اعتماد کے ووٹ

وزیراعلی کو اعتماد کے ووٹ کیلئے قابلِ قبول وقت ملنا چاہیے،عدالت

ویب ڈیسک: وزیراعلیٰ پنجاب اور صوبائی کابینہ تحلیل کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ وزیراعلی کو اعتماد کے ووٹ کےلئے قابل قبول وقت ملنا چاہیے۔
لاہورہائی کورٹ میں وزیراعلیٰ پنجاب اور صوبائی کابینہ تحلیل کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے پوچھا کہ کیا معاملہ حل ہوا ہے یا نہیں؟
وکیل پرویز الہی نے جواب دیا کہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اسی لیے عدالت کے طرف دیکھ رہے ہیں جس پرعدالت نے پوچھا کہ عدالت نے گورنر کو تحریری جواب کے لیے کہا تھا جواب کیوں نہیں آیا۔
وکیل گورنرپنجاب خالد اسحاق نے جواب دیا کہ وزیراعلی کو اعتماد کا ووٹ دو چارروز میں لینا چاہئیے تھا۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیراعلی کو اعتماد کا ووٹ لینا چاہئیے جس پر جسٹس عاصم حفیظ نے کہا کہ کیا یہ تسلیم کرلیا جائے کہ وزیراعلی کو اعتماد حاصل ہے، اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ قانونی طریقہ کار مکمل ہونا ضروری ہے۔
جسٹس عابد عزیز شیخ نے کہا کہ اسمبلی کو خود ہی طے کرنا ہے کہ وزیراعلی کو اعتماد حاصل ہے یانہیں۔ یہ معاملہ عدالت نے نہیں بلکہ آپ نے مل کرطے کرنا ہے۔ عدالت معاملات طے کرنے کےلئے آپ کو قابل قبول وقت دے گی۔
عدالت نے کہا کہ ممبران ہی فیصلہ کرسکتے ہیں کہ انھیں آفس میں رہنا ہے یا نہیں، حتمی فیصلہ ممبران کا ہی ہونا ہے۔
عدالت نے علی ظفر سے استفسارکیا کہ آپ بتاٸیں مناسب وقت کتنا ہونا چاہیے؟ آپ بتا دیں کہ کب اعتماد کا ووٹ لے سکتے ہیں ہم اس پر آرڈر کردیتے ہیں۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ آپ کا مسٸلہ حل ہو۔
وکیل پرویز الہی نے کہا کہ گورنر صرف اسی صورت وزیراعلی کو اعتماد کےووٹ کاکہہ سکتے جب وزیراعلی کو اکثریتی ارکان کی حمایت نہ رہے۔ اسمبلی سیشن کےدوران وزیراعلی کواعتماد کےووٹ کانہیں کہاجاسکتا۔
عدالت نے کہا کہ ابھی تک یہ بھی اطمینان نہیں ہوا کہ فلور ٹیسٹ ہونا ہے یا نہیں۔ کیا آپ اس آفر کو قبول نہیں کررہے؟ وکیل پرویزالٰہی نے جواب دیا کہ اس کیس کو میرٹ پرہی سماعت کرلیا جائے۔
عدالت نے کہا کہ عدالتی فیصلے کو گزرے بیس دن ہوگئے ابھی تک اعتماد کےووٹ کا کیوں نہیں سوچا۔ عدالت یہ بھی جائزہ لے گی کہ جو سیشن چل رہا ہے اس میں بھی وزیراعلیٰ کو اعتماد حاصل ہے یا نہیں۔

مزید دیکھیں :   ڈیرہ،سیکورٹی فورسز سے جھڑپ میں 2 دہشت گرد ہلاک