موسمیاتی تبدیلی بڑا چیلنج

موسمیاتی تبدیلی،آبادی میں اضافہ اور غذائی تحفظ بڑاچیلنج بن گیا

ویب ڈیسک :تیزی سے آبادی میں اضافے اور موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کے باعث پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کیلئے غذائی تحفظ ایک چیلنج بن کر ابھرا ہے، خیبرپختونخوا میں پن بجلی کی صلاحیت کا استعمال اور ملک کی برآمدات میں اضافے، لوگوں کی بڑھتی ہوئی خوراک کی ضروریات کو پورا کرنے اور تمام صنعتی یونٹس کی پیداوار کو بڑھانے کیلئے مراعات پر مبنی نظام کو اپنانا ہوگا، ان خیالات کا اظہار مختلف ماہرین نے نیشنل پروڈکٹیوٹی آرگنائزیشن (این پی او) وزارت صنعت و پیداوار اسلام آباد کے زیر اہتمام ایشین پروڈکٹیوٹی آرگنائزیشن (اے پی او) ٹوکیو (جاپان) کے تعاون سے منصوبے کے بہترین طریقوں کو شیئر کرنے کے حوالے سے منعقدہ ایک روزہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا
کانفرنس میں جنرل منیجر این پی او وجیہہ احمد عباسی، اے پی او جاپانی ماہر ہدیکے ازاکی، سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر اعجاز آفریدی، منیجنگ ڈائریکٹر گرین ہائیڈرو انجینئرنگ نور علی رحمان، ایم ڈی مختار انجینئرنگ سروسز اسد اللہ خان اور دیگر نے بھی خطاب کیا، وجیہہ احمد عباسی نے اہم اقتصادی عشاریئے اور پاکستان اور ایشیائی ممالک کی مجموعی جی ڈی پی کے اعداد و شمار بھی شیئر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پاس تمام قدرتی وسائل ہیں جن میں ہائیڈرو پاور کی صلاحیت بھی شامل ہے تاہم اگر اسے صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے تو معاشی عجائبات سامنے آسکتے ہیں
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے معدنی اور ماربل وسائل کی تلاش کے علاوہ گلگت بلتستان میں کاٹیج انڈسٹریز کو فروغ دے کر خاطر خواہ ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہے، سرحد چیمبر کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر اعجاز خان آفریدی نے کہا کہ توانائی کی کمی خیبرپختونخوا کی صنعتوں کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے، خیبرپختونخوامیں 30,000میگاواٹ ہائیڈرو پوٹینشل موجود ہے اور ممکنہ مقامات پر پانی کے نئے ذخائر کی تعمیر جس کیلئے بھاری سرمایہ کاری درکار ہے گھریلو، زراعت اور صنعتی صارفین کو سستی بجلی پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہو گی، بعد ازاں سوال و جواب کا سیشن ہوا اور جاپانیوں اور دیگر ماہرین میں شیلڈز تقسیم کی گئیں۔

مزید پڑھیں:  بنوں واقعہ پر آئی جی پی اور چیف سیکریٹری کی فوری برطرفی کا مطالبہ