پاک افغان جنگ تاریخی حماقت

افغانستان کو سلطنتوں کا قبرستان کہا جاتا ہے ۔یہ ایک ایسا بلیک ہول ہے چشم فلک نے جس میں اپنے دور کی تین بڑی طاقتوں کے وسائل اور قوت ودبدبے کے دیوہیکل جہاز ڈوبتے دیکھے ہیں ۔اس میں خطے کے اندورنی جغرافیہ بیرونی محل وقوع اور عوم کی سخت کوشی کا گہرا دخل ہے چونکہ افغانستان چھ ملکوں کے درمیان خشکی میں گھرا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ تعداد گھٹی بڑھتی رہی ہے جیسا کہ سوویت یونین کے دور میں ایک ملک کی سرحد اب تین ملکوں تاجکستان ازبکستان ترکمانستان کی سرحد میں بدل چکی ہے ۔پاکستان چین اور ایران کی تین سرحدیں مستقل رہی ہیں۔ اس لئے کوئی بھی ملک جنگ چھڑتے ہی حالات کی آگ تاپنے یہاں پہنچ جاتا ہے ۔افغانوں کی مزاحمت اور لڑائی جس ملک کے مفاد میں ہوتی ہے وہ اس میں اپنا کردار ادا کرتا ہے تاج برطانیہ کی شکست تو تاریخ کا قصہ ہے مگر سوویت یونین اور امریکہ کی ہزیمت اور اپنے مقاصد حاصل کئے بغیر رخصتی توابھی کل کی بات ہے اورآج بھی دنیا ان واقعات کے مضر اثرات بھگت رہی ہے ۔سوویت یونین کے سوختہ ٹینک اور بگرام ائر بیس کی ارضی جنت میں امریکی سپاہیوں کابکھرا سامان آج بھی ماضی کی داستان کا تسلسل ہے۔ امریکہ نے سوویت یونین کی سولو فلائٹ کی بجائے افغانستان کو نیٹو اور ایساف ملکوں کی پوری بارات کے ساتھ فتح کرنے کی حکمت عملی اپنا ئی مگر یہ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ حالات کی چٹان سے سر ٹکرا کرسارے باراتی ایک ایک کرکے رخصت لیتے رہے یہاں تک نیٹو بھی اس بوجھ اورشوق کو وہیں پٹخ کر چلی گئی اور آخر میں امریکہ یہاں تنہا رہ گیا ۔ تاریخ کا سبق ازبر کرکے جس ملک نے افغانستان میں اپنے فوجی اتارنے سے گریز کا راستہ اختیار کیا وہ بھارت تھا ۔امریکہ نے بہت کوشش کی کہ بھارت اتحادی افواج کی عملی مدد کے لئے اپنی فوج یہاں اُتارے مگر بھارت نے فوجی کردار کے سوا ہر کردار ا دا کرنے پر رضا مند ی ظاہر کی ۔بھارت نے پیسہ بہا کر افغانستان میں اپنا کردار ادا کیا مگر باقاعدہ فوج اُتارنے سے ہمیشہ گریز کیا ۔ کابل کا پرشکوہ پارلیمنٹ ہائوس کی تعمیر ہو یا بڑی سڑکیں اور ڈیم بھارت نے افغانستان میں فوجی موجودگی کے سوا ہر کا م کیا ۔ پاکستا ن اور افغانستان میں حکومتی اور ریاستی سطح پر کشیدگی کے شعلے بلند ہوتے جا رہے ہیں ۔دونوں ملکوں کی حکومتوں کے درمیان بیان بازی ہونے لگی ہے ۔بات بڑھتے بڑھتے افغانستان میں دہشت گردو ں کے خلاف کارروائی کی دھمکیوں اور اس پر لفظی ردعمل تک پہنچ گئی ہے ۔وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ اگر افغانستان سے حملوں کا سلسلہ نہ رکا تو پاکستان افغانستان میں کاروائی کرے گا ۔جس کے جواب میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایسی کسی کوشش کے سنگین نتائج کا انتباہ کیا ہے ۔پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس رپورٹ کی سختی سے تردید کی ہے تاہم کابل حکومت نے اس رپورٹ پر خاموشی اختیار کی ہے ۔اس رپورٹ اور کاروائی کی حقیقت کیا ہے اور اس کے پس پردہ مقاصد کیا ہیں یہ آنے والے دنوں میں واضح ہوجائے گا ۔