بچوں میں جرائم کی شرح سنگین،2022کے دوران 329بچے گرفتار

ویب ڈیسک :خیبر پختونخوا میں قوانین کے نفاذ کیلئے قواعد نہ بننے کی وجہ سے نابالغ بچوں میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ سال 2022ء کے دوران خیبر پختونخوا میں مختلف جرائم کے ارتکاب کے الزام میں کُل329بچے گرفتار کیے گئے۔ ان میں سے 265 بچوں پر قتل، اقدام قتل، ریپ، چوری، راہزنی اور دیگر سنگین جرائم کے الزامات تھے۔ صوبے کا باقاعدہ حصہ بنائے جا چکے سابقہ قبائلی علاقوں میں تو صورت حال کہیں بد تر ہے۔ان نئے اضلاع میں پانچ سے دس سال تک کی عمر کے 70 فیصد سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔
ایک غیر سرکاری تنظیم کے مطابق تو صوبے میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد 7.4 ملین بنتی ہے۔صوبائی پولیس کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل محمد علی باباخیل کہتے ہیں، ”خیبر پختونخوا ملک کا ایسا پہلا صوبہ ہے، جس نے پولیس ایکٹ 2017ء کے نام سے قانون بنایا، جس میں خواتین اور بچوں کے تحفظ کے حوالے سے بھی شقیں موجود ہیں۔
خیبر پختونخوا پولیس نے بچوں کو تشدد کا نشانہ بنانے والوں سے چھان بین کا ایک باقاعدہ طریقہ کار وضع کر رکھا ہے۔تاہم اے آئی جی باباخیل نے مزید کہا، پاکستان شاید سب سے زیادہ قانون سازی کرنے والا ملک ہے۔ لیکن قانون ساز قوانین بنانے کے بعد مڑ کر پیچھے بھی نہیں دیکھتے۔ نہ تو قانون بنانے سے قبل ہوم ورک کیا جاتا ہے اور نہ ہی قانون سازی کے بعد اس کے عملی نفاذ کو یقینی بنانے یا اس کے نتائج کا تجزیہ کرنے کے لیے کوئی نظام موجود ہے۔بالخصوص سائبر کرائمز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔خیبر پختونخوا کی اسمبلی نے کچھ عرصہ قبل فری ایجوکیشن، مفت بستے، فری لیگل ایڈ اور صحت مند بچوں کی پیدائش کے حوالے سے شادی سے قبل مردوں اور عورتوں کے تھیلیسیمیا ٹیسٹ کرائے جانے کا قانون بھی بنایا تھا، لیکن آج تک اس قانون پر عمل درآمد کے لیے بھی کوئی قواعد و ضوابط طے نہیں کیے جا سکے۔
پشاور میں صوبائی حکومت نے 2010ء میں چائلڈ پروٹیکشن کا قانون منظور کروایا تھا تاہم اس کے لیے قواعد و ضوابط پانچ سال بعد متعارف کرائے گئے۔ چائلڈ پروٹیکشن خیبر پختونخوا کے سربراہ اعجاز محمد خان کے مطابق ”ہم دیہی اور شہری علاقوں میں ایک ہزار سے زیادہ کمیٹیاں بنا چکے ہیں، جن کا کام بچوں کے استحصال کے خلاف آگاہی پھیلانا بھی ہے اور بچوں کے تحفظ کے منافی واقعات کی مرکز کو اطلاع دینا بھی۔’اعجاز محمد خان نے بتایا، ”ہم اب تک تقریباََچار ہزار بچوں کے خلاف کیس حل کرا چکے ہیں۔
چائلڈ میرج کے متعدد واقعات میں بھی ہم مداخلت کر کے ایسے واقعات کو روکنے میں کامیاب رہے۔ لیکن ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ متعلقہ قانون میں اب بھی سقم موجود ہیں، جن کے باعث پولیس ایسے ہر واقعے میں مداخلت نہیں کر سکتی۔پاکستان میں اس وقت بچوں کے خلاف مقدمات کی سماعت کرنے والی عدالتوں میں سے آٹھ خیبر پختونخوا میں ہیں۔

مزید دیکھیں :   پولیس لائنز پر حملہ پاکستان پر حملے سے کم نہیں، شہبازشریف