معاشی بحران کی جڑ اخلاقیات کا بحران

امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستانی نژاد دوست اور سیاسی ساتھی ساجد نذیر تارڑنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ پاکستان1950سے اب تک آئی ایم ایف سے بائیس بار قرض لے چکا ہے ۔زلزلوں سیلابوںوبائوں اور دہشت گردی کے نام پر ملنے والی امداد اس کے سوا ہے ۔یہ سلسلہ زیادہ نہیں چلے گا کیونکہ اصل مسئلہ اخلاقیات کا ہے۔امریکن پاکستانی کی اس طنزیہ بات پر ”بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی ” کے سوا اور کیا کہا جا سکتاہے ۔آج پاکستانی معیشت کی جو حالت ہو چکی ہے اس نے ملک کو ایک تماشا بنا دیا ہے ۔حکمران اس درد کے درماں کے لئے ملکوں ملکوں پھر رہے ہیں مگر ہر طرف سے ٹکا سا جواب مل رہا ہے ۔دوست ممالک پہلے آئی ایم ایف سے قرض حاصل کرنے کی مہر ثبت کرانے پر اصرار کر رہے ہیں ۔ایک دوست ملک اپنی قرض کی رقم نکال کر لے گیا جس کے بعد زرمبادلہ کے ذخائر پچہتر برس کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے ۔یہ ان دو ملکوں کے درمیان حالت ہے جن کی معیشت آسمان کی بلندیوں کو چُھو رہی ہے ۔چین اور بھارت دنیا کی مضبوط معیشتوں کے طور پر اُبھر چکے ہیں ۔چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے اور بھارت برطانیہ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بننے کے قریب تر ہے۔پڑوس میں افغانستان نام کا ایک ایسا ملک ہے جہاں ابھی تک عالمی طور پر مسلمہ حکومت نہیں بلکہ ایک طرح کی ملیشیا کی حکمرانی ہے ۔جس کے اثاثے امریکہ سمیت کئی مغربی ملکوں نے منجمد کررکھے ہیں ۔اس کے باوجود یہ ملک معیشت کو سنبھالا دئیے ہوئے ہے ۔ دوسری سمت ایران نام کا ایک ملک ہے جو دہائیوں سے اقوام متحد ہ اور امریکہ سمیت عالمی اداروں اور ملکوں کی اقتصادی پابندیوں کا شکار ہے ۔یہی نہیں امریکہ جیسے طاقتور ممالک ہر لحظہ اس ملک میں رجیم چینج کی تاک میں رہتے ہیں او رموقع ملتے ہی ہاتھ کی صفائی بھی دکھا جا تے ہیں مگر اس کے باوجود ایرانی معیشت پوری طرح اپنے قدموں پر کھڑی ہے اور ایران اپنے پسندیدہ ملکوں سے تجارت بھی کر رہا ہے ۔ایران وافغانستان میں سے کسی بھی ملک کے پاس ایٹم بم نہیں اس کے باوجود وہ اپنے عوام کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑنے کی بجائے انہیں اونر شپ دئیے ہوئے ہیں۔ایسے میں پاکستان کی موجودہ معاشی حالت باعث ندامت ہے۔پاکستان بزبان حال کہہ رہا ہے ”میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں”۔تلاش کا یہ سفر رائیگاں جاتا ہے کیونکہ تمام شہر دستانہ پوش اور معصوم بنا بیٹھا ہے جس پر پاکستان مایوس ہو کر کہتا ہے کہ ” نہیں کہیں بھی نہیں ہے یہاں لہو کا سراغ”۔پاکستان میں ہر گزرتے دن کے ساتھ طبقاتی تقسیم گہری ہوتی رہی ۔یہاں ایک مراعات یافتہ کلاس ہے جو جنم جنم کی خوش حال ہے ۔یوں لگتا ہے حضرت علامہ اقبال نے پاکستان کا خواب اسی کلاس کے لئے دیکھا تھا اور قائد اعظم نے اس خواب کو اسی کی خاطر تعبیر دی تھی ۔ملک کی معیشت گردابوں میں پھنس جائے یا صلیبوں پر جھولتی رہے اس مراعات یافتہ کلاس کی عیاشیاں ختم نہیں ہوتیں ۔جو ہاتھ اس طبقے کی مراعات کی طرف بڑھتا ہے پھر وہ ہاتھ سلامتی کے ساتھ پیچھے نہیں ہٹتا ۔اس طبقے کی مراعات کو چھیڑنا بِھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف ہوتا ہے۔