پاکستان کو درپیش کثیرالجہتی بحران

جب ہم ایک طویل و دھندلی نیند سے بیدار ہوتے ہیں اور ایک صدی کے تین چوتھائی عرصے کے بعد اپنا جائزہ لیتے ہیں، تو ہم خود کو ایسے کئی طرح کے بحرانوں میں گھرا ہوا پاتے ہیں جو آج ہمارے وجود کو خطرے میں ڈال رہے ہیں، آج پاکستان کا بحران، جو حقیقی طور پر باہم منسلک بحران (پولی کرائسس) ہے، دھاگے کے الجھے ہوئے گچھے کی طرح نظر آتا ہے اور ہمیں یہ معلوم کرنا ہے کہ اسے سلجھانے کے لیے کون سا دھاگہ کھینچنا ہے، جب کہ بحران کا وسط ہماری ریاست کا بنیادی ڈھانچہ ( قومی سلامتی کی صورتحال) ہے، اندرون ملک اپنائی جانے والی اقتصادی، سماجی اور ثقافتی پالیسیاں اور اندرون ملک پالیسیوں کو مضبوط کرنے کے لیے بیرون ملک چلائی جانے والی خارجہ پالیسی کثیرالجہتی بحران ، اس کا سرچشمہ دکھائی دیتی ہیں، جس کا ہمیں آج سامنا ہے، ان پالیسیوں کے نتیجے میں ہم نظم و نسق، اقتصادی، سیاسی، سکیورٹی اور ثقافتی تباہی کے دہانے تک پہنچے ہیں بلکہ آج ہم ایک ناکام ریاست کے کنارے کھڑے ہیں۔
دراصل بعداز نوآبادیاتی ریاست کے ارتقاء کے دوران متعدد تجربات، سول بیوروکریسی پر ملٹری بیوروکریسی کے غلبے، براہ راست مارشل لا کا نفاذ، مختصر سویلین بالادستی، 1990 کی دہائی کا ٹرائیکا برانڈ ہائبرڈ ماڈل، 2008 ء سے 2018 ء تک کے نئے ہائبرڈ ورژن اور پھر 2018ء سے 2022 ء کے اپنائے گئے ہائبرڈ کے بھی ہائبرڈ ورژن نے بنیادی طور پر ان باہم منسلک بحرانوں کو پیدا کیا ہے، یہ درست ہے کہ معاشی دیوالیہ کا خطرہ آج ہمارے سر پر منڈلا رہا ہے، ہم یہاں تک موجودہ حکومت کی آٹھ ماہ یا پچھلے چار سال کی پالیسیوں یا عمران خان کی ہائبرڈ حکومت کی ہائبرڈ پالیسیوں کی وجہ سے نہیں پہنچے بلکہ یہ نوبت ان تمام ماڈلز کی کئی، کئی دہائیوں کی اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے ہیں جو رائج رہیں۔ ہوسکتا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام میں دوبارہ بحال ہو جائے اور ہم دوست ممالک سے بیل آؤٹ اور چند مزید قرضے حاصل کرلیں لیکن اگر ماضی کی معاشی پالیسیوں کو جاری رکھا گیا تو ہم ایک ایسی بے یار و مددگار قوم بن جائیں گے جس کا کوئی مستقبل نہیں ہو گا۔
بلاشبہ موجودہ اتحادی قیادت کے سامنے ایک گھمبیر چیلنج ہے ، دیکھا جائے تو ہمارا ٹیکس کا موجودہ نظام انتہائی غیر مؤثر ہے، دراصل یہ نظام چوروں کو بچاتا ہے اور ٹیکس ادا کرنے والوں کو سزا دیتا ہے، یہ نظام پائیدار نہیں بلکہ معاشی تباہی لا رہا ہے، یہ بھی ضروری ہے کہ ملک کو جغرافیائی حکمت عملی سے جیو اکنامک ویژن کی طرف جانا چاہیے، علاقائی تجارت اور بہتر اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ کچھ معاملات کو حل کرنا چاہیے اور بعض کو پس پشت ڈالنا چاہیے، سیاسی طبقے اور اسٹیبلشمنٹ کو ملک کے لیے معاشی لائحہ عمل پر اتفاق کرنا چاہیے ، کھیل کے اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے سیاسی انجینئرنگ کو خیرآباد کہنا چاہیے اور سیاسی استحکام کو یقینی بنانا چاہیے، اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو جلد یا بدیر ایک ناکام ریاست ثابت ہو جائیں گے، پھر متعدد نسلی، مذہبی، سماجی اور طبقاتی فالٹ لائنوں کے ساتھ ایک جوہری ہتھیاروں سے لیس ناکام ریاست یوگوسلاویہ، عراق، لیبیا اور روانڈا سے زیادہ تباہ کن ہو گی۔
اس وقت قبل از وقت، بروقت یا تاخیر سے انتخابات کے انعقاد سے زیادہ، مستقبل کے لیے اقتصادی، سیاسی اور خارجہ پالیسی پر قومی اتفاق رائے ضروری ہے، عمران خان کی گزشتہ سال اپریل میں اقتدار سے برطرفی کے بعد سے ان کی انتشار پسندانہ پالیسیوں اور اقدامات سے قطع نظر، اگر مستقبل کے حوالے سے اہم سیاسی معالات پر اتفاق رائے نہ ہو ا تو کوئی سیاسی استحکام حاصل نہیں ہو گا اور اس اتفاق رائے کے بغیر ہونے والے انتخابات بھی مزید بحران باعث بنیں گے۔
بحرانوں پر قابو پانے اور جدوجہد کرنے والی قوموں کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ وہ صرف اس لیے کامیاب ہوئیں کہ ان کی قیادت نے ذمہ داری لی اور مشکل اور سنجیدہ وقت میں سخت اور سنجیدہ فیصلے کئے، صحت اور تعلیم کے نظام میں سرمایہ کاری کئے بغیر اور ٹوٹ پھوٹ کے شکار سیاسی نظام کے ساتھ نہ تو بائیس کروڑ عوام کو بہتر معیار زندگی فراہم، انہیں تعلیم یافتہ، ہنرمند، اقوام کی برادری سے مقابلے کا اہل نہیں بنایا جا سکتا، مراعات یافتہ طاقتور اشرافیہ کے لیے دولت کے چھوٹے جزیرے اور غربت کے وسیع سمندر ہمیشہ کے لیے ایک ساتھ نہیں رہ سکتے،ایک صدی کے تین چوتھائی سالوں سے حکمران طبقے نے اس ملک کے عوام اور ان کے نسلی، لسانی اور ثقافتی تنوع کو محض اپنے مفادات کے لئے برؤے کار لایا، اس تنوع اور مواقع کا اثاثے کے طور پر ادراک ہی ہمیں بحرانوں سے نجات دلا سکتا ہے۔ (بشکریہ، دی نیوز، ترجمہ: راشد عباسی)

مزید دیکھیں :   ''حیات شیرپاؤ۔۔سیاست سے شہادت تک''