پولیس اہلکار افسروں سے دلبرداشتہ،صوبائی سطح پرگروپ قائم

ویب ڈیسک :اعلیٰ پولیس افسروں کے رویہ سے دلبرداشتہ پولیس اہلکار اپنے حقوق کیلئے صوبہ کی سطح پر گروپ تشکیل دینے کیلئے متحرک ہو گئے ہیں۔ کانسٹیبل سے انسپکٹر رینک تک کے افسر اور اہلکار فریاد کر نے لگے۔ گزشتہ ایک سال سے خیبر پختونخوا پولیس دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر ہے اور عسکریت پسندوں کی جانب سے انہیں نشانہ بنایا جارہا ہے تو ایسے میں محکمہ کے اندر بھی پولیس اہلکاروں کے ساتھ اعلیٰ افسروں کی جانب سے نا انصافی ہو رہی ہے۔ پولیس اہلکاروں کو مختلف قومی مہمات کا اعزازیہ نہیں مل رہا ، ڈیوٹی کے طریقہ کار پربھی پولیس اہلکاروں کو تحفظات ہیں۔ شہید اہلکاروں کو تابوت میں ڈال کر میت پر گلدستہ رکھ دیا جاتا ہے
جس کے بعد بیوہ اور یتیم بچے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے محتاج بن جا تے ہیں۔ محکمہ پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کر نے کی شرط پر بتایاہے کہ خیبر پختونخوا پولیس امن کی خاطر قربانیاں دے رہی ہے لیکن اسے قربانی کا صلہ نہیں دیا جا رہا ۔اہلکاروں کو دو سال بعد بمشکل انسداد پولیو مہمات کا اعزا ز یہ ملتا ہے۔محکمہ پولیس میں کرپشن عروج پر ہے۔ ان افسروں نے کرپشن کے پیسوں سے اسلام آباد، پشاور میں بنگلے کھڑے کئے ہیں انہیں صرف بچوں کی فکر ہے جبکہ پولیس کانسٹیبل اور ان کے اہلخانہ کی کوئی فکر نہیں ۔ ذرائع نے بتایا کہ ان حالات سے دلبرداشتہ پولیس اہلکاروں نے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا سہارا لینا بھی شروع کر دیا ہے۔
گزشتہ دنوں دلبرداشتہ پولیس اہلکاروں کی مبینہ آ ڈیوز وائرل ہو ئی ہیں جن میں ان کی فریاد سنی جا سکتی ہے کہ کبھی تو پولیس افسر اس پر سوچیں کہ یہ پولیس اہلکار کیوں شہید ہورہے ہیں؟َوائرل آڈیوز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پولیو سمیت دیگر مہمات میں پولیس اہلکاروں کو اپنے علاقے میں ڈیوٹیاں دی جائیں۔

مزید دیکھیں :   شاندانہ گلزار کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج