بند گلی سے بچنا بھائیو

تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر اطلاعات و قانون فواد حسین چودھری کا کہنا ہے کہ "عمران خان کو مائنس کرنا ہے تو مارشل لا لگایا جائے” ۔ ان کے اس بیان پر صرف سنجیدہ فہم حلقوں کو ہی نہیں عام شہریوں کو بھی حیرانی ہوئی۔ چوتھے فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے توسط سے سیاسی عمل کا حصہ بننے والے فواد حسین چودھری مارشل لائوں کے مصائب اور نتائج دونوں سے آگاہ نہیں یا پھر انہوں نے اس سطحی بات کو زبان دیتے وقت سوچنے سمجھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی؟ یہ امر کسی سے مخفی نہیں کہ خود پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان بھی ماضی کے فوجی ادوار کے لئے پسندیدگی نہیں چھپاتے وہ تواتر کے ساتھ ایوب اور مشرف کے دور کو مثالی ادوار کے طور پر یاد کرتے رہتے ہیں ۔ جہاں تک کسی جماعت اور اس کے سربراہ کو مائنس کئے جانے کا سوال یا کہیں کوئی منصوبہ ہے تو ہر دو غلط ہی قرار پائیں گے۔ ماضی میں بھی جب کبھی ہتھکنڈوں، سازشوں، نظریہ ضرورت اور مارشل لا لگاکر کسی سیاسی جماعت یا رہنما کو مائنس کرنے کے منصوبے پر عمل ہوا اس کا نتیجہ خواہشات کے اسیروں کے گلے ہی پڑگیا۔ یہ کہنا کہ عمران خان پر 50سے زائد مقدمات ہیں تو اسی طرح کے مقدمات دوسرے سیاستدانوں کے خلاف بھی موجود ہیں وہ بھی عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کررہے ہیں ۔ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو بھی عدالتوں میں ان مقدمات کو غلط ثابت کرنا چاہیے۔ پنجاب میں جاری سیاسی بحران کے دنوں میں طرفین کے بعض بیانات اور بڑھکوں پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ فواد چودھری ایک سیاسی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں ان کے تین چچا لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس، وفاقی وزیر اور پنجاب کے گورنر رہے۔ پچھلے 2عشروں سے وہ بھی ملکی سیاست میں سرگرعمل ہیں مناسب ہوگا کہ وہ بیان دینے سے قبل سوچ لیا کریں کہ جو کہنے جارہے ہیں ان کا عمومی تاثر کیا ہوگا اور یہ کہ ان کے بیانات سے مخالفین کے اس موقف کی تائید تو نہیں ہوگی کہ تحریک عدم اعتماد کے ذریعے پچھلے برس اپریل میں ختم ہونے والی پی ٹی آئی کی حکومت کا مستقبل کے حوالے سے منصوبہ بعض شخصیات اور اداروں کے تعاون سے ایسے نظام اور حکومت کی تشکیل تھا جو پارلیمانی جمہوریت کی ضد ہو خود عمران خان بھی ایک سے زائد بار صدارتی نظام کی بات کر چکے ۔ سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کو بڑبولے پن اور ہر منہ آئی بات اچھالنے کی بجائے سنجیدگی کے ساتھ چار مارشل لائوں کے ادوار میں پیدا ہوئے مسائل پر غور کرنا چاہیے۔ فواد چودھری اور دیگر سیاستدان اس تلخ تاریخی حقیقت سے منہ نہیں موڑ سکتے کہ قیام پاکستان کے ابتدائی 9سال اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی مجرمانہ کوششوں میں ضائع کردیئے گئے۔ 10برسوں پر پھیلے ایوبی مارشل لا نے ون یونٹ کے ا صول پر عمل کرنے سے گریز کیا جس کی وجہ سے مشرقی پاکستان میں وفاق گریز قوتوں کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ اکثریتی صوبے مشرقی پاکستان کو وفاقی محکموں، اداروں اور خود وفاقی حکومت میں اس ون یونٹ کے طے شدہ تناسب سے حصہ نہ ملنے کی بدولت ان محرومیوں نے جنم لیا جن کی وجہ سے آگے چل کر بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آیا ۔ بنگلہ دیش کے قیام کی وجوہات کے حوالے سے ہمارے سرکاری اور صالح تاریخ نویس جو مرضی کہتے لکھتے رہیں تلخ حقیقت یہی ہے کہ بانیان کے ساتھ ساتھ مغربی پاکستان کی سیاسی اشرافیہ اور بالادست سول ملٹری بیوروکریسی کے غیر مساویانہ طرز عمل نے ناراضگی کے جو بیج بوئے آگے چل کر وہ نفرتوں کی کھیتیوں میں تبدیل ہوگئے ۔ دوسرے مارشل لا کے لیگل فریم ورک آرڈر سے خود اس کے پیش کار نے انحراف کیا حالانکہ انہیں چاہئے تھا کہ ایل ایف او کے تحت ہوئے انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرتے لیکن ان کی خواہش تھی کہ انہیں صدر مملکت کے منصب پر فائز رکھنے کے اتفاق رائے کا دونوں طرف کی قیادت تحریری طور پر اعلان کرے جو کہ بہر طور نہ ہو پایا اس کے بعد جو ہوا وہ ہماری تاریخ کا سیاہ باب ہے ۔ تیسرے مارشل لا نے پاکستان کو امریکہ سوویت جنگ میں مہرہ بناکر رکھ دیا۔ اس پالیسی کے تباہ کن نتائج پاکستان آج تک بھگت رہا ہے۔ چوتھے فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کا آئین سے ماورا اقدام پاکستان کے لئے جو مصیبتیں لے کر آیا وہ اب بھی جوں کی توں ہیں۔ فواد سمیت سب کو یہ بات ذہن نشین کرلینا چاہیئے کہ مارشل لا سے کبھی کوئی سیاسی جماعت ختم نہیں ہوئی۔ ماضی میں کسی رہنما کو مکمل مائنس کرنے کا جو راستہ اختیار کیا خدا نہ کرے اس طرح کا راستہ اب کسی کو مائنس کرنے کے لئے اختیار کیا جائے۔ ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کو جس طرح مائنس کیا گیا اس کے تباہ کن اثرات آج بھی بہت واضح ہیں۔ عمران خان اس ملک کے سابق وزیراعظم اور ایک بڑی جماعت کے سربراہ ہیں ان کے خیالات اور طرز سیاست سے ہر کس و ناکس کو اختلاف کا حق ہے لیکن اگر انہیں کسی بھی طرح مائنس کرنے کا کوئی منصوبہ کہیں زیرغور ہے تو نہ صرف اس کی تائید نہیں کی جاسکتی بلکہ یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ ماضی کے نتائج کسی قسم کے منصوبہ سازوں کو سامنے رکھنا چاہئیں۔ یہ امر بہرطور صائب ہے کہ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے خلاف جو مقدمات ہیں ان کی شفاف تحقیقات اور عدالتی عمل بہت ضروری ہیں۔ ہم مکرر اس امر کی جانب توجہ دلائیں گے کہ مارشل لا یا ماہرین ( ٹیکنوکریٹس ) کی حکومت مسائل کا حل ہرگز نہیں مسائل کا حل سیاسی استحکام میں ہے۔ سیاسی عدم استحکام سے سب سے زیادہ معیشت متاثر ہوتی ہے۔ فی الوقت معیشت کی جو صورتحال ہے وہ درون سینہ راز ہرگز نہیں۔ یہ بھی بدقسمتی ہے کہ اس معاشی ابتری میں اپنے حصے کی ذمہ داری لینے کی بجائے پی ٹی آئی کے رہنما دوسروں کو رگیدتے رہتے ہیں۔ بادی النظر میں ملک میں مارشل لا کے کوئی آثار ہیں نہ ایسے معروضی حالات ہیں جو اس ماورائے آئین اقدام کا سہولت کار بن سکیں۔ سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین کو بھی چاہیے کہ سنجیدگی کے ساتھ ملک کو اشرافیائی جمہوریت کی بجائے عوامی جمہوریت کی طرف لے جانے کے لئے کوششیں کریں۔ پارلیمانی جمہوریت ، مساوات، بلاامتیاز انصاف ،غیرامتیازی احتساب ہی استحکام پاکستان کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ سیاسی قائدین شرلیاں چھوڑنے کی بجائے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں تو ان کی توقیر دوچند ہوگی۔ حرفِ آخر یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کو افہام و تفہیم کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے لولے لنگڑے جمہوری نظام میں بھی تحمل و برداشت کے ساتھ آگے بڑھا جاسکتا ہے نظام اور سیاسی عمل کو بندگلی میں لیجانے والے عوام اور تاریخ کے مجرم ہی کہلائیں گے۔

مزید دیکھیں :   ضم اضلاع کے عوام کی محرومیاں