آلودگی اور مریضوں کا ترک علاج

بعض مہربان قاری اس تسلسل سے عوامی مسائل کی طرف توجہ دلاتے ہیں اورامید بھی رکھتے ہیں کہ ان کی جانب سے کالم میں اگر صدا دی جائے تو سنا بھی جائے گااور مسئلے کا حل بھی تلاش کرنے کی سعی ہوگی بہرحال ہمارا کام تو بس ان کی آس کی ڈور کوٹوٹنے نہیں دینا ہے اچھی بات یہ ہے کہ بہت سی چیزوں کی نشاندہی ہونے پراس پرتوجہ کی بھی شنید ہوتی ہے اس سے بھی آگاہ کرنے کی ذمہ داری وہی انجام دیتے ہیں کچھ عرصہ قبل کے ڈی اے کوہاٹ بائی پاس کی سڑک کی حالت زار کابیان ہوا تھا اب اس پر کام تو شروع کردیا گیا لیکن کام معیاری اور تسلی بخش نہ ہونے کی شکایت کی گئی ہے ہمارے ایک قاری کے مطابق مبینہ طور پر تارکول کے کم استعمال یاپھر سڑک کی ناہمواری یاپھرناقص تعمیرکے باعث ایک جانب سڑک بننے اور دوسری جانب گڑھے پڑنے کا عمل بھی ساتھ ساتھ جاری ہے ممکن ہے سڑک کی تعمیر کی مدت اور محکمے کو حوالگی کے دوران نقائص کو دور کرنے کے بعد ہی سڑک محکمے کے حوالے ہو گی اورٹھیکیدارکوادائیگی اس وقت ہی ہو گی جب سڑک کی تعمیر کا معیارقابل قبول ہواس ضمن میں توجہ کی بہرحال ضرورت ہے ۔اس امر کا جائزہ لیا جائے کہ خامی کیا تھی کہاں کہاں تھی اور اس کو دور کیسے کیا جائے ۔ دوسرے جس سنگین مسئلے کی نشاندہی کی گئی ہے وہ رنگ روڈ پرباڑہ پل کے قریب کینال روڈ کے چاروں طرف کرش مشینوں کی بے تحاشہ موجودگی ہے جس کے باعث پورا علاقہ بری طرح آلودگی کا شکار ہے علاقے کے عوام کا اس ماحول میں بیماریوں کا شکار ہونا فطری امر ہے صرف ارد گرد کے علاقے ہی اسی طرح کے ماحول سے متاثر نہیں ہورہے ہیں بلکہ ہوا ان ذرات کو بہت دور تا حد نظر تک لے جاتی ہے اور یوں بہت سارا علاقہ متاثر ہوتا ہے پاکستان میں ماحولیاتی آلودگی کے بڑے ذرائع میں کرش مشینوں کاشمارہوتا ہے اب اس مسئلے کاکیا حل ہے اور کس طرح سے کام کیا جائے کہ آلودگی نہ پھیلے اور ماحول کم سے کم آلودہ ہو اس کا بھی آخر کوئی حل اور کوئی طریقہ ہو گاجسے اختیار کیاجانا چاہئے ۔ ماحولیاتی آلودگی کے عالمی اثرات اور تباہ کاریاں اب عام ہوتی جارہی ہیں امریکا اورجاپان میں شدید برفانی طوفان اور شدید برفباری سعوی عرب اورملائشیاء میں سیلاب پاکستان میں بدترین سیلاب گلیشیر پگھلنے اور پھٹنے سے پیدا شدہ وقتی صورتحال اور مستقبل میں برف کے ذخائر کے خاتمے سے پیدا ہونے والی صورتحال اور خشک سالی و قحط سالی کے خطرات یہ سارے عوامل ایک دوسرے سے پیوست اور نتھی ہیں عالمی حدت میں اضافہ اور سردی میں بھی اضافہ ہر دو مسئلے اور اس سے پیدا شدہ حالات اور صورتحال آبادی اور کرہ ارض کے لئے خطرات کا باعث ہیں اس پر جس قدر توجہ دی جائے عالمی اقدامات کئے جائیں کم ہوں گے اس ضمن میں انفرادی شعور کو اجاگر کرنے کا بھی طریقہ اپنایا جانا چاہئے ۔ مہنگائی قلیل آمدن میں گزارہ نہ ہونے کی شکایات تو معمول کے مطابق ہوتی رہتی ہیں عام طور پرہم اس طرح کا تاثر لیتے ہیں کہ لوگوں کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے وہ اپنی جگہ حقیقت ہے مہنگائی سے مزید کون کونسے شعبے متاثر ہوئے ہیں اور عام آدمی کو کہاں کہاں مشکلات کا سامناہے اس کی ایک جھلک ایک اور قاری کے ارسال کردہ پیغام میں واضح ہے ۔