اگر یہ کاروائی طالبان حکومت کی رضامندی سے حکومت پاکستان نے کی ہے تو اس کا مطلب اور مفہوم کچھ اور ہے اگر یہ کاروائی طالبان حکومت کو نظر انداز کرکے امریکہ کی طرف سے یا امریکہ کے کہنے پر ہوئی ہے تو اس کا مطلب بھی کچھ اور ہے اور اس کے نتائج بھی قطعی مختلف ہوسکتے ہیں ۔یہ معمہ طالبان کی حکومت ہی حل کر سکتی ہے ۔ افغانستان میں ایسے عناصر موجود ہیں جو طالبان کی رٹ کو چیلنج کئے ہوئے ہیں اور پاکستان کو اپنا نشانہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں ایسے ہی عناصر کے بارے میں طالبان حکومت نے یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی سفارت خانے پر حملہ کرنے والے داعش کے آٹھ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے ۔ داعش ایک ایسی تنظیم ہے جس کا کردار بھی مشکوک رہا ہے عراق شام سمیت دنیا کے کئی ملکوں میں اس کے ڈانڈے مغربی ایجنسیوں سے ملتے رہے ہیں۔ بھارت کے ٹیلی ویژن چینلوں پر خوشی کے شادیانے بج اُٹھے کہ پاکستان خود اپنی تخلیق کے ہاتھوں مشکلات کا شکار ہو رہا ہے اور یہ مکافات ِ عمل ہے ۔اسی دور امریکہ کے سفارت کار نیڈ پرائس نے اعلان کیا کہ پاکستان افغانستان سے ہونے والے حملوں کو روکنے کا حق رکھتا ہے ۔پاکستان میں اشرف غنی اور حامد کرزئی کے ادوار میں بھی حملوں کا سلسلہ جاری رہا ۔ٹی ٹی پی جب افغانستان میں بیٹھ کر اے پی ایس جیسے حملے منظم کر رہی تھی تو امریکہ نے پھوٹے منہ سے بھی پاکستان کے جوابی دفاع کی وکالت نہیں کی بلکہ جب پاکستان نے باڑھ لگانے کا فیصلہ کیا تو کابل کے حکمرانوں کے ساتھ ساتھ امریکہ بھی کبیدہ خاطر تھا ۔پاکستان اور افغانستان کو ہاتھ پائوں باندھ کر حالات اور مقدر کی ایک ہی ٹوکری میں ڈال دیا گیا ہے ۔اسی تناظر میں یہ سوال اُٹھنے لگا ہے کہ افغانستان کی سرحدیں چھ ملکوں کے ساتھ ملتی ہیں اور ہر سرحد پر طورخم اور چمن جیسے پھاٹک بھی ہیں اور آمدورفت بھی جاری ہے مگر صرف ایک ملک پاکستان ہی کے ساتھ افغانستان کے معاملات خرابی کی انتہائوں کو کیوں چھورہے ہیں ؟ایسے میں جب پاکستان بزعم خود افغانوں کا مدد گار اور معاون ومحسن بھی کہلاتا ہے ۔چین اور ایران کے ساتھ ان کے بڑے اورطویل المیعادتجارتی اور تعمیراتی معاہدات ہو رہے ہیں روس سے وہ ماضی بھلا کرسستاتیل اور گندم خرید رہے ہیں جبکہ پاکستان کے ساتھ جنگ کی تیاریاں اور دھمکیوں کا تبادلہ ہورہا ہے ۔امریکہ افغانستان میں فضائی کاروائیوں کے لئے پاکستان سے اڈے مانگ رہا ہے ۔ان اڈوں سے افغانوں پر گل پاشی تو نہیں ہوگی لامحالہ بمباری ہی ہوگی ۔جس میںماضی کی طرح کولیٹرل ڈیمج یعنی اجتماعی نقصانات ہوں گے ۔افغان اسے اپنی خودمختاری پر حملے کے تناظرمیں دیکھیں گے اور یوں پاکستان کا کردار افغانوں کے معاون کی بجائے حملہ آور کے معاون کا ہوجائے گا ۔ایسے میں اگر دونوں ملکوں میں جنگ کی حماقت ہوتی ہے جس کا منصوبہ ہے تو یہ سراسر تاریخ کا دھارا موڑنے کی کوشش کہلائے گی جس کا اصل مقصد واہگہ پر نصب دشمنی کے سائن بورڈ کو طورخم میں نصب کرنا ہے ۔پھرپہلی پاک افغان جنگ کے نام سے ایک نئی تاریخ رقم ہونے کا آغاز ہوگا جس میں پاک بھارت جنگوں کی تاریخ غیر اہم ہو کر رہ جائے گی۔ جنگ بری چیز ہے یہ لاشوں اور آہوں اور سسکیوں کا نام ہے مگر واہگہ میںجنگ کی یہ برائی طورخم میں اچھائی کیوں بننے جا رہی ہے؟۔

مزید دیکھیں :   کشمیری تحریک حریت اور سلامتی کونسل