محشر میں گئے شیخ تو اعمال ندارد

شاعری کی اپنی ایک دنیا ہے’ شاعروں نے ہر موضوع ‘ پر مسئلے پر کچھ نہ کچھ کہہ رکھا ہے ‘ تاہم کچھ اشعار ایسے بھی ہوتے ہیں جن کواگر الٹ کرکے پڑھا جائے تو زیادہ موثر اور دلچسپ ہوجاتے ہیں مثلاً ایک بہت ہی مشہور شعر ہے کہ
موذن مرحبا بروقت بولا
تری آواز مکے اور مدینے
اب اس شعر کے پہلے مصرعہ میں تھوڑی سی تحریف کی جائے تو اس کی اہمیت ایک موجودہ سیاسی بیان کے تناظرمیں بڑھ جاتی ہے جبکہ دوسرے مصرعے کی ضرورت باقی نہیں رہتی ‘ نہ ہی صورتحال کے حوالے سے اس کا استعمال درست کہلا سکتا ہے ‘ بہرحال پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ ہ بیان کیا ہے جو حضرت شیخ رشید نے گزشتہ روز دیا اور کہا کہ عمران کوزہر سے مارنے کی کوشش ہو رہی ہے اس پر محولہ بالا شعر کے پہلے مصرعہ میں تحریف کی اجازت ہم پہلے ہی طلب کر چکے ہیں تو پھر اسے یوںپڑھ لینا چاہئے کہ
موذن مرحباً بے وقتً بولا
اب شیخ صاحب نے جو کچھ فرما دیا ہے اسے بے وقت کی راگنی قرار دینے میں بھلا کونسا امر مانع ہوسکتا ہے بلکہ اس پر تو یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو ‘ شیخ صاحب دور کی کوڑی لاتے ہوئے فرمارہے ہیں کہ عمران کو زہر سے مارنے کی کوشش ہو رہی ہے ‘ ویسے معاف کیجئے گا جو دور کی کوڑی لانے کی سعی فرمائی ہے موصوف نے یہ بھی بدقسمتی سے ”پھوٹی کوڑی” ہی ثابت ہوئی ہے ‘ کیونکہ عمران کے حوالے سے جو کچھ سیاسی فضائوں میں چل رہا ہے اس سے کوئی تعرض نہ کرتے ہوئے پی ڈی ایم کی حکومت اسے پہلے تو مارنہیں سکتی ‘ یعنی جب اس تک سرکار کی کوئی پہنچ ہی نہیں ہے توزہر خورانی کے حوالے سے حکومت یادیگر کسی(مخالف) شخصیت پر الزام کیسے دھرا جا سکتا ہے بلکہ ایک پشتو محاورے کے مطابق تو سرکار زہر سے زیادہ”گڑ” سے کام چلا رہی ہے ‘ حالانکہ کئی ایک تجزیہ کار اور یوٹیوبرز حکومت کے عمران کے معاملے میں ہاتھ ہولا رکھنے پر بہت معترض بھی دکھائی دے رہے ہیں ‘ کہ موصوف کو مختلف”وارداتوں” میں گرفتار کرکے جیل کی سلاخوں کے پیچھے کیوں نہیں دھکیلا جاتا ‘ لیکن محسوس یہ ہوتا ہے کہ شہباز شریف کی حکومت عمران خان کے دور میں اپوزیشن کے ساتھ روا رکھے گئے رویئے کے برعکس اسے ”شرمندگی” کااحساس دلانے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے ‘ بقول خاور
تو نے تو اپنی سی کرنی تھی سوکرلی خاور
مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس کا گلہ کس سے کریں؟
شیخ صاحب نے الزام لگانے سے پہلے سوچا ہی نہیں کہ وہ دراصل نون لیگ کے اس بیانئے کو اپنانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں جومیاں نواز شریف کے حوالے سے عمران حکومت نے مبینہ طور پر اپنا رکھا تھا اور اب اس حوالے سے سوشل میڈیا پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں جن میں اس دور کے الزامات کی تصدیق بھی ہو رہی ہے کہ جب میاں صاحب کے خون میں”اتار چڑھائو” کی خبریں وائرل ہو رہی تھیں اور جن کی تصدیق خود شوکت خانم کے ڈاکٹر نے بھی تصدیق کی تھی ‘ بلکہ اس دور کی وزیر صحت پنجاب محترمہ یاسمین راشد صاحبہ بھی بلاناغہ روزانہ میڈیا پر آکر میاں صاحب کے پلیٹ لیٹس کی رفتار کے حوالے سے ”تشویشناک” خبریں قوم کو بتاتی رہتی تھیں اور بالاخر عمران خان کو مشورہ دیا گیاکہ میاں صاحب کو ملک سے باہر جانے اور اپنا علاج کرانے کی اجازت دی جائے ‘ اب بعض اطلاعات یہ بھی سامنے آرہی ہیں کہ مبینہ طور پر میاں نواز شریف کو جیل سے زندہ سلامت نہ جانے کی ہدایات ”کسی