قبائلی اضلاع کے فنڈزپرتنازعہ،وزیراعلیٰ کاعدالت جانے کااعلان

ویب ڈیسک :وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ میں عمران خان کا ادنیٰ کارکن ہوں جب وہ اشارہ دیں گے، خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل کردوں گا۔ انہوں نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت کی وجہ سے ملک میں تباہی ہو رہی ہے لیکن یہ اپنے وہ کیسز ختم کروا رہے ہیں جن میں انہیں سزا ہونی ہے۔ وزیراعلیٰ نے تھانہ سربند پر دہشتگرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ پوری قوم دہشتگردی کے خلاف پولیس کے ساتھ کھڑی ہے ۔
وزیراعلیٰ نے وفاقی وزیر داخلہ کے خیبر پختونخوا پولیس سے متعلق بیانات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس نے قیام امن کیلئے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور صوبائی حکومت پولیس شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ خیبر پختونخوا پولیس سخت حالات کا دلیری سے مقابلہ کر رہی ہے۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر خیبر پختونخوا میں امن نہیں رہا تو پورے ملک پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے وفاقی کابینہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ا مپورٹڈ سرکار خود ماڈل ٹائون کے دلخراش واقعے میں ملوث ہے جس کے خلاف ایف آئی آرز درج ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے 200 ارب روپے وفاقی حکومت کے ذمہ واجب الادا ہیں۔وفاقی حکومت صوبائی حکومت کو فنڈز نہیں دے رہی مگر اپنے ایم این ایز کو ایس ڈی جیز کے تحت فنڈز فراہم کر رہی ہے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے ضم اضلاع کے حوالے سے نوٹیفائی کردہ اسٹیئرنگ کمیٹی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امپورٹڈ سرکار کا یہ اقدام قانون اور آئین کے خلاف اور صوبے کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ پشاور پریس کلب کی نