بلند ترین سطح پر ہے اس کی دیگر وجوہات سے قطع نظر سب سے بڑی وجہ داخلی حالات ہی کاعمل دخل زیادہ ہے۔ سیاسی صورتحال اس قسم کی نہ ہوتی اور ملک میں اتفاق و ہم آہنگی کا ماحول ہوتا پارلیمان اور حکومتی ادارے مضبوطی اور فعالیت سے اپنا کام کر رہے ہوتے تو ان مسائل و مشکلات سے نکلنے کی صورت نکل سکتی تھی بلکہ حالات کم از کم اس نہج تک تو نہ آتے ۔ صدر عارف علوی اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی بار بار کی ملاقاتوں او روابط سے امید کی جاسکتی ہے کہ ہر دو شخصیات کی نشست محض بیٹھک کی حد تک نہ رہی ہو گی بلکہ اس کے کچھ اچھے اثرات بھی قوم کے سامنے آئیں گے ۔ یہ امردشوار اور مشکل اس لئے ضرور ہے کہ ہر دو جانب مذاکراتی ماحول پیدا کرنے کے مخالفین بلکہ بااثر مخالفین موجود ہیں لیکن مصلحت اس امر کی متقاضی ہے کہ ہم قومی سطح پر جن یکے بعد دیگرے بحرانوں کاشکار چلے آرہے ہیںاور آراء کے جس اختلاف کے باعث سیاسی تلخیوں میں جو ریکارڈ اضافہ ہوتا آیا ہے اب ان تلخیوں کوسیاسی روابط کے ذریعے دور کرنے کی سعی کی جائے ان حالات میں مفاہمت کاراستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے وقت کی پکار ہے کہ سیاسی جمود کو توڑ کرمسائل سے نکلنے کا عزم کیا جانا چاہئے ۔

مزید دیکھیں :   اساتذہ کبھی خوش نہیں ہوتے