پیرنی” نے دیئے تھے اور جب سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ تک یہ رپورٹس پہنچیں تو انہوں نے میاں صاحب کو ملک سے نکالنے کے لئے ضروری اقدام اٹھائے ‘ اس طرح سلوپوائزننگ کی کہانی اپنے منطقی انجام تک پہنچنے سے پہلے ہی رک گئی ‘ اور شنید ہے کہ لندن پہنچ کر میاں صاحب کے جو ابتدائی ٹیسٹ کرائے گئے ان میں اس مبینہ سازشی داستان کے ”ثبوت” موجود ہیں جو شاید کسی اہم موقع پرسامنے لانے کی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے ‘ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر شیخ رشید اس پرانی کہانی کی طرز پر کوئی نیا سکرپٹ لا کر عمران خان کے لئے ”غتر بود ہوتی ہوئی”عوامی ہمدردی میں نئی روح پھونکنے کی کوششیں کر رہے ہیں ‘ ان کے حوالے سے ایک محاورہ بھی بلند آہنگی کے ساتھ بول رہا ہے ‘ یعنی بول کہ لب آزاد ہیں تیرے’ تو بولنے میںاگرچہ کوئی حرج نہیں مگر محولہ محاورہ ہے کہ نقل راعقل می باشد ‘ جبکہ یہاں موصوف بولتے ہوئے عقل سے پیدل والے بیانئے میں یوں پھنس چکے ہیں کہ میاں صاحب کو سلو پوائزننگ کی جو خبریں سوشل میڈیا پراس دور میں پھیل رہی تھیں کم از کم میاں صاحب حکومت کے جیل میں بند تھے ‘ ان کو گھر سے خوراک لانے پرپابندی تھی ‘ ان کو طبی سہولیات بھی”قدغنوں” کے چنگل میں تھیں اوران کے ذاتی معالج کو عدالتوں کے چکر لگا لگا کران سے ملاقات کی محدود اجازت ملتی تھی ‘ جبکہ عمران خان نہ صرف اپنے گھر زمان پارک میں پنجاب حکومت کی مہربانیوںسے رہائش پذیر ہیں ان کو ہر قسم کی سہولیات آسانی کے ساتھ میسر ہیں ‘ یہاں تک کہ ان کی پلستر شدہ ٹانگ بھی تبدیل ہو چکی ہے کہ پہلے پلستر ایک ٹانگ پراور اب دوسری ٹانگ پر آسانی سے شفٹ ہو چکا ہے ‘ جس پر ایک سردار جی اور سردارنی جی کا وہ لطیفہ توآپ نے سن رکھا ہو گا کہ ”بطخ پانی کا جانور ہے ‘ ڈبکی لگا کر دوسرے کنارے نکل گئی ہو گی ‘ اب اگر پلستر ایک ٹانگ سے دوسری پر شفٹ ہو گیا ہے تو اس میں اچھنبے کی کیا بات ہے ‘ خیر رہنے دیں بطخ اور پلستر میں فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے اگر شیخ رشید ان”وارداتوں” کی نشاندہی بھی کر دیتے جوعمران خان کو زہر دینے میں”ملوث” ہیں تواس سے بہتوں کا بھلا ہوتا ‘ کیونکہ عمران خان صاحب نہ تو پی ڈی ایم کی جیل میں ہیں ‘ نہ انہیں باہر سے کھانا فراہم کیا جاتا ہے ‘ وہ گھرہی میں ( شاید) پکا ہوا کھاتے ہوں گے ‘ اگرچہ ان پر یہ الزام بھی سامنے آئے ہیں کہ ہ ہمیشہ دوسروں کی جیب سے خورد نوش کہاں سے اور کس ادارے کی وساطت سے پہنچتی ہیں اگرچہ احتیاطی تدابیر کے تحت ان اشیاء کو عمران کے سامنے پیش کرنے سے پہلے انہی افراد کے ذریعے چکھانے کابندوبست بھی آسانی سے کیا جا سکتا ہے جو یہ اشیاء فراہم کرتے ہیں بالکل پرانے زمانے کی طرح جب شاہی محلات میں کھانا شاہی خاندان اور اعلیٰ حکام کوپیش کیا جاتا تو پہلے یہ کھانا غلاموں کو الگ پلیٹ میں نکال کر کھلایا جاتا اورتسلی ہونے پر ہی استعمال کیاجاتا زار روس کے زمانے میں”گارڈنر” نام کے ایک صاحب نے ایسے برتن ایجاد کر لئے تھے جن میں زہریلا کھانا ڈالنے سے وہ برتن ٹوٹ جاتے ‘ یوں روس کا اعلیٰ طبقہ اپنے گھروں میں آسانی سے ان برتنوں کی وجہ سے زہرخورانی سے محفوظ رہتا بہرحال شیخ صاحب کو ”مبینہ قاتلوں” کی نشاندہی کرنی پڑے گی بصورت دیگر یہ خود اپنا مذاق اڑانے کا باعث بن سکتی ہے
محشر میں گئے شیخ تواعمال ندارد
جس مال کے تاجر تھے وہی مال ندارد

مزید دیکھیں :   فیصلے پر نظر ثانی کی ضرورت