صوبہ میں مہنگائی کا جن بے قابوہوگیا،ضلعی انتظامیہ بے بس

ویب ڈیسک :خیبر پختونخوا کی بیوروکریسی صوبے میں جاری گرانفروشی کی روک تھام میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے ڈپٹی کمشنر کو 24انتظامی محکموں کا اختیار دینے سے صوبائی حکومت کیلئے مسائل کھڑے ہوگئے ہیں اور ضلعی انتظامیہ قیمتوں کے کنٹرول میں بے بس دکھائی دے رہی ہے صوبائی حکومت کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز اور ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنرز کو 24انتظامی محکموں کا اختیار دیا گیا ہے اس کے ساتھ ساتھ ضلع میں تمام ترقیاتی امور کی نگرانی اور مالی اختیارات بھی ضلعی انتظامیہ کو حاصل ہیں جبکہ اضلاع کی سطح پر ہر اہم فیصلہ سازی میں ڈپٹی کمشنر ہی فیصلہ ساز ہیں ان تمام اختیارات کے باعث ضلعی انتظامیہ اپنی کلیدی ذمہ داری ادا کرنے سے محروم رہ گئی ہے
تمام اضلاع میں اشیاء خوردونوش کی قیمتوں کا تعین اور اس پر عمل درآمد کرانا ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے تاہم تمام اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز سمیت تمام متعلقہ افسران دفاتر میں بیٹھ کر فیصلے کرتے ہیں اور سارا دن اجلاسوں میں ہی گزر جاتا ہے انتظامی افسران چند ایک مقامات پر کروڑوں مالیت کی گاڑی میں سکواڈ کے ساتھ جا کر چھاپہ مار کے فوٹو سیشن کرکے سوشل میڈیا کی زینت بھی بن جاتے ہیں تاہم عملی طور پر صوبے کے کسی بھی ضلع میں قیمتوں کا نہ تعین درست انداز میں کیا جاتا ہے اور نہ ہی اس پر عمل درآمد کیلئے کوئی طریقہ کار موجود ہے
جس کے باعث شہریوں کو بازار کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے ماضی میں مجسٹریٹی نظام کے تحت پورے ضلع میں مہنگائی کنٹرول رہتی تھی تاہم اب ضلعی انتظامیہ صرف دعووں تک ہی محدود ہے چیف سیکرٹری کی سربراہی میں مہنگائی کے حوالے سے ہونیوالے اجلاس میں بھی انہیں بتایا گیا کہ صوبے میں تمام قیمتیں کنٹرول اور آٹا کی قیمت قابو ہے تاہم جس دفتر میں یہ بریفنگ دی گئی وہاں سے چند منٹ کی مسافت پر اشرف روڈ ہے جہاں شہریوں کی قطاریں اس بریفنگ کا منہ چڑا رہی ہے اور افسران سب اچھا کی گردان الاپ رہے ہیں۔

مزید دیکھیں :   کس نے کیا کہا اور اب کرنے کا کام۔۔۔