عادت ہی بنا لی ہے

ہمارے ایک دوست ہیں جن کا نام اس خوف سے نہیں لکھ رہا کہ اگر یہ کالم ان کی نظر سے گزرا تو کالم پڑھنے کے دوران اور پھر کچھ دِنوں بعد بھی وہ مسلسل گالیاں دیتے رہیں گے۔ اُنہوں نے گالی بطور تکیہ کلام اپنا لی ہے ، بات تکیہ کلام تک ہی محدود رہے تو گفتگو بے ضرر رہتی ہے لیکن جب گالی یا کوئی نامناسب لفظ بلا وجہ اور بلا ضرورت گفتگو کا لازمی حصہ بن جائے تو سننے والے سوچنے پہ مجبور ہوتے ہیں کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے ۔تکیہ کلام اور پھر بات چیت میں کسی گالی کی تکرار شعوری عمل کے باعث نہیں بلکہ یہ بھی ان عادات کی مانند ہیں جو بلا وجہ اپنا لی جاتی ہیں ۔ جس طرح کسی محفل میں بیٹھے لوگوں کا انگلیاں چٹخانا ، ناک میں انگلی ڈال کر گھمانا، میز پر انگلیوں سے طبلہ بجانا اور ٹانگیں ہلانا جیسی عادت کا سامنا ہمیں رہتا ہے ۔اگرچہ ان عادات کے مظاہرہ سے لوگوں میں بد مزگی پیدا ہوتی ہے مگر وہ ایسے افراد کو کم ہی ٹوکتے ہیں شاید ٹوکنا معیوب سمجھتے ہوں۔ایسی ناپسندیدہ عادات یا حرکات کے حامل افراد کو بالعموم یہ خیال نہیںہوتا کہ وہ دوسروں کے لیے باعثِ کوفت بنے ہوئے ہیں ۔ اس ضمن میں ان پڑھ ، تعلیم یافتہ ، مالدار ، نادار ، اعلیٰ عہدہ داراور کلچرڈ شخصیات کی کوئی تخصیص نہیں ، ان سب میں یہ عادات پائی جاتی ہیں ۔ ایک صاحب کو قہقہہ لگاتے ہوئے سامنے بیٹھے شخص کے ہاتھ پر ہاتھ مارنے کی عادت تھی ۔ ایک بار اُنہیں دفتر میںملنے گیا ،غضب یہ ہوا کہ اُن کے کسی قریبی دوست کا ٹیلی فون آیا اور وہ آپس میں ہنسی مذاق کی باتیں کرنے لگے۔ وہ جونہی کسی بات پر قہقہہ بلند کرتا تو مَیں اُن کا اشارہ پا کر اپنا ہاتھ آگے بڑھاتااور وہ ہاتھ پہ ہاتھ دے مارتے۔ اسی طرح ایک افسر کو مسلسل بولنے کی عادت پڑی تھی اور وہ کسی کو بولنے ہی نہ دیتے۔ سامعین پہروں سنتے رہتے مگر صاحب کی بات ختم ہی نہ ہوتی۔ ایک دن کسی شرارتی ماتحت نے جب اُن کی باتوں کے دوران اپنے ہاتھ کھڑے کیے تو پوچھا کیا بات ہے ؟ وہ بولا ‘ سر جی ! مجھے بھی کچھ بکواس کرنی ہے ۔’ پھر نہ پوچھیں کہ اُس کے بعد کیا ہوا۔عادات کے بارے بہت کچھ کہا اور لکھا جا چکا ہے اور اب اس کالم میں لمبی چوڑی نفسیاتی بحث نہیں کی جاسکتی بلکہ مختصراً عادت ایک ایسی غیر ضروری حرکت دکھائی دیتی ہے جو جسم کو متواتر مصروف رکھے ہوئے ہے ۔ اگر اس ضمن میں تمام جسمانی حرکات کا جائزہ لیا جائے تو یوں محسوس ہوگا کہ بہت سی حرکات بلا وجہ پال رکھی ہیں ۔گویا یہ پالتو حرکات ہی عادات ہیں ۔ جیسے پڑوسی کے پالتو جانور کو پسند کرنا ضروری نہیں ،ویسے دوسروں کا ہماری پالتو حرکات کو پسند کرنا بھی ضروری نہیں۔
