غیبی امداد کا استعمال ذرا ایمانداری سے

وزیراعظم شہباز شریف کاکہنا ہے کہ جنیوا کانفرنس میں9ارب ڈالر سے زائد رقم ملنا غیبی امداد سے کم نہیں۔اس امانت کو دیانت داری، شفافیت اور تھرڈ پارٹی آڈٹ سے حق داروں تک پہنچائیں گے۔دریں اثناء سعودی ولی عہد نے پاکستان میں سرمایہ کاری اور ڈپازٹ15 ارب ڈالر تک بڑھانے کی ہدایت کی ہے ۔دوسری طرف جنیواکانفرنس میںعالمی برداری نے پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اسے نو ارب ڈالر سے زائد مالی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے تاہم اسلام آباد حکومت کو ان ممالک کے مطالبات مانتے ہوئے طویل المدتی اصلاحات لانا ہوں گی۔ جس میں دیگر امور کے ساتھ ساتھ سبسڈی میں کمی اور ٹیکس یا محصولات میں اضافے کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ عالمی برادری کی طرف سے پاکستان میں کرپشن کی وجہ سے فنڈز ضائع ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے سربراہ کا کہنا تھاکوئی مفت پیسہ نہیں دیتا، ہر ملک جس نے امداد کا وعدہ کیا ہے پاکستانی حکومت سے توقعات بھی رکھتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امدادی کاموں کے شراکت دار نتائج کی تلاش میں ہوں گے جیسے کہ احتساب ‘وضاحت’ کارکردگی اور شفافیت۔انہوں نے اشارہ دیا کہ ڈونر ممالک ان رقوم کے استعمال اور حکومت پاکستان کی کارکردگی پر مسلسل نظر رکھیں گے۔عالمی ممالک نے ایک مرتبہ پھرپاکستان کو معاشی مشکلات سے نکالنے کے لئے دست تعاون بڑھایا ہے اس کا شفاف استعمال ضروری ہے وزیراعظم نے امداد کی تھرڈ پارٹی آڈٹ اور شفاف استعمال کی جویقین دہانی کرائی ہے اس میں کوتاہی نہیں ہونی چاہئے پاکستان متعدد مرتبہ مالی مدد کی گئی لیکن بدقسمتی سے اس امداد کو مشکلات سے نکلنے کے مقصد کے تحت استعمال کرنے میں ہربار کوتاہی کا مظاہرہ کیا گیا غیر ضروری شعبوں میں استعمال افسرشاہی کی عیاشیاں اوربدعنوانیاں غیر ملکی فنڈزاور امداد کے ضیاع کابڑا سبب چلے آرہے ہیں جس کی اب گنجائش نہیں۔صورتحال کے تناظر میں آئی ایم ایف سے معاملت میںاب تیزی کی ضرورت ہوگی مگر اس کی شرائط پوری کرتے کرتے ملک کے عوام کی جوحالت ہو گئی ہے اور مزید ہونی ہے اس کا تقاضا ہے کہ اب ملک میں تعیشات کی بجائے سادگی اور رقم سینت سینت کر خرچ کرنا پڑے گی یہ جوموقع ہاتھ آیا ہے اسے آخری گردانا جاناچاہئے اوراس سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ 8.7بلین کی امداد اگلے تین سالوں میں دستیاب ہوگی۔ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا کثیرالجہتی امداد قرضوں کی صورت میں ہوگی یا یک وقتی ا مداد اور گرانٹس کی صورت میں ملے گی۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس جنہوں نے اس کانفرنس کی شریک صدارت کی کہا کہ کثیرالجہتی اور دوطرفہ وعدوں کے علاوہ متعدد وفود کی طرف سے ہمدردانہ حمایت کے اعلانات بھی کئے گئے اس کے علاوہ سعودی عرب نے اسٹیٹ بینک کے ساتھ اپنے ذخائرکوتین بلین ڈالر سے بڑھا کر پانچ بلین ڈالر کرنے پرآمادگی کابھی ا شارہ دیا ہے اور ساتھ ہی نقدی کی کمی کا شکارپاکستان کی مدد کے لئے وعدہ شدہ سرمایہ کاری کو دس بلین ڈالرتک بڑھانے کا بھی اعلان کیا ہے ۔تاہم یہ پیش رفت یا کانفرنس میں کیے گئے وعدے پاکستان کے فوری طور پرڈالر کے لیکویڈیٹی کے بحران کوحل نہیں کریں گے جیسا کہ بعض سرکاری عہدیداروں کی طرف سے کہا جارہا ہے۔ملک کوفوری طور پر کثیرالجہتی قرض دہندگان سے متاثرین سیلاب کی بحالی کے وعدے اس وقت تک پورا ہونے کا امکان نہیں ہے جب تک کہ اسلام آباد آئی ایم ایم ایف کے ساتھ اپنے کشیدہ تعلقات کوٹھیک نہیں کرتا۔ وزیراعظم نے آئی ایم ایف سے معاشی اصلاحات کے اپنے سخت ‘ مطالبات میں ایک توقف کی درخواست کی ہے بشمول سنگل مارکیٹ پر مبنی شرح تبادلہ ‘ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور ٹیکسوں میں اضافہ کے طور پرتاہم امکانات یہ ہیں کہ فنڈ اپنی موجودہ پوزیشن سے زیادہ نہیںہٹے گا۔آئی ایم ایف کے فیصلوں پرنمایاںاثررکھنے والے کچھ مغربی مندوبین نے بھی کانفرنس میں پاکستان پرزور دیا کہ وہ آئی ایم ایف پروگرام کے نویں جائزے کوتیزی سے مکمل کرنے کے لئے میکرو اکنامک اصلاحات کونافذ کرے تاکہ نہ صرف سیلاب سے بحالی کے اخراجات میںحکومت کے اپنے تعاون کے لئے مالی گنجائش پیدا کی جائے بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا جا سکے کہ اس کے بین ا لاقوامی شراکت داروںاور سرمایہ کاروں کے درمیان اعتمادبھی پیدا ہو جس سے واضح طور پراس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ زیادہ تروعدہ کردہ کثیر الجہتی اور دو طرفہ فنڈز کی تکمیل کاانحصار آئی ایم ایف پروگرام کے دوبارہ شروع ہونے پر ہوگا۔ یہ کہ جینوا کانفرنس میں فنڈ ریزنگ وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے مانگے گئے آٹھ بلین ڈالرکی توقعات سے زیادہ حوصلہ افزاء ہے بہرحال وزیر اعظم اوران کی اقتصادی ٹیم کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ایک پائیدار بین الاقوامی امدادی منصوبہ اس وقت تک دستیاب نہیں ہو گا جب تک کہ ملک طویل عرصے تک اصلاحات پرٹھوس اقدامات نہیں کرتاوزیراعظم نے کانفرنس کو بجاطور پر کہا کہ ان کا ملک بڑی ضرورتوں سے نمٹنے کے لئے وقت کے خلاف دوڑ رہا ہے لیکن یہ دوڑ محض اصلاحاتی ایجنڈے کے ساتھ عزم کو دہرانے سے نہیں جیتی جا سکتی۔

مزید دیکھیں :   ''حیات شیرپاؤ۔۔سیاست سے شہادت تک''