سعودی عرب کا قانون

سعودی عرب کی ملکی شہریت دینے کے قانون میں بڑی تبدیلی

ویب ڈیسک :سعودی عرب میں شہریت دینے کے قانون آرٹیکل 8 میں ترمیم کردی گئی جس کے تحت شہریت دینے کا اختیار ولی عہد کو دے دیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق سعودی عرب میں شہریت دینے کے قانون میں ترمیم کے بعد اب شہریت دینے کا اختیار ولی عہد اور وزیر اعظم کے پاس چلا گیا ہے ، اس حوالے سے وزیرداخلہ صرف تجویز کرسکیں گے اور شہریت دینے یا نہ دینے کا فیصلہ ولی عہد ہی کریں گے۔اس قانون کے تحت سعودی شہریت غیر ملکی باپ اور سعودی ماں کے بچے کو ملک میں پیدا ہونے پر چند شرائط مکمل کرنے پر دی جا سکے گی۔
شرائط میں شہریت کیلئے قانونی عمر کو پہنچنے، مملکت میں مستقل رہائش، اچھے اخلاق و کردار کا ہونا اور کسی جرم میں ملوث نہ ہونا شامل ہے۔علاوہ ازیں شہریت کے حصول کے درخواست گزار کو کسی بے حیائی کے جرم میں چھ ماہ سے زیادہ کی قید کی سزا نہ دی گئی ہو اور وہ عربی زبان پر عبور رکھتا ہو اور روانی سے بول بھی سکتا ہو، کی شرط شامل کی گئی ہے

مزید دیکھیں :   وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا معیشت پر عمران خان کو لائیو مناظرے کا چیلنج