پنجاب اسمبلی توڑنے کی سمری ارسال،عمران خان کاحکم ملتے ہی،پختونخوااسمبلی توڑنے کی،ایڈوائس بھیج دونگا،محمودخان

ویب ڈیسک :وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے اسمبلی توڑنے کی سمری پر دستخط کردیے جبکہ خیبر پختونخوا اسمبلی کی تحلیل پنجاب اسمبلی توڑنے کے بعدہوگی۔لاہور میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا جس میں مرکزی قیادت نے اسمبلی فوری تحلیل کرنے کی رائے دی۔اجلاس کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کی عمران خان سے ملاقات ہوئی جس میں اسمبلی توڑنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ نے پنجاب اسمبلی توڑنے کی سمری پر دستخط کردیے ہیں، پنجاب اسمبلی تحلیل کی ایڈوائس گورنر پنجاب کو بھجوا دی گئی ہے، گورنر اسمبلی تحلیل نہیں کرتے تو 48 گھنٹے میں اسمبلی خود تحلیل ہوجائے گی۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہم مسلم لیگ ق، پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کا شکریہ ادا کرتے ہیں، نگران حکومت کے قیام کے لیے اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو خط لکھنے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح سے ہم خیبر پختونخوا اسمبلی کو بھی تحلیل کریں گے، دونوں صوبوں میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔فواد چوہدری نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کو اپنے بل سے باہر آنا چاہیے
سپیکرکوبھی کہہ رہے ہیں ہمارے استعفے قبول کریں۔دوسری طرف وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمودخان کا کہنا ہے کہ عمران خان کے حکم کا انتظار کر رہا ہوں، حکم ملتے ہی اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس گورنر کو بھیج دوں گا۔محمودخان نے ایک ٹی وی ے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا سپاہی ہوں عمران خان کی ہدایت پرمکمل عملدرآمدہوگا۔علاوہ ازیں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ پنجاب کے بعد خیبر پختونخوا اسمبلی کی تحلیل کیلئے ہفتے کو سمری بھیجے جانے کی توقع ہے۔بیرسٹر سیف نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کی تحلیل کیلئے سمری گورنر پنجاب کو بھیج دی گئی ہے، سمری پر گورنر پنجاب کے دستخط کا انتظار ہے۔بیرسٹر سیف نے کہا کہ ہفتے کو خیبرپختونخوا اسمبلی کی تحلیل کیلئے گورنر کو لکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کوئی مسئلہ نہیں، ہم پنجاب اسمبلی کی تحلیل کا انتظارکریں گے
 کے پی اسمبلی تحلیل ہونے پر اپوزیشن لیڈراکرم خان درانی کو نگران وزیراعلیٰ کے تقررکے لیے خط بھی لکھا جائے گا۔بیرسٹر سیف نے مزید کہا کہ اب امپورٹڈ حکومت کے پاس نئے انتخابات کرانے کے سواکوئی چارہ نہیں ہے۔دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے کہا کہ میں آج بھی اپنے موقف پر قائم ہوں کہ اسمبلیاں نہیں ٹوٹنی چاہئیں، پنجاب اسمبلی کو تحلیل کرنے بارے خبروں کی اطلاع ملی، یہ عوام اور ملک دونوں کے ساتھ زیادتی ہوگی،  ہمیں ملک کے حالات کو دیکھتے ہوئے صبر و تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، یہ انا پرستی کسی طور بھی عوامی مفاد میں نہیں ہے۔حاجی غلام علی نے مزید کہا کہ  میرا ذاتی مشورہ تو اسمبلیاں تحلیل نہ کرنے کا ہے، لیکن اگر خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ بھی یہ حق استعمال کرتے ہیں تو جو ہوگا وہ آئینی طور پر ہوگا۔

مزید دیکھیں :   افغان مہاجرین سے متعلق پالیسی پرنظرثانی کافیصلہ