لائن کٹ سکتی ہے

وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ انہیں اس بات کا علم ہی نہیں تھا کہ معیشت کی حالت اس قدر خراب ہے۔ اس سے پہلے محترم عمران خان بھی اپنی ساڑھے تین سال دور حکومت میں یہی فرماتے رہے تھے کہ حکومت میں آ کر پتہ چلا کہ سابقہ سیاسی حکمرانوں نے کس حد تک معیشت کا جنازہ نکال دیا ہے۔ گویا یہ دونوں صاحبان اس دوران افریقہ کے جنگلوں میں تبلیغی دوروں پر تھے اور ان کو قومی مسائل کا پتہ ہی نہیں تھا۔
واقفان حال کا کہنا ہے کہ یہ دونوں صحیح کہہ رہے ہیں۔ کیونکہ دونوں میں سے کسی کو بھی یہ توفیق نہیں ہوئی کہ ملک کی تاریخ، جغرافیہ، سکیورٹی، معاشی، معاشرتی مسائل، دور رس مفادات اور دوستوں، دشمنوں کے بارے میں پوری جانکاری لے کر ایک منشور بنا سکیں اور اس منشور کو لے کر عوام کے پاس جا سکیں۔ ملک کے دوسرے اکثر سیاستدانوں کا بھی یہی المیہ ہے۔ کہ وہ صرف مذہب ، قومیت، فرقے کا نام استعمال کرکے ووٹرز کو بے وقوف بنانا جانتے ہیں۔ یا ووٹوں کی خرید و فروخت کے کاروبار کو تو جانتے ہیں لیکن اقتدار ملنے کے بعد کیا لائحہ عمل ہوگا ان کو اس کا کک بھی پتہ نہیں ہوتا۔ نتیجتاً بیوروکریسی ان کو اپنے اشاروں پر نچاتی رہتی ہے اور یہ اپنے حلقے کے نااہل ووٹروں کو بھرتی کرنے اور ٹھیکوں میں اپنا کمیشن لینے تک محدود ہوجاتے ہیں۔ کاش کئی دوسرے ممالک کی طرح ہمارے ہاں بھی سیاست میں آنے والوں کی عملی تربیت کیلئے تین تا چھ ماہ دورانیے کا ایک لازمی کورس ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ بھٹو مرحوم کے بعد نرسریوں میں اگنے والی نئی سیاسی قیادت لکھنے پڑھنے کی قائل ہی نہیں۔کہاں بھٹو جیسی عالمی شخصیت جو شاطر بیوروکریسی کی طرف سے اپنے سامنے رکھے جانے والی فائلوں کی ایسی تیسی پھیر دیتی تھی اور آدھی رات تک فائلوں پر ایسے ریمارکس لکھ دیتے تھے کہ بیوروکریسی حیران رہ جاتی کہ یہ بندہ انسان ہے یا جن۔ کک بیکس اور کرپشن کا تو کوئی سوال ہی نہیں تھا۔ بھٹو مرحوم نے اپنی کابینہ میں بھی قابل ترین اور انتہائی ایماندار لوگ شامل کئے تھے۔ نوازشریف جنرل جیلانی کی دریافت تھے۔ سنئیر صحافی اور دانشور ہارون الرشید کے یوٹیوب پر موجود انٹرویو کے مطابق نوازشریف نے اپنا بی اے کا امتحان پاس کرنے کیلئے اپنی جگہ کسی اور کو بٹھا دیا تھا۔ ن لیگ کی طرف سے اس الزام کی کوئی تردید نہیں آئی۔ بہر حال جنرل صاحب کی نگرانی میں تقریرکا فن سیکھ کر پنجاب کے وزیر خزانہ بنا دیئے گئے۔ بعد کی تاریخ کا سب کو پتہ ہے کہ کس طرح نوازشریف اتنے طاقتور ہوگئے کہ اپنے مالکوں کو آنکھیں دکھانے لگے۔ نتیجہ وہی نکلنا تھا جو نکلا۔ نوازشریف پہلے قید وبند اور پھر جلاوطنی کی صعوبتیں برداشت کرنے پر مجبور ہوگئے۔ اور بعد میں جی ٹی روڈ پر آخری کشتیاں جلانے کے بعد ان کے پاس اور کوئی چارہ نہیں رہا کہ پرانی تنخواہ پر کام کرنے پر آمادہ ہوں۔ پیشگی انعام کے طور پر ان کے بھائی شہبازشریف وزیراعظم بنا دئیے گئے۔ جنہوں نے آتے ہی اپنے بیٹے حمزہ شریف کو ملک کے سب سے بڑے صوبے کا وزیر اعلیٰ بنا دیا۔ گویا ن لیگ میں موجود قابل ترین لوگ اس عہدے کے اہل نہیں تھے۔ یہ بے چارے سارے مزارع تھے۔
