ہرگھنٹے بعدنئی قیمتیں،روٹی کہیں30کہیں40 کی

ویب ڈیسک :خیبر پختونخوا میں اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ کی نئی روایت پروان چڑھ رہی ہے ماضی میں مہینے بعد یا پھر ششماہی بنیادوں پر قیمتوں میں اضافہ کیاجاتا تھا تاہم اب ہرگزرتے لمحے کے ساتھ قیمتوں میں اضافہ کیاجارہا ہے جس نے عوام کو دوہری پریشانی میں مبتلا کردیا ہے اوراس ساری صورتحال میں حکومت حیران کن طورپرخاموشی اختیارکئے ہوئے ہے۔ پشاور سمیت صوبہ بھر میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران روزانہ مرغی کی فی کلو قیمت میں اضافہ ہورہا ہے ۔
ماضی میں پشاور میں مرغی کی سب سے زیادہ قیمت فی کلو 330روپے ریکارڈ کی گئی تھی جو اب 410روپے ہوگئی ہے اس کے ساتھ ساتھ پشاور میں سب سے مہنگی روٹی 130گرام 20روپے کی میسر تھی تاہم اب پشاور میں 140گرام روٹی کی قیمت 30روپے کردی گئی ہے جبکہ 200گرام روٹی 40روپے میں فروخت کی جارہی ہے۔ اسی طرح آٹے کی قیمت کو دیکھا جائے تو اس میں بھی استحکام نہیں ہے صبح مارکیٹ میں آٹے کا 20کلو سپر فائن تھیلا 2ہزار 850کا میسر ہو تو عصر تک اس کی قیمت میں دو سے تین سو روپے اضافہ ہوگیا۔ قیمتوں میں غیر یقینی اور غیر متوقع اضافہ نے شہریوں کو شدید مشکلات سے دوچار کردیا ہے،شہری سراپااحتجاج ہیں کہ آخر ایسی کیاقیامت آگئی تھی کہ چند روز کے دوران ہی آٹے کی قیمتوں میں800روپے تک اضافہ کردیاگیاہے۔
سبزیوں اور پھلوں کے نرخ بھی صبح اور شام الگ الگ ہوتے ہیں ضلعی انتظامیہ کے ملازمین چند ایک مقامات پر چھاپے مارتے ہیں اور نرخ کا جائزہ لیتے ہیں شام ڈھلتے ہی ریڑھی بانوں کی مرضی ہوتی ہے اور وہ من مانے نرخ پر پھل اور سبزیوں کی فروخت کرتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کی ضلعی انتظامیہ اس حوالے سے پرائس کنٹرول کمیٹی کو فعال نہیں کررہی جس کے باعث قیمتیں مارکیٹ کے رحم و کرم پر ہیں۔ دوسری طرف نانبائی بھی روٹی کی قیمت میں خودساختہ طورپرکیاگیااضافہ نوٹیفائی نہ کرنے پرہڑتال کی دھمکی دے رہے ہیں۔

مزید دیکھیں :   وفاق کی الیکشن کمیشن کو انتخابات کیلئے اضافی گرانٹ دینے سے معذرت