ملکی معیشت پر بہارہو یا خزاں یہ اپنی عیاشیوں اور آسائشوں میں مست ورقصاں رہتا ہے ۔آج جب ملک کی معیشت گھنٹوں کے بل ہے اس طبقے کی عیاشیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔دوسرا طبقہ وہ ہے جسے ماجا گاما کہا جا تا ہے پاکستان کا عام آدمی ۔دیہاڑی دار جو دن کو کماتا شام کو کھاتا ہے ۔اس ملک میں اس فرد کو کوئی سہولت حاصل نہیں یہ اپنی دنیا آپ پید ا کرنے کے کام پر مامور ہے ۔صحت تعلیم ،تجارت سمیت تمام سہولیات اور مراعات پر اس کا کوئی حق نہیں ۔مراعات یافتہ کلاس کو چھینک آئے تو غریب ریڑھی بان کے ٹیکسوں کے پیسے سے اس کاریاست اس کا علاج امریکہ اور لندن کے ہسپتالوں میں کراتی ہے ۔غریب ریڑھی بان کے لئے ریاست کے پاس اسپرین کی گولی بھی نہیں ۔اسے وہ بھی اپنی دن بھر کی کمائی سے خریدنا پڑتی ہے ۔عمران خان نے پہلے بار ملک کے ماجے گامے کو اس ملک کے وسائل اور مراعات میں شریک کرنے کی غلطی کی ۔عمران خان نے صحت کارڈ کے ذریعے ریاست کے عام اور گمنام اور کسی حیثیت اور منصب سے محروم شخص کو صحت کی سہولت فراہم کی ۔آج دنیا بھر کے ماجے گامے چھوٹی سے بڑی بیماری کا علاج اس کارڈ پر کرارہے ہیں مگر مراعات یافتہ طبقے کو غریب شہر کو ملنے والی یہ سہولت پہلے دن سے ہی اچھی نہیں لگی ۔اس لئے سندھ میں اس سہولت کو پہنچنے ہی نہیں دیا گیا اور پنجاب میں اس سہولت کو ختم کرنے کی تدابیر سوچی جانے لگی تھیں ۔اسی طرح سڑکوں چوکوں چوراہوں میں راتوں کو کھلے آسمان تلے پڑے بھوک اور ننگ کا شکار افراد کو سٹیک ہولڈر بنا کر پناہ گاہوں میں لا بٹھایا ۔انہیں عزت سے چھت اور کھانا فراہم کیا ۔اس کا جم کر مذاق اُڑایا گیا اور ٹی وی چینلوں پر بیٹھے کروڑ پتی اشرافیہ اس مذاق بازی میں پیش پیش تھی ۔ظاہر ہے ان کے خیال میں اس ملک کے وسائل پر صرف اعلیٰ کلاس کا حق ہے اور ایک ماجا گاما اس حق میں شراکت دار بن بیٹھے اس جرم کا مرتکب شخص سزا کا مستحق ہے۔ووٹر کی نظروں کو خیرہ کرنے کے لئے مہنگے قرض اور پھر قرض اُتارنے کے لئے اور قرض گویا کہ پاکستان حالات کی ایک دلدل میں دھنستا چلا گیا ۔حکمران کلاس کو اپنے دن اچھے انداز سے گزارنے کا شوق تھا یا اپنی نسلوں کا معاشی مستقبل محفوظ بنانے میں دلچسپی سو و ہ اس مقصد میں کامیاب رہے ۔اس سطحی سوچ اور تنگ نظری کے ساتھ ملک اور آنے والی نسلوں کا سوچنے کی کسی کو فرصت تھی نہ کسی نے یہ زحمت گوارا کی ۔قرض در قرض اور قرض کی ہر قسط سے عیاشی کے معمول نے دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت کو عملی اور تکنیکی طور پر دیوالیہ کر دیا ہے۔آئی ایم ایف بھی قرض دیتے دیتے تھک گیا ہے مگر پاکستان کی حکمران کلاس ہے کہ قرض لیتے لیتے اس کی رگ ِحمیت پھڑکتی ہے نہ کوئی جھجک اور شرم محسوس ہوتی ہے۔اب یہ مرض لادوا ہو کر گیا ہے۔آئی ایم ایف کی شرائط اب کڑی نہیں بلکہ بجلی کی کڑک ہیں ،یہ بجلی عوام کے سروں پر مزید مہنگائی کی صورت میں گرنے والی ہے۔حکمرانوں کا تجربہ حکمت کاری پرکاری اور ویژن سب افسانہ ثابت ہورہا ہے۔معاشی بحران سے بڑا بحران اخلاقی ہے جس کی طرف ساجد نذیر تارڑ نے اشارہ کیا ہے ۔وہ بحران ہے حمیت اور غیرت کا خودی اور خودداری کا حب الوطنی اور خودانحصاری کا ۔جب تک قرض اور زلزلوں اور سیلابوں کے نام پر” من وسلویٰ” کی عادت ختم نہیں ہوتی پاکستان کی بدقسمتی کے دن ختم ہونا ممکن نہیں۔

مزید دیکھیں :   ڈریم پارٹی