تنگ آمد بجنگ آمد

پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں آٹے کی قلت، مہنگائی اور بجلی و گیس لوڈشیڈنگ کے خلاف برقعہ پہنے خواتین بھی احتجاج پر مجبور ہو گئی ہیں۔ خواتین نے مختلف مقامات پر سڑکوںپر دھرنے دئیے اور ٹریفک نظام معطل کردیا۔ خواتین ”آٹا آٹا ” نعرے لگاتی سڑکوں پر نکل آئیں۔ خیبر پختونخوا کے روایتی معاشرے میں خواتین کا صوبہ بھر کے مختلف مقامات پر احتجاج کے لئے سڑکوں پر نکلنے سے غیر معمولی صورتحال کی نشاندہی ہوتی ہے موجودہ صورتحال میں یہ عمل تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق ہے حکومت انتظامیہ اور سیاسی عمائدین جس بے حسی کے عالم میں ہیں اس سے نہیں لگتا کہ باپردہ برقعہ پوش اور خاص طور پر ان علاقوں کی خواتین کا جہاں خواتین کاگھروں سے نکلنے کا معمول بہت کم ہے ان علاقوں میں مظاہرے کے باوجود اصلاح احوال کی کوئی سعی ہو گی۔ آٹا کی قلت ‘ گرانی ‘ ذخیرہ اندوزی اور سمگلنگ پر میڈیا چیخ رہا ہے عوام فریاد کر رہے ہیں مگرسننے والا کوئی نہیں ستم بالائے ستم یہ کہ خود حکمران جماعتوں خواہ وہ مرکز کے ہوں یا صوبے کی حکمران جماعت اس کے اراکین اور کارکنان ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہراکرایک دوسرے سے مظاہرہ بازی کا مقابلہ کر رہے ہیں جبکہ ہوناتو یہ چاہئے تھا کہ وہ اپنی اپنی جماعتوں اور حکومتی سطح پر اقدامات کے لئے دبائو ڈالتے ۔ انتظامیہ کا تو تذکرہ ہی عبث ہے خیبر پختونخوا کی بیوروکریسی صوبے میں جاری گرانفروشی کی روک تھام میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے ضلعی انتظامیہ قیمتوں کے کنٹرول میں بے بس دکھائی دے رہی ہے صوبائی حکومت کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز’ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز’ اسسٹنٹ کمشنرز اور ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنرز کو 24 انتظامی محکموں کا اختیاردے کر بااختیار بنادیاگیا ہے یہ افسران گویا مگر بھاری بھر کم اختیارات کے بوجھ تلے دب کر رہے گئے ہیں اور ان کی کارکردگی اورتوجہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔ عملی طور پر صوبے کے کسی بھی ضلع میں قیمتوں کا نہ تعین درست انداز میں کیا جاتا ہے اور نہ ہی اس پر عمل درآمد کے لئے کوئی طریقہ کار موجود ہے۔اس قسم کی صورتحال میں عوام کے پاس احتجاج کے سوا کچھ نہیں بچتا اب تو حالات نے گھریلو خواتین کوبھی سڑکوں پرلاکھڑا کر دیا گیا ہے کہ شاید ان پر ہی ترس کھا کر انتظامی افسران بازاروںکا دورہ کرنے کی ہمت کریں صورتحال میں بہتری کے لئے جلد اقدامات نہ کئے گئے تو بعید نہیں کہ عوام حکمرانوں اورافسران کے دفاتر کا گھیرائو کرنے پر مجبور ہوں اور پرتشدد مظاہرے شروع ہوجائیںصورتحال کاحکومت اور اضلاع کی انتظامیہ کو ادراک ہونا چاہئے اورعوامی مسائل کے ممکنہ حل اور اقدامات پر فوری توجہ دی جائے۔