ایک سینئر ڈاکٹر کی جانب سے علاج معالجے کی صورتحال ذاتی تجربے اور اعداد وشمار کی روشنی میں جو آگاہی دی گئی ہے وہ نہایت تشویشناک اور چشم کشا ہے موصوف کا تعلق امراض دماغی و پیوستہ عوارض سے ہے انہوں نے بتایا ہے کہ اس شعبے کے مریضوں کی تعداد اور علاج معالجے کے لئے ہسپتالوں اور کلینکس سے رجوع کرنے کی شرح اچھے وقتوں میں بھی کبھی حوصلہ افزا نہیں رہی امراض دماغی نفسیات وجلدی بیماریوں کو کم ہی سنجیدگی سے لینے کا رواج ہے اس کے باوجود ڈبگری گارڈنز اور ارد گردکے میڈیکل سنٹرز میں ماہر ڈاکٹروں کے پاس مریضوں کاایک ہجوم رہتا تھا نفسیات اور دماغی امراض کے ماہر ڈاکٹروں کا تو نمبرملنا دشوار تھا ہفتہ بھر بھی مریضوں کو انتظار کرنا پڑتا تھا اب بلامبالغہ بعض اوقات ان ڈاکٹروں کے کلینک میں دن میں ایک مریض بھی نہیں آتا اورڈاکٹرز اپنے عملے سے پوچھنے لگتے ہیں کہ فلاں ڈاکٹر نے آج کتنے مریض دیکھے واضح رہے کہ نفسیات ارو امراض دماغی کے مریضوں کے علاج معالجے کا سلسلہ سالوں چلتا ہے ڈپریشن ‘ مرگی اور اس طرح کے امراض کے سالوں علاج کے بعد ہی کہیں جا کر بہتری آتی ہے مکمل صحت یابی علاج سے کم ہی ہوتی ہے اکا دکا یہ الگ بات ہے ۔ حالات کے تناظر میں تو ڈپریشن کے مریضوں میں اضافہ ہونا چاہئے ویسے بھی حقیقت یہ ہے کہ نت نئی وجوہات اور عوامل ذہنی امراض میں اضافے کا باعث بن رہے ہیںباقاعدہ تحقیق سے اعداد وشمار کی روشنی میں ان امراض میں اضافہ کی تصدیق ہوتی ہے مگر مریضوں کی کم تعداد کا علاج کے لئے رجوع حالات ہی نظر آتے ہیں علاج جیسے بنیادی ضرورت بھی اگرپوری نہ ہو رہی ہو تواندازہ لگائیے کہ غربت کا کیا عالم ہو گیا ہے بدقسمتی سے محولہ امراض میں چونکہ آپریشن اور داخلہ کم ہی ہوتا ہے جس کی بناء پر ان مریضوں کا علاج صحت کارڈ سے بھی ممکن نہیں ان کو مفت علاج کی ضرورت ہے اور وہ عین مستحق ہیں مگر ایسا ہو نہیں رہا اس سے آگے کچھ لکھنے کی ہمت نہیں۔
بی آر ٹی کے مزید فیڈر روٹ شروع نہ ہونے پر منتظر عوام کی مایوسی فطری امر ہے ۔ اعلان کے مطابق دسمبر یعنی گزشتہ سال کے آخری ماہ کے اوائل میں عوام کو روٹ شروع کرنے کا جو مژدہ سنایاگیا تھ اس پر عملدرآمد نہ ہو سکا اب تک صرف ایک روٹ ہی فعال ہوسکا ہے جس پرعوام کی جانب سے مایوسی کا اظہار ہونے لگا ہے کوشش ہونی چاہئے کہ حکومت اپنا وعدہ پورا کرے اور جتنے بھی فیڈر روٹس پرگاڑیاں چلانے کا وعدہ کیاگیا تھا وہ ایفاکیا جائے ۔ بی آر ٹی کے حوالے سے ابھی تک کوئی منفی بات سامنے نہیں آئی تھی لیکن اب ایک قاری کے واٹس ایپ مسیج کے مطابق بی آر ٹی میں صفائی کی صورتحال پر پہلے کی طرح توجہ نہیں دی جارہی ہے نیزسٹیشنز پرہڑبونگ اور قطاریں نہ بنانے کا عمل بھی نظرآنے لگا ہے معمر مسافروں کو لائن میں کھڑے ہو کر دھکم پیل سے گاڑی میں سوار اوراترتے وقت کی دھکم پیل کے باعث سخت مشکلات کا سامنا ہے بعض مسافروں کی یہ شکایت بھی قابل توجہ ہے کہ بعض اوقات مقررہ سٹیشنز اور فاصلے کے مطابق کرایہ کٹنے کی بجائے پچاس روپے کرایہ کٹنے لگا ہے جومسافروں سے ناانصافی تو ہے ہی اس سے نظام میں بھی گڑ بڑ کی نشاندہی ہوتی ہے اب اس زاید وصولی کوکس کھاتے میں ڈالا جائے اس کا فیصلہ صورتحال کی وجہ جانے بغیر نہیں ہو سکتا بہرحال یہ معمولی نقص اور فنی خرابی نہیں روزانہ کے چار پانچ لاکھ مسافروں کے حقوق کا مسئلہ ہے اس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔
قارئین اپنے پیغامات 03379750639 پر واٹس ایپ ‘ کر سکتے ہیں

مزید دیکھیں :   ضم اضلاع کے عوام کی محرومیاں