آئو ڈیفالٹ ڈیفالٹ کھیلتے ہیں

اس پر دورائے نہیں کہ سیاسی عدم استحکام سے جنم لینے والے مسائل ہر گزرنے والے دن کے ساتھ سنگین ہوتے جارہے ہیں۔ حکومت معاشی صورتحال کے حوالے سے امیدیں بندھاتی ہے تو سابق حکمران جماعت یہ کہہ کر دھماکہ کردیتی ہے کہ ملک میں ڈیفالٹ ہوا چاہتا ہے۔ اگلے روز بھی پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل اسد عمر نے دعوی کیا کہ پی ڈی ایم حکومت کے دعوے دھند جیسے ہیں ملک ڈیفالٹ ہونے کے قریب ہے۔ اسی روز سابق وزیراعظم عمران خان نے عندیہ دیا کہ الیکشن کے بعد ہم اقتدار میں آکر معیشت کو سنبھال لیں گے۔ اس سوال پر کہ پی ٹی آئی کیسے سنبھال لے گی معیشت کو؟ ان کاکہنا تھا کہ میں نے پروگرام بنالیا ہے کیسے معاشی استحکام لانا ہے۔ عمران خان اسی طرح کا دعوی2018 سے قبل بھی کرتے رہے تب وہ کہتے تھے کہ پی ٹی آئی کے پاس300 ماہرین کی ٹیم ہے ہماری جماعت حکمت عملی وضع کرچکی ہے۔ اقتدار میں آنے کے 90 دن کے اندر عوام کو تبدیلی محسوس ہوگی۔ عوام کو یہ تبدیلی ضرور محسوس ہوئی کہ جس شخص کو انہوں نے 8 برس ایک ماہر معاشیات کے طور پر متعارف کرایا اس سے وزارت خزانہ نہ چل پائی بالآخر نیا وزیر خزانہ لانا پڑا۔ عمران خان بخوبی جانتے ہیں کہ پونے چار برسوں کے دوران انہوں نے کتنے وزیر اور مشیر خزانہ بنائے اور انہوں نے معاشی استحکام کے لئے کیا تیر مار لیا ۔ ان کے ماضی میں کئے گئے دعوئوں کی حقیقت واضح ہونے کے بعد شاید ہی کوئی ذی شعور اس نئے دعوے پر اعتبار کرے کہ پی ٹی آئی کے پاس کوئی معاشی پروگرام ہے اور اگر اسے اقتدار مل گیا تو ملکی معیشت مستحکم ہوجائے گی یا کم از کم درست سمت سفر شروع ہوجائے گا۔ ان کی جماعت پچھلے9برسوں سے خیبر پختونخوا میں برسراقتدار ہے، انقلابی تبدیلیوں اور تعمیر نو کے پروپیگنڈے اور زمینی حقائق مختلف ہیں۔ خیبر پختونخوا اپنی تاریخ کے سب سے بڑے قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا صوبہ ہے۔ فقط یہی نہیں بلکہ صورتحال یہ ہے کہ ترقیاتی منصوبے منجمد ہیں۔ سرکاری ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لئے پیسہ تک نہیں اس ابتر حالت کے باوجود صوبائی حکمرانوں کی مراعات میں ضرور اضافہ کیا گیا۔ یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ پی ڈی ایم اور اتحادیوں کے معاشی استحکام کی طرف سفر کے دعوے بھی محض زبانی جمع خرچ ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر دن بدن کم ہوتے جارہے ہیں۔ یہ بجا ہے کہ موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک قرضوں اور سود کی اقساط کی ادائیگی میں لیت و لعل سے کام نہیں لیا یہی واحد نکتہ ہے جو ڈیفالٹ نہ ہونے کی تسلی دیتا ہے البتہ یہ حقیقت ہے کہ منہ زور مہنگائی اب جان لیوا ناقابل علاج مرض میں تبدیل ہوچکی۔ بیروزگاری اور غربت میں بھی اضافہ ہوا۔ تجربہ کاروں کے دعوے بھی سراب ہی ثابت ہوئے۔ اندریں حالات اگر یہ کہا جائے کہ سیاسی عدم استحکام نے معمولات زندگی کو درہم برہم کردیا ہے تو یہ خلاف حقیقت ہرگز نہیں۔ یقینا وفاقی حکومت نے اس زبوں حالی کے خاتمے کے لئے اپنے تئیں کوششیں کیں لیکن مسائل بہت گھمبیر ہیں۔ یہاں اس امر کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ ان حالات میں سابق حکمران جماعت کی منفی سیاست اور بالخصوص اقوام متحدہ اور عالمی مالیاتی اداروں سے پاکستان کی امداد نہ کرنے اور قرضے نہ دینے کی اپیلیں غیرذمہ دارانہ طرزعمل کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ملکی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا کہ کسی سابق حکمران جماعت نے عالمی مالیاتی اداروں سے یہ اپیلیں کی ہوں کہ ہمارے ملک کو مزید قرضے نہ دیں اس سے بھی بڑا ظلم یہ ہوا کہ پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل اور بعض دوسرے رہنمائوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو خط لکھا کہ پی ڈی ایم کی حکومت کو سیلاب متاثرین کی بحالی کے لئے امداد نہ دی جائے کیونکہ یہ غیرذمہ دار اور غیرامین حکومت ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ الزام اس جماعت نے لگائے جس کے دور اقتدار میں آئی ایم ایف کی ایک قسط کا بڑا حصہ معاہدہ سے ہٹ کر خرچ کیا گیا جس کی وجہ سے آئی ایم ایف نے پہلے اگلی قسط کی ادائیگی روکی بعدازاں معاہدے کی خلاف ورزی پر مذاکرات معطل کردیئے۔
پچھلے چند دنوں سے سابق وزیراعظم عمران خان یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ مشکل حالات سے نکلنے کے لئے آئی ایم ایف کے پاس جانا چاہیے۔ کیا وہ عوام کو یہ بتانا پسند کریں گے کہ انہوں نے اپنے اقتدار کے آخری مہینوں میں آئی ایم ایف کے معاہدہ کی خلاف ورزی کرکے کیا حاصل کیا؟ وہ اس حقیقت سے کیسے آنکھیں چراسکتے ہیں کہ آج جن معاشی مسائل کا سامنا ہے وہ خود ان کے پیدا کردہ ہیں۔ اصولی طور پر ہونا تو یہ چاہیے کہ وہ مسلمہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرکے ملک کو مجرم کی طرح مالیاتی ادارے کے کٹہرے میں کھڑا کرنے پر عوام سے معافی مانگیں الٹا وہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں اقتدار ملا تو معاشی استحکام لے آئیں گے۔ بہرطور یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ آج ملک کو جن حالات کا سامنا ہے اس کی بڑی حد تک ذمہ داری عمران خان اور ان کی ٹیم پر عائد ہوتی ہے۔ موجودہ حکومت کی کارکردگی بھی تسلی بخش نہیں ، اہتمام سے لائے گئے وزیر خزانہ اسحق ڈار اپنے دعوئوں کو پورا کرنے میں ناکامی کے بعد اب عوام کو اصلاح احوال کے لئے وظائف بتارہے ہیں حالانکہ معاشیات کی الف ب جاننے والا شخص بھی اس امر سے آگاہ ہے کہ عملیت پسندی سے محروم پالیسیاں دعائوں سے کامیاب ہوتی ہیں نہ ہی وظائف سے معاشیات میں استحکام آتا ہے۔ گزشتہ برس اکتوبر میں وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ تین ماہ بعد عوام کو بہتری محسوس ہوگی۔ تین ماہ تو گزرگئے مگر بہتری کی جگہ مسائل کا انبار ہے اور حالات کی ستم ظریفی کا شکار عام شہری ہیں جن کی دادرسی کرنے والا کوئی نہیں۔ یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ حالات دن بدن خراب ہوتے جارہے ہیں۔ ان ابتر حالات میں فوری الیکشن کا مطالبہ بھونڈا مذاق ہی ہے۔ فوری الیکشن کا مطالبہ کرنے والے بھی جانتے ہیں کہ عبوری حکومت کی انقلابی ترجیحات نہیں ہوتیں بلکہ وہ روزمرہ کے معاملات ہی دیکھتی ہے۔ ثانیا یہ کہ معاشی ابتری کا شکار ملک الیکشن کے لئے بھاری بھرکم اخراجات کا بوجھ فوری طور پر کیسے اٹھاپائے گا۔ ان حالات میں تو سیاسی قیادت کو چاہیے کہ اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے گھمبیر مسائل سے عوام کی جان چھڑانے کے لئے اقدامات کرے۔ ملک میں معاشی استحکام لانے کے لئے ایسی پالیسیاں وضع کرے جن سے مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو۔ وطن عزیز جن مسائل و مشکلات سے دوچار ہے ان کے پیش نظر یہ درخواست ہی کی جاسکتی ہے کہ کم از کم سیاسی استحکام کی ضرورت کو ہی مدنظر رکھا جائے تاکہ اصلاح احوال کی کوئی صورت بن سکے۔

مزید دیکھیں :   اتفاق رائے کی کوئی صورت پیدا کی جائے