کس سے کریں وفا کی طلب اپنے شہر میں

سرسیداحمدخان یاد آگئے ‘ جنہوں نے علی گڑھ جیسا ادارہ قائم کرنے کے لئے سٹیج پر گھنگروپہن کرمسلمانان ہند سے چندہ مانگا ‘ اور اس واقعے کو یاد آنے کی وجہ مسلم لیگ نون کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کاایک بیان ہے جس کے ذریعے انہوں نے بعض عاقبت نااندیشوں کوآئینہ دکھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری پاکستان کے لئے پیسے مانگ رہے ہیں ‘ جس پرانہیں فخر ہونا چاہئے’ ایک بیان میں چوہدری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیرخارجہ بلاول بھٹو کوہر روز فقیر کہہ کر پکارا جا رہا ہے گداگری کا الزام لگانے والے ایسا کرکے اپنے آپ کو بڑا سمجھ رہے ہیں حالانکہ تاریخ کے اوراق پلٹ کردیکھیں تو جب انگریزوں نے مغلیہ سلطنت ختم کرکے ہندوستان پراپناقبضہ مستحکم کیا تومسلمانوں کے خلاف ایک تو خود انگریزوں نے معاندانہ رویہ اس لئے اختیارکیا کہ انہوں نے سلطنت بھی مسلمانوں ہی سے چھینی تھی اور دوسرے یہ کہ ہندوئوں نے انگریزوں کابھرپور ساتھ دیاتھا اور برصغیرپرقبضے کے بعد ہندوئوں کی ”دستگیری” کی خدمات کے عوض انہوں نے ہندوئوں کی ہرطرح سے سرپرستی کرتے ہوئے مسلمانوں کو راندہ درگاہ بنانے کی پالیسی اختیارکی ‘ ہندوئوں نے بھی مسلمانوں کی صدیوں تک برصغیرپرحکمرانی کے خلاف اپنی نفرت اورغصہ نکالنے کے لئے انگریز کی ہرمیدان میں تقلید اختیار کرنی شروع کی ‘ یہاں تک کہ جب مسلمانوں کی تعلیمی درسگاہوں کے خلاف ا نگریزوں نے نفرت انگیزمہم شروع کرکے ان پرقدغن لگانی شروع کردیں ‘ سرکاری زبان فارسی کی جگہ انگریزی زبان رائج کرکے سکول کالج قائم کئے تو مسلمانوں نے ایک عرصے تک ان سے کوئی تعرض نہیںکیا’لیکن ہندوئوں اوردیگر غیرمسلموں نے انگریزی ذریعہ تعلیم سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے اپنے بچوں کو ان سکولوں ‘ کالجوں سے تعلیم دلوانا شروع کردی اور یوں اعلیٰ مناصب پر ہندوئوں کا قبضہ ہوتا چلاگیا ‘ جبکہ مسلمان زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ‘ تب سرسید احمد خان کوجنہیں انگریزی دربار میں بوجوہ رسائی حاصل تھی ‘ اس صورتحال کااحساس ہوا ‘ اورانہوں نے مسلمانوں کو ترغیب دی کہ اگرانہیں برصغیر میں باعزت زندگی گزارنی ہے تو انہیں بھی انگریزی
ذریعہ تعلیم کو اپنانا ہو گا ‘ ان پر اگرچہ بہت سی تہمتیں لگیں ‘ مگر وہ مسلمانوں کی حالت زار پردل گرفتہ تھے اورباقاعدہ انگریزی ذریعہ تعلیم کواپنانے کے لئے جدوجہد کرتے رہے ‘ اورجب بالآخر انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام کا فیصلہ کیا تو مسلمانان برصغیرسے چندہ مانگنے کی مہم کے دوران ایک بار وہ جلسے سے خطاب کرنے آئے تو انہوں نے یہ کہہ کر کہ مسلمان بہت لہب و لعب پر توجہ خرچہ کر لیتے ہیں ‘ مگراپنے بچوں کے مستقبل پرکوئی توجہ نہیں دیتے ‘ اس لئے آج میں پائوں میں گھنگرو باندھ کرسٹیج پر ناچوں گا تاکہ وہ جس طرح ناچنے والیوں پر دولت لٹاتے ہیں ‘ مجھے بھی ایک طوائف سمجھ کر روپوں کی بارش کر دیں ‘ اور جب انہوں نے