عمران خان کی پالیسیاں غلط تھیں یا صحیح اس پر ہر ایک کی اپنی اپنی رائے ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس سے وابستہ توقعات پوری نہیں ہوئیں۔ اس نے اپنے ارد گرد ن لیگ اور پی پی پی کے بدنام زمانہ لوگوں کو جمع کیا۔ جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکن کونوں کھدروں میں چلے گئے۔ بہرحال اپنی ناتجربہ کاری اور ناکامی تسلیم کرنے کی بجائے عمران خان ہئیت مقتدرہ کو گالیاں دے رہے ہیں اور گولیاں کھا کر بھی دھاڑنے سے باز نہیں آ رہے۔
نتیجتاً ہئیت مقتدرہ اب اس کوئلوں کی دلالی سے توبہ تائب ہو کر نالائقوں کو آپس میں لڑنے اور ایکدوسرے کا سر پھاڑنے کی مکمل چھٹی دینے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ لیکن مخمصہ یہ ہے کہ ملک کی معاشی حالت اس قدر خراب ہے کہ ملک کو ان نالائق بچوں کے رحم و کرم پر چھوڑا بھی نہیں جاسکتا اور ڈیفالٹ کا خطرہ صرف دنوں کی مسافت پر ہے اس لئے طاقتور حلقے ملک کی سکیورٹی کے فریضے کے ساتھ ساتھ معاشی بقا کی فکر بھی کرنے لگے ہیں۔ شاید یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ آرمی چیف ذاتی اثر ورسوخ سے دوست ممالک سے ساڑھے تیرہ ارب ڈالر کھینچ لائے ہیں اور نئے آرمی چیف باقی سارے کام ایک طرف کرکے سعودیہ اور امارات کو مدد پر راضی کرنے کیلئے ان ممالک کے دورے پر ہیں۔ لیکن کچھ سیانے کہنے لگے ہیں کہ اگر طاقتور حلقوں نے یہ محسوس کر لیا کہ ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے ساتھ ساتھ اگر معاشی ذمہ داری بھی ہم نے ہی سنبھالنی ہے اور کچن کے خرچے کا بندوبست بھی ہم نے ہی کرنا ہے تو پھر ان ماسیوں کی کیا ضرورت ؟ خود ہی کیوں نہ سب کچھ اپنے ہاتھ میں لے کر ایک جامع منصوبہ بندی کا آغاز کریں۔ اعتراض کس کو ہوگا۔ عوام کو ؟ بالکل نہیں۔ عوام کو سمجھ آ گئی ہے کہ جمہوریت کروڑ پتیوں اور ارب پتیوں کا کھیل ہے۔ جمہوریت لپیٹے جانے کا سب سے بڑا ملال ہم جیسے سب کے خیر خواہوں کو ہوگا کہ یہ عقل سے عاری سیاسی لیڈر جمہوری اقدار، تحمل و برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپس میں بیٹھ کر معاملات چٹکیوں میں حل کرا سکتے تھے۔ ایک نئے میثاق معیشت اور میثاق اخلاقیات پر اتفاق رائے کوئی مشکل کام نہ تھا۔ نئے انتخابات کی تاریخوں پر بھی کچھ لو، کچھ دو کرکے اتفاق رائے ممکن تھا۔ کچھ عرصے کیلئے دل بڑا کرکے اقربا پروری، بد عنوانی اور فضول خرچی سے پرہیز بھی ممکن تھا لیکن یہ ضد اور انا کی سولیوں پر لٹکے رہے اور اس دوران لائن کٹ گئی۔ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ بازی کوئی اور لے گیا۔ خسارے میں صرف پاکستان رہا۔ کیا صرف خسارہ ؟ اب تو بقاء کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔

مزید دیکھیں :   ترکیہ کا تباہ کن زلزلہ اورہم