فیک کالزاورشرپسندی سے نمٹنے کامیکنزم موجودہے،ڈی جی1122

ویب ڈیسک :ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 ڈاکٹر خطیر احمد نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت بالخصوص وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے ریسکیو1122 سروس کا دائرہ کار صوبے کے تمام اضلاع تک پھیلا دیا ہے،ادارے کے پاس فیک کالز اورممکنہ شرپسندی سے نمٹنے کیلئے جامع میکنزم موجود ہے۔روزنامہ مشرق اور مشرق ٹی وی کے دورے کے موقع پر ڈاکٹر خطیر احمدکا کہنا تھا کہ ریسکیو1122 نے اپنے قیام سے اب تک 8 لاکھ 28 ہزار سے زائد ایمرجنسیز میں خدمات فراہم کیں جبکہ ریفرل ہیلتھ ایمبولینس کے تحت ریسکیو 1122 نے 1 لاکھ 23 ہزار سے افراد کو ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال مفت منتقل کیا ۔ ڈاکٹر خطیر احمد نے صوبے میں اپنی خدمات کے حوالے سے بتایا کہ ریسکیو 1122 صوبے کے نئے ضم شدہ اضلاع سمیت تمام اضلاع میں عوام کو خدمات فراہم کر رہا ہے
کسی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کیلئے عملہ اور سامان ہر وقت تیار رہتا ہے ، ہماری ایمبولینسز چترال اور وزیرستان سے پشاور تک خدمات مفت فراہم کرتی ہیں، ریسکیو ٹیموں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہماری ٹیمیں خصوصی تربیت یافتہ ہیں ، اس لیے جب سیلابی صورتحال ہوتی ہے تو ہماری غوطہ خور ٹیمیں اور کشتیاں موقع پر پہنچتی ہیں، جدید گاڑیوں کے ساتھ تربیت یافتہ عملے کی خدمات عوام کو اب آن لائن بھی دستیاب ہیں بلکہ عوام اب آن لائن ٹیکسی سروس کی ایپ سے بھی ریسکیو 1122کی ایمبولینس منگوا سکتے ہیں، ڈاکٹر خطیر احمد کے مطابق گزشتہ سال سیلابی صورتحال کے دوران غوطہ خور ٹیموں نے کشتیوں کی مدد سے مویشیوں اور سامان سمیت پانچ ہزار سے زیادہ افراد کو ریسکیو کر کے محفوظ مقامات تک پہنچایا ، اس کے علاوہ ڈی آئی خان ٹانک او جنوبی اضلاع میں بھی سیلابی صورتحال کے دوران ریسکیو1122 نے تیز ترین کام کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پہاڑی علاقوں میں جہاں برف باری ہوتی ہے وہاں پر ریسکیو1122 کی خصوصی مشینری اور اضافی عملہ تعینات کیا جاتا ہے تاکہ بہترین تربیت یافتہ عملہ بروقت عوام کی خدمت کر سکے
انہوں نے کہا کہ کچھ اضلاع میں 1122کیلئے ابھی ریسکیو سٹیشنز بنائے جا رہے ہیں جبکہ صوبے کے 80 فیصد اضلاع میں عمارتیں اور عملہ گاڑیوں سمیت موجود ہوتا ہے ، ڈاکٹر خطیر احمد کے مطابق نئے ضم قبائلی اضلاع میں بھی 1122 پوری طرح متحرک ہے اور ہر جگہ مدد کیلئے سب سے پہلے موجود ہوتا ہے ، پنجاب کے ریسکیو 1122 کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے حالات اور چیلنجز مختلف ہیں ، اگر خیبر پختونخوا کے حالات کا موازنہ پنجاب سے کیا جائے تو ان کے مقابلے میں خیبر پختونخوا کے ریسکیو1122 کی کارکردگی بہتر ہے کیونکہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پنجاب سے خراب ہے اور اس صوبے میں پہاڑی سلسلے اور دشوار گزار علاقے بھی زیادہ ہیں مگر پھر بھی کسی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں ہم سب سے پہلے خدمات کیلئے حاضر ہوتے ہیں
اسی طرح اگر دیکھا جائے تو پنجاب میں بھی اب 1122 تحصیل کی سطح پر خدمات دینے جا رہا ہے اور ہم بھی اپنی سروس کو تحصیل کی سطح تک بڑھا رہے ہیں جس کی باقاعدہ منظوری صوبائی حکومت نے دیدی ہے ، ڈاکٹر خطیر احمد کے مطابق ریسکیو1122 دیگر اداروں کے ساتھ مل کر بھی کام کرتا ہے، اس سلسلے میں ہمارا ایک اہلکار فوج اور ایک اہلکار پولیس کے کنٹرول روم میں موجود ہوتا ہے جو ہنگامی صورتحال کے دوران اداروں کے مابین رابطے کا کردار ادا کرتا ہے ، اکثر اوقات مختلف آپریشنز اورڈکیتی وغیرہ کی کال آتی ہے تو اس کو ہیڈکوارٹر سے ہی پولیس یا فوج کو منتقل کیا جا سکتا ہے ۔

مزید دیکھیں :   انتخابات کے دوران دہشتگردی کا امکان رد نہیں کیا جاسکتا، آئی جی پولیس