سٹیج پرناچنا شروع کیا تومسلمانوںکوغیرت آئی اور انہوں نے سرسید کو روک کران پربے پناہ دولت نچھاور کر دی ‘ اس کے بعد وہ جہاں بھی جاتے انہیں چندے میں لوگ روپے جبکہ خواتین اپنے زیور پیش کردیتیں ‘ یوں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیااور کہا جاتا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا قیام دراصل تحریک پاکستان کی بنیاد قرار پایا اس کے بعد پورے برصغیر میں مسلمانوں نے انگریزی ذریعہ تعلیم سے استفادہ کرکے ہندوستان میں اپنا مستقبل محفوظ بنایا’ بقول سلیم کوثر
سائے میں بیٹھی ہوئی نسل کو ہے کیا معلوم
دھوپ کی نذر ہوئے پیڑ لگانے والے
سرسید کی برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ناچ کرچندہ مانگنا آج ایک استعارہ بن کر ہمارے سامنے ہے ‘ اب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کے ساتھ پاکستان کے دیگر اکابرین نے حالیہ سیلاب سے ہونے والی تباہی ‘ بربادی اورعوام پرپڑنے والی افتاد سے نمٹنے کے لئے جینوا میں منعقد ہونے والی عالمی کانفرنس میں جس طرح پاکستان کا مقدمہ لڑا ‘ جس پر توقع سے کہیں زیادہ مثبت ردعمل دیکھنے کو ملا اس پرملک کی ایک سیاسی جماعت ‘ جو حکومت پر بھیک مانگنے کی تہمت باندھتے ہوئے منفی پروپیگنڈہ کرکے یہ توقع لگائے بیٹھی تھی کہ عالمی برادری ملک کو کچھ نہیں دے گی اور یوں اس کی سوچ کے مطابق بالاخر ملک(خدانخواستہ) ڈیفالٹ کر جائے گا ‘ سخت مایوسی سے دو چار ہے اور جس طرح عالمی برادری نے پاکستان کے مسائل کا ادراک کرتے ہوئے بڑھ چڑھ کر بلکہ توقعات سے کہیں زیادہ امداد کااعلان کیا ہے اس سے نہ صرف پاکستان کے ڈیفالٹ کرنے کا خطرہ ٹل گیا ہے بلکہ سیلاب متاثرین کی بحالی کا کام بھی جلد شروع ہوجائے گا۔ بدبختی مگر ہماری یہ ہے کہ ہمیں ایسے لیڈر ملے ہیں جو پاکستانی عوام کی مشکلات سے بھی اپنے منفی مقاصد کی تکمیل چاہتے ہیں اور ان کی بھرپور خواہش ہے کہ کسی نہ کسی طور ملک ڈیفالٹ کر جائے ۔ وہ موجودہ صورتحال میں بھی منفی پروپیگنڈہ سے بازنہیں آئے اور وزیر اعظم اور ان کی ٹیم پر ”بھیک مانگنے” کے طعنے ارزاں کر رہے ہیں ‘ یہ الگ بات ہے کہ جب وہ خود اس طرح کے دورے کرتے تھے اورانہیں ایک ارب ڈالرکی”بھیک” بھی منت ترلوں کے بعد ملتی تو اس پر بغلیں بجاتے ہوئے اپنی حکومت کا کارنامہ قرار دیتے ہوئے چھلانگیں مارا کرتے تھے ‘ پاکستانی قوم کو ان کی وہ بے بسی بھی یاد ہے جب چین کے دورے کے دوران ان کو ایک کانفرنس میں شرکت کی اجازت ہی نہیں دی گئی اور کانفرنس ہال سے دور ایک مقام پرانہیں ویڈیو لنک کے ذریعے”تماشہ” کرنے تک محدود کیاگیا تھا’ مگر اندرون ملک انکی بڑھکیں سنبھالتے نہیں سنبھلتی تھیں ۔ پاکستانی قوم یہ بھی اچھی طرح جانتی ہے کہ سیلاب زدگان کی امداد کے لئے ٹیلی تھون کے ذریعے جو (ان کے اپنے دعوئوں کے مطابق) اربوں الر ان کے امریکہ اور دیگر ممالک میں موجود اکائونٹس میں آئے جن کوآج تک سیلاب زدگان پرخرچ کرنے کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی بلکہ مبینہ طور پر وہ رقم ان کے جلسوں اور آزادی مارچ پرخرچ کرنے کی خبریں گردش کرتی رہیں اس صورتحال میںمسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے جو موقف اختیارکیا ہے ہے اور حکومتی امدادی سرگرمیوںکے لئے امداد طلب کرنے کو”ملک کے لئے مانگنے” سے تشبیہ دے کر مثبت پیغام دیا ہے اس کی یقینا قدرافزائی کی جانی چاہئے ۔ ملک کے لئے مانگنا اگر قابل شرم ہے تو یہ کام تو ہر دور میں ہر حکمران کرتا رہا ہے اس پراعتراض کیامعنی رکھتے ہیں؟

مزید دیکھیں :   انتخابات ہوگئے توپھر؟