قرآن کریم کی سب سے بڑی آیت

قرآن کریم کی سب سے بڑی آیت

معاملات کی دین میں کیا اہمیت ہے؟ قرآن کریم کی سب سے بڑی آیت کس چیز کے متعلق ہے؟ سب سے بڑاگناہ کون سا ہے؟ شرک ہے۔ سب سے بڑی حقیقت کیا ہے؟ توحید ہے، تو قرآن کریم کی سب سے بڑی آیت توحید و شرک کے بارہ میں ہونی چاہئے،لیکن دیکھئے پورے قرآن مجید میں سب سے بڑی آیت نہ توحید کے بارہ میں ہے نہ شرک کے بارہ میں ہے اور نہ ہی حج کے بارہ میں ہے۔ سب سے بڑی آیت کس موضوع پر ہے؟ سب سے لمبی آیت لین دین معاملات اور ان کو لکھ لینے کے بارہ میں ہے۔ کتنے لوگ لین دین کر کے رکھ لیتے ہیں،کتنے لوگ لین دین خاموشی سے کر لیتے ہیںاور نہ کسی کو گواہ بناتے ہیں نہ کسی کو بتاتے ہیں۔ اسی حالت میں وفات ہو گئی اور کسی کا حق ذمہ میں رہ گیا تو کیا نماز جنازہ ہو جائے گی؟ سب سے بڑی آیت لین دین کے متعلق ہے کہ جب لین دین کرو۔ قرضہ لو یا دو تو اس کو لکھ لو۔اور گواہ بھی بنا لو۔
جب ہم اس آیت پر عمل نہیں کرتے تو آئندہ چل کر جھگڑا ہو جاتا ہے رشتہ داری ختم ہو جاتی ہے دشمنیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔
قرآنی حکم ہے کہ لین دین کا معاملہ لکھ لو۔ ہم اس پر کتنا عمل کرتے ہیں ارے دوستی میں کیا حساب کتاب کیا لکھنا۔کیا ہم بھائی چارہ میں لکھیں گے، ماموں بھانجا کا معاملہ ہوا اگر کسی سے معاملہ کرنا ہے رقم لینی ہے تو کسی کو گواہ بنا کر معاملہ کیجئے کہ خدانخواستہ دنیا سے چلے جائیں تو پتہ تو ہو تاکہ ادائیگی کے لئے کوئی تو کھڑا ہو جائے گا۔ ہم اور آپ اس قرآنی حکم پر عمل نہیں کرتے۔
قرضہ کا لین دین کا معاملہ ہو تو اس کو لکھ لینا چاہئے کہ کیا اس صورت میں نماز جنازہ ہو سکتی ہے۔ سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک جنازہ لایا گیا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا اس پر قرض تو نہیں؟ یہ نہیں پوچھا کہ یہ نمازی ہے، روزہ دار ہے حاجی یا غازی ہے عرض کیا گیاکہ اس پر کسی کا قرض نہیں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی۔
ایک اور جنازہ لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا اس پر کوئی قرض ہے؟ کچھ لوگوں نے کہا جی ہاں اس پر قرضہ ہے۔ اس سے پتہ چلا کہ ہم جب یعنی قرضہ کا یا کوئی معاملہ لین دین کا کریں تو لکھ کر گواہ بھی بنا لیں تاکہ وہ بوقت ضرورت گواہی دے سکیں اور مرنے کے بعد گواہی دے سکیں کہ اس پر قرضہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جائو تم اپنے بھائی پر جنازہ کی نماز پڑھ لو میں اس میں شامل نہیں ہوتا۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول اس آدمی کا قرض میں چکائوں گا۔ اس کے بعد حضورۖ نے نماز جنازہ ادا فرمائی۔
آج کل لوگ قرضہ بھی نہیں دیتے لوگوں کی اتنی آمدن ہی نہیں کہ وہ قرضہ چکا پائیں۔ قرضہ اسی کو ملتا ہے جس کے پاس پیسے ہوں۔ غریب آدمی کو کون قرضہ دیتا ہے۔اگر کوئی مقروض واقعی ادا نہیں کر سکتا تو اس کو مہلت دیجئے کتنے لوگ مہلت ہی نہیں دیتے۔ دین کی سادہ فطری زندگی اپنائیے اپنی ضروریات و خواہشات کو وسائل تک رکھنے کی کوشش کیجئے کہ قرض اٹھانے کی نوبت ہی نہ آئے۔ (کامیاب تاجر)

مزید دیکھیں :   وزیراعظم شہباز شریف کی آئی ایم ایف وفد کو اہداف پر عملدرآمد کی یقین دہانی