ہر دم جواں ہے زندگی

پاکستان کے شہروں میں جب غریب لوگ سستے آٹے کے حصول کی امید پر ٹرکوں کے پیچھے بھاگتے ہیں تو قیام پاکستان کے عظیم مقاصد اور قائد اعظم ‘ علامہ اقبال اور دوسرے اکابرین کی بے مثال جدوجہد آزادی کے لئے دل جلنے اور کڑھنے لگتا ہے کہ کیا ہمارے آباو اجداد نے لاکھوں جانوں کی قربانیاں اسی پاکستان کے لئے دی تھیں۔ گزشتہ سیلاب سے تباہ شدہ علاقوں کے غریب عوام اس کڑاکے کی سردی میں جس مشکل سے زندگی کے شب و روز گزار رہے ہیں اور اس پر مستزاد خالی پیٹ ‘ اس کا اندازہ وہی لوگ کر سکتے ہیں جن پر کبھی ایسے حالات گزرے ہوں۔ ویسے کہنے کو تو پاکستان گزشتہ 75برسوں سے ”نازک حالات”سے گزرتا آیا ہے لیکن اس دفعہ شاید حقیقتاً نازک ترین حالات سے دو چار ہے کیونکہ زندگی کی دیگر سہولیات ہماری عوام کو کب حاصل تھیں ‘ لیکن ایسا دور تو اب آیا ہے کہ دو وقت کی روٹی میسر نہ ہونے کے سبب غریب عوام بلکتے بچوں کو دیکھنے کی تاب نہ رکھنے کے سبب خود کشیوں پرمجبور ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج یہ سوال ہر گھر ‘ ہرمجلس اور ہر تقریب اور چوک و چوراہے پر پوچھا جارہا ہے کہ ہمارا بنے گا کیا؟ اچھے بھلے پڑھے لکھے لوگ بے یقینی کی کیفیت سے دو چار ہیں اور آج بے یقینی کی جو صورت و کیفیت ہے وہ کبھی پہلے نہ تھی اور نہ دیکھی ہے ۔
پاکستانی روپے کی بے قدری اور اس کے نتیجے میں شدید مہنگائی نے عوام کے بھر کس ہی نکال دیئے ہیں ‘ اس پر مستزاد سیاسی اور معاشی عدم استحکام نے طرح طرح کے وسوسوں کو جنم دیا ہے ‘ اس میں اگرچہ سوشل میڈیا کا بھی ایک کردار ہے ۔ اس کے باوجود کہ سوشل میڈیا نے عوام کی آگاہی اور شعور میں کافی اضافہ کیا ہے لیکن اس سے زیادہ اخلاقی بگاڑ بھی پیدا کیا ہے جس کا نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ اب کسی کی بات کا اعتبار بہت کم رہ گیا ہے ۔
رفاقتوں کے نئے خواب خوشنما ہیں مگر
گزر گیا ہے تیرے اعتبار کا موسم
کہیں خال خال کسی کی بات میں کچھ اعتبار بظاہر دکھائی بھی دے تو اس میں بھی حقیقت کم اور ہیجان کی آمیزش زیادہ ہوتی ہے ۔ اسی سبب ہمارے معاشرے میں رہنمائی کے حصول کے لئے عوام کسی پر اعتبار نہیں کرتے ۔ سیاسی اور معاشرتی سطح پر جذبات اور ذاتی مفادات کا کھیل جاری ہے ۔ ہر ایک دعویٰ یہی کرتا ہے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں عوام کی خدمت اور بھلائی کے لئے کر رہے ہیں اور عوام کے سامنے صرف سچ ہی لاتے ہیں لیکن ان کے اکثر دعوے سچ کے برعکس جھوٹ و فریب پر مبنی ہوتے ہیں۔ یہ سب ہمارے معاشرے کے بہت بڑے اخلاقی زوال کی علامتیں ہیں۔ جس معاشرے میں اخلاقی احساس اور ضمیر کی خلش باقی نہ رہے تو پھر بہت بڑا اور ہولناک معاشرتی ‘ سیاسی ‘معاشی بگاڑ جنم لیتا ہے جس کا ہماری قوم کو اس وقت شدت سے سامنا ہے ۔
آج ہم بحیثیت قوم کم و بیش ان ہی حالات سے دوچار ہیں جو قیام پاکستان سے پہلے متحدہ ہندوستان میں تھے ۔ کانگریس نے جب 1937ء میں صوبائی انتخابات جیت کر حکومت بنائی تو سال ڈیڑھ کے اندر ہی مسلمانوں کی تاریخ ‘ مذہب اور ثقافت کے خلاف بہت گہری منصوبہ بندی شروع ہو چکی تب حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے خطبات الہ آباد میں برصغیر کے مسلمانوں کے دلوں میں ایک نیا ولولہ پیدا کرکے نئی منزل کی امیدیں فروزاں کیں۔