بروقت خدمات کی فراہمی ‘ احسن کاوش
خیبرپختونخوا کے سرکاری محکموں کی ناقص کارکردگی کا تذکرہ دہرانے کی ضرورت نہیں عوام ان محکموں اور متعلقہ حکام سے کس قدر نالاں اور بیزار ہیں اس کے بھی تذکرے کی ضرورت نہیں البتہ انحطاط کے اس دور میں ریسکیو ون ون ٹوٹو کی کارکردگی کو بجا طور پراطمینان بخش قرار دیا جا سکتا ہے شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ اس کی کارکردگی ہرجگہ نظرآتی ہے اور عوام کو جب بھی اورجس موقع پراس کی خدمات کی ضرورت پڑتی ہے محکمے کے اہلکار مستعدی اور خوش دلی کے ساتھ بروقت پہنچ کرحتی المقدور خدمت کی سعی کرتے ہیں جس کا عوام کی جانب سے سراہنا اور اطمینان کا اظہار فطری امر ہے ۔ ریسکیو ون ون ٹو ٹو نے بڑی مشکل حالات میں جو خدمات انجام دیں اور ہر مشکل کے وقت ان کی جو کارکردگی سامنے آتی ہے اسے دیکھ کر تمنا ہوتی ہے کہ کاش دیگر سرکاری ادارے بھی اس کی تقلید کریں صوبے میں صحت کارڈ اور بی آر ٹی کے ساتھ ساتھ اگرکوئی ادارہ حکومت کے لئے نیک نامی کا اگرباعث ہے تو ریسکیوو ن ون ٹو ٹو بھی اس میں شامل ہے جو اپنی خدمات کے باعث حکومت کا مثبت چہرہ ثابت ہو رہا ہے خوش آئند امر یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا بھی اس کی سرپرستی اوروسائل کی فراہمی میں بخل کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ ریسکیو ون ون ٹو ٹو کو بہتر انداز میں چلانے کا سہرا اس کے فعال منتظم اعلیٰ کے سر جاتاہے تمام ترمساعی کے باوجود دیکھا جائے تو اب بھی ادارے کی خدمات میں بہتری کی بڑی گنجائش ہے اس کی تحصیل کی سطح پر توسیع ہی کافی نہیں بلکہ سخت اور نامساعد حالات سے نمٹنے کے لئے ادارے کی دیگر احتیاجات پورا کرنے اور سازو سامان سے لیس کرنے کی ضرورت ہے ریسکیو کے عمل کو تیز بنانے کا تقاضا ہے کہ ان کو ایئرایمبولینس بھی مہیا کی جائے البتہ اسے رکشہ کی طرح چلانے کے عمل سے بچانا ہو گا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لئے ہر وقت دستیاب رہے ۔ عطیہ دہندہ عالمی اداروں سے رابطہ کیا جائے تو ممکن ہے کوئی اچھی صورت نکل آئے ۔ کوشش کی جانی چاہئے کہ ادارے کاوقار اور خدمات کا معیار برقرار رہے اور اس پر دیگر سرکاری ‘محکموں کی پرچھائیاں نہ پڑنے دیا جائے ۔
امید کی کرن
خیبر پختونخوا میں زعفران جیسے قیمتی پیداوار اور زیتون کے منافع بخش باغات لگانے اور شہد کی پیداواربڑھانے اور برآمد کے حوالے سے سعودی عرب کے سفارتخانہ کے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کے لئے اجلاس کا انعقاد خوش آئند امر ہے ان شعبوں میں سعودی سرمایہ کاروں کے لئے بھاری مواقع ہیں اور ان کے ہاں اس کا استعمال اور کھیت کی بھی بڑی گنجائش ہے منصوبے پر عملدرآمد سے خیبرپختونخوا میں کاروبار اور روزگار کے بڑے مواقع میسرآئیں گے اور غیر ملکی سرمایہ کاری بھی متوقع ہے۔

مزید دیکھیں :   ضمنی نہیں عام انتخابات