یوں دیکھیں تو اصل میں عادت جسم کی پالتو حرکات کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں مگر ہمارا معیار ہی اسے اچھا یا بّرا قرار دیتا ہے ۔ عادات کے اپنانے میں گھر ، کنبہ ، اور ہمارے ارد گرد کا ماحول ہی بنیادی نوعیت کا کردار ادا کرتے ہیں ۔ بچے کا ابتدائی طرزِ عمل زیادہ تر کنبہ کے افراد کی غیر شعوری نقل پر استوار ہوتا ہے ۔ اگر گالی دے کر بچے کو گالی دینے سے منع کرنا ہے تو یہ بہتر ہے کہ اُسے سرے سے ٹوکا ہی نہ جائے۔ وہ اس متضاد رویہ کو نہیں سمجھ سکتا کہ جو بات یا کام بڑوں کے لیے جائز ہے تو اُس کے کرنے میں کیا برائی ہے ۔ تاہم اگر اچھی یا بّری عادت کا کوئی معیار مقرر کرنا ہو تو اس پہلو سے دیکھنا پڑے گا کہ وہ عادات جو جسم کی صحت ، ذات کی تعمیر اور شخصیت کی نشو نما میں رکاوٹ کھڑی کر رہی ہیں ، ذاتی معاملہ ہے ۔ جبکہ وہ عادات جن سے دوسروں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو ، وہ سماجی معاملہ ہے ۔ ان عادات کے اچھے بّرے ہونے کا تعین مذہب اور قانون کی روشنی میں بھی کیا جا سکتا ہے ۔ اب سگریٹ نوشی صرف پینے والے کی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے لیکن منشیات کا استعمال صرف صحت کو خراب کرنے کے علاوہ عادی فردمیں مجرمانہ رحجانات بھی پیدا کرسکتا ہے جوسماجی لحاظ سے قابل گرفت ہے ۔ چلیں یہ تونشہ کی بات ہے ، چھوٹی چھوٹی اور بظاہر بے ضرر عادات بھی مشکل سے ختم کی جا سکتی ہیں ۔اسی لیے تو بہت سے عادی افراد اس پر تعجب کرتے ہیں کہ ہماری عادات دوسروں نے کیوں نہیں اپنا رکھی۔ سگریٹ ، شراب ، عورت اور جوئے کے عادی اپنے احباب کو بھی انہیں اپنانے کی ترغیب دیتے رہتے ہیں ۔ ان عادات کے اپنانے اور ترک کرنے میں کنبہ کے افراد اور احباب جو مثبت یا منفی کردار ادا کر سکتے ہیں ، وہ اتنا واضح ہے کہ یہاں اُجاگر کرنے کی ضرورت نہیں ۔دراصل کوئی عادت بھی اپنا لینے کے بعد وہ مزاج کا حصہ بن کر بسا اوقات سوچ کو بھی مخصوص رنگ میں رنگ دیتی ہیں ۔ اس لیے عادی کو اپنی ہر اچھی بّری عادت موزوں اور درست نظر آتی ہے ۔ آج کل ہمارے سیاسی اکابرین نے ایک دوسرے کو گالیاں دینے کی عادت اپنا لی ہے جسے وہ ہر گز بّرا نہیں سمجھتے اور نہ ہی اس کا تدارک کرتے ہیں ۔ اگر آپ اپنی کسی عادت سے چھٹکارا چاہتے ہیں تو اس سلسلہ میںنیک نیتی ، قوتِ ارادی اور خود اعتمادی کی ضرورت ہے ۔جس طرح آپ نے بعض عادات کو اپنے اعصاب پر سوار کر رکھا ہے ، اسی طرح چند بّری عادات کی وجہ سے ایک اکثریت آپ کو اپنے اعصاب پر سوار محسوس کرتی ہو گی ۔

مزید دیکھیں :   مشرقیات