مشرقیات

مسافر کی آواز سن کر گھر کی بی بی باہر آئی۔ مسافر نے پوچھا۔۔ تمہارے میاں گھر پر ہیں؟ جواب ملا نہیں ۔ پوچھا کہاں گئے ہیں؟ جواب ملا روزی کی تلاش میں باہر گئے ہیں۔
مسافر کی عمر لگ بھگ سو برس کی تھی چہرے پر نور ‘ چال ڈھال میں وقار اور بات کرنے میں بڑی متانت تھی ‘ اس لئے مسافر جو کچھ پوچھتا گیا وہ بی بی بتاتی گئی ۔ یہ اب سے چار ہزار برس پہلے کاقصہ ہے۔
مسافر نے اس بی بی سے پوچھا۔۔۔ بتائو تمہاری کیسی گذرتی ہے ؟ گھر کا کیا حال ہے ؟ جواب ملابڑی بری گزرتی ہے زندگی کیا ہے مصیبت ہے ۔ کچھ لوگ ہوتے ہیں ناشکری ان کی عادت ہوتی ہے مرد ہو کہ عورت جس سے ناشکری کی عادت ہوگی وہ ہمیشہ جی ہی جی میں جلتا رہے گا اور کبھی زندگی خوشی سے نہ گزار سکے گا اس لئے اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قناعت کی عادت ڈالو یہ بہت بڑی نعمت ہے ‘فطرت کا اصول صاف ہے ”کہ آدمی جتنی کوشش کرے گا اتنا اسے پھل ملے گا یہ جو لوگوں میں کوئی کامیاب اور کوئی ناکام ہے ‘ تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ کوئی اللہ کا پیارا اور کوئی اس کا معتوب ہے وہ روزی رساں تو کیڑے کو پتھر میں بھی روزی پہنچاتا ہے اور رزق کے معاملے میں وہ کافرو شرک مرتد اور متقی میں کوئی تمیز نہیں کرتا وہ تو کہتا ہے جو محنت کرے گا پھل پائے گا یہ بات اس کی شان ربوبیت کی مظہر ہے دنیا کا طریقہ یہ ہے کہ میاں بیوی مل کر گر ہستی کرتے ہیں ‘ اگر میاں کی آمدنی کم ہو تو ناک بھوئوں چڑھانا ناخوش رہنا بری بات ہے ۔ مسافر نے جب دیکھا کہ گھر کی بی بی میاں کی طرف سے بیزاری کا اظہار کر رہی ہے تو کہا۔۔ اچھا میں تو جاتا ہوں ‘ جب تمہارے میاں آجائیں تو انہیں میرا سلام کہنا اور کہنا کہ اپنے گھر کی چوکھٹ بدل دے میاں شام کو گھر پہنچا تو بیوی نے یہ بات اسے کہہ سنائی میاں نے کہا۔۔ وہ مسافر کوئی اور نہیں ‘ میرے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے ۔
حضرت ابراہیم نے جب حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو وادی غیر ذی زرع میں بسا دیا تو وہ جب موقع ملتا انہیں دیکھنے جاتے تھے کچھ دنوں بعد ایک مرتبہ اور وہ اپنے فرزند دلبند حضرت اسماعیل علیہ السلام سے ملنے گئے اتفاق سے حضرت اسماعیل علیہ السلام پھر موجود نہ تھے گھر کی بی بی کو انہوں نے بلوایا ‘ پوچھا۔۔ تمہارے میاں کہاں ہیں؟جواب ملا۔۔۔ روزی کی تلاش میں گئے ہیں پوچھا۔پوچھا کیسی گزرتی ہے جواب ملا۔۔ اللہ کا شکر ہے ‘ اچھی گزران ہوتی ے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بغیر یہ بتائے کہ وہ کون ہے کہا ۔۔ وہ لوٹ کے آئے تو میرا سلام کہنا اور کہنا کہ اپنی چوکھٹ سنبھال کے رکھے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اللہ کا شکر ادا کیا فرمایا وہ میرے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے وہ تم سے مل کر خوش ہوئے انہوں نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہاراخیال رکھوں تم سے پہلے کی بیوی کو انہوں نے چھوڑ دینے کا حکم دیا تھا میاں بیوی دنوں نے اس موقع پراللہ کا شکر ادا کیا ۔ حکم ربانی ہے ”ترجمہ” اور ہمارا شکر ادا کرتے رہو اور ناشکری نہ کرو۔۔ صبر و شکر بڑی نعمتیں ہیں ان سے زندگی خوشگوارہوتی ہے ۔

مزید دیکھیں :   معیشت کی قیمت پر سیاست