مہنگائی

گیس قلت اور مہنگائی ، شہریوں کا بازاری کھانوں پر انحصار

ویب ڈیسک :گھی،گوشت، سبزیوں اور آٹا کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ او رایندھن یعنی گیس اور بجلی کے بحران نے پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے دیگر شہروں میں لوگوں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کردئیے ہیں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے مہنگائی کے نتیجے میں گھروں پر کھاناپکاناچھوڑ اور بازاری خوراک پر انحصاربڑھادیاہے روزگار سے واپسی پر شہریوں کے ہاتھوں میں اب فروٹ کی بجائے روٹیوں اور سالن کے شاپر ہوتے ہیں جبکہ سرخ لوبیا اورچھولے اس وقت سب سے زیادہ مرغوب اور سستی خوراک کے طورپر استعمال کئے جا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ خوراک کی ہر چیز کی قیمتیں آسمان پر پہنچ چکی ہیں سبزیاں اور گوشت غریب عوام کی دسترس سے باہر ہوگئے ہیں اور گیس اور بجلی کا بھی بحران ہے ۔ ان حالات میں چار سے پانچ افراد کی ایک وقت کی ہانڈی پر پانچ سو روپے سے زائد خرچ ہورہے ہیں
لیکن چونکہ کھانا پکانے کا انتظام بھی ایندھن کی کمی کے باعث متاثر ہوا ہے اس لئے شہری اب بازاری خوراک پر گزارا کررہے ہیں چند ماہ قبل تک جو شہری دوپہر اور شام کو ہوٹلز کا کھاناکھا رہے تھے ان لوگوں نے مہنگائی کی وجہ سے ایک وقت کی روٹی کم کردی ہے اور اب یہی کھانا گھروں کو پیک کرکے لے جایاجارہا ہے اس سے شہریوں کو وقت کی بچت کے ساتھ ساتھ پیسوں کی بھی بچت ہے ۔ یاد رہے کہ پشاور میں تقریبا44فیصد سے زائد آبادی مہنگائی سے براہ راست متاثر ہوئی ہے چونکہ زیادہ تر لوگوں کے پاس ہوٹلز میں کھانا کھانے کی استعداد باقی نہیں رہی اس لئے پشاور سمیت صوبہ کے بڑے شہروں میں اب گھروں پر چھولے اور سرخ لوبیا کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہوا ہے جبکہ کباب وغیرہ کا استعمال بھی بڑھ گیا ہے صاحب استطاعت گھرانے بھی بار بی کیو اور دیگر خوراکوں کی جانب راغب ہوئے ہیں ۔

مزید دیکھیں :   زلزلہ میں11 ہزار ہلاکتوں کے بعد وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