ہم آج ایک دفعہ پھرموجودہ حالات میں ایسے والدین ‘ اساتذہ ‘ سیاسی و مذہبی زعمائوں اور رہنمائوں کی ضرورت ہے جو معاشرے میں کھری سچائی اور اخلاص کے ساتھ تعمیر و اخلاق و کردار کی تحریک اٹھائے کہ یہ کام بھلے دنوںمیں یہی عناصر ادا کرتے تھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کے والدین کچھ غربت کے ہاتھوں اورکچھ رات راتارب پتی بننے کے دھن میں اپنی اولاد کی تربیت سے غافل ہیں ۔ آج کی غریب ماں اور امیر مائیں اپنی اپنی مصیبتوں کی شکار ہیں بچوں کو نہ ممتا مل رہا ہے اور نہ پہلا مدرستہ(ماں کی گود) یہی حال اساتذہ کرام کا ہے ۔ اپنے پیغمبرانہ مشن پرتوجہ دینے کی بجائے سیاسی سرگرمیوں ‘ اعلیٰ سے اعلیٰ عہدوں کے حصول ‘ ترقیوںاور غضب خدا کا صاحبان اقتدار کی قربت کے حصول کی جدوجہد سے فرصت نہیں پاتے ۔ علماء بھی فرقوں اور ٹولیوں میں بٹ چکے ہیں نتیجتاً قوم اورعوام بھی تقسیم در تقسیم ہیں پاکستان کے سیاسی زعماء کی تو رہنمائی کے حوالے سے کوئی کردار باقی ہی نہیں رہا اب تو سیاست مفادات اور جلب زر کی جنگ بن چکی ہے ۔ ان تمام مسائل اور بگاڑ کی ذمہ داری ہمارے سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ پرعائد ہوتی ہے ۔ قیام پاکستان کے ابتدائی برسوں میں سیاستدانوں نے اخلاقی بلندی اور سیاسی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جس کے نتیجے میں جاگیرداروں ‘ وڈیروں اورجرنیلوں نے خوب فوائد سمیٹے اس کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ وہ سیاستدان جن کے باپ دادا قیام پاکستان کے وقت کسی خاص معاشی و معاشرتی پہچان کے حامل نہ تھے ‘ آج ارب پتی ہونے کے سبب پوری دنیا میں دندنا رہے ہیں۔ حال ہی میں پاک افواج کے چیف کے منصب سے ریٹائر ہونے والے جرنیل صاحب کے اہل خانہ کے جو اربوں کے اثاثے منظرعام پر آئے تو عوام نے غصے کے ساتھ ساتھ حیرانی کا اظہار بھی کیا لیکن ستم ظریفی ملاحظہ کیجئے کہ اثاثوں کو تحقیق کے لئے پیش کرنے کی بجائے یہ تحقیق کی جارہی ہے کہ ان اثاثوں کے بارے میں خبر کس نے لیک کردی۔ بلاشبہ آج وطن عزیز کے حالات بہت مایوس کن ہیں ‘ لیکن نا امیدی اسلام میں نہیں ہے کیونکہ ہماری تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ مکہ مکرمہ میں خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کن مایوس کن حالات میں جدوجہد کرکے رامن انقلاب برپا فرمایا اور خود برصغیر میں علامہ محمد اقبال نے کن حالات میں خطبات الہ آباد کوپیش کیا جس میں مسلمانان ہند کے لئے ایک الگ وطن کا نقشہ کھینچا گیا تھا ۔ آج بھی اگر محب وطن اور حالات کی نبض پر ہاتھ رکھنے والے سیاستدان ‘ دانشور ‘ علماء ‘ صلحاء اور سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کرا کر پرامن حالات پیدا کرکے صاف وشفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کرواکر اقتدار عوام کے منتخب لوگوں کو اس امید و ذمہ داری کے ساتھ حوالہ کرکے کہ سب سے پہلے پاکستان پر ہی ہرحال میں عمل ہو گا ۔ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے ‘ اور بقول علامہ اقبال۔
تو اسے پیمانہ امروز و فردا سے نہ ناپ
جاوداں ‘ پیہم دواں ‘ ہر دم جواں ہے زندگی

مزید دیکھیں :   میں بڑا ہو کر ڈاکٹر بننا چاہتا ہوں؟