سعودی عرب کاپاکستان کیلئے15ارب ڈالرکاپیکج،ڈونرزکاشفافیت اوراصلاحات پرزور

ویب ڈیسک :سعودی ولی عہد نے پاکستان میں سرمایہ کاری اور ڈپازٹ 15 ارب ڈالر تک بڑھانے کی ہدایت کردی۔سعودی عرب کی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں ڈپازٹ کی رقم 5 ارب ڈالر تک بڑھانے پر غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ پاکستان میں سعودی عرب کی جانب سے 10 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری بھی کی جائے گی۔سرکاری خبر ایجنسی کا مزید کہنا ہے کہ ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری اور ڈپازٹ بڑھانے کا اعلان وزیراعظم شہباز شریف اور محمد بن سلمان کے درمیان رابطوں کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
سعودی عرب نے 25 اگست 2022 کو پاکستان میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا تھا۔دوسری طرف جنیواکانفرنس میںعالمی برداری نے پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اسے نو ارب ڈالر سے زائد مالی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے تاہم اسلام آباد حکومت کو ان ممالک کے مطالبات مانتے ہوئے طویل المدتی اصلاحات لانا ہوں گی۔پاکستان کو عطیہ دینے والے دیگر ممالک کے حکومتی نمائندوں کی طرح جرمنی کے ریاستی سیکریٹری یوخن فلاس بارتھ نے بھی پاکستان سے ملک میں اصلاحات کے مطالبے پر زور دیا۔ ان اصلاحات میں سے ایک اہم کا تعلق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کے اُس پروگرام سے ہے، جس میں دیگر امور کیساتھ ساتھ سبسڈی میں کمی اور ٹیکس یا محصولات میں اضافے کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ عالمی برادری کی طرف سے پاکستان میں کرپشن کی وجہ سے فنڈز ضائع ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تمام مالیاتی امداد کے ہر ایک حصے کا حساب رکھا جائے گا۔
اقوام متحدہ کے ایک چوٹی کے جرمن نمائندے آخم اشٹائنر کا کہنا تھاپاکستان کی معیشت کی بحالی ہم سب کے مفاد میں ہے۔ آخم اشٹائنر نے پاکستان کی تشویشناک صورتحال کے تناظر میں یہ بھی کہا کہ جو معاشرے اپنے شہریوں کو بہتر مستقبل اور بنیادی ضروریات فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہیں، وہاں انتہاپسندی اور عسکریت پسندی سرطان کی طرح پھیل جاتے ہیں۔اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے سربراہ کا کہنا تھاکوئی مفت پیسہ نہیں دیتا، ہر ملک، جس نے امداد کا وعدہ کیا ہے، پاکستانی حکومت سے توقعات بھی رکھتا ہے۔انہوں نے مزید کہاامدادی کاموں کے شراکت دار نتائج کی تلاش میں ہوں گے، جیسے کہ احتساب، وضاحت، کارکردگی اور شفافیت۔انہوں نے اشارہ دیا کہ ڈونر ممالک ان رقوم کے استعمال اور حکومت پاکستان کی کارکردگی پر مسلسل نظر رکھیں گے۔

مزید دیکھیں :   پشاور میں مردہ مرغیوں کی فروخت دھڑلے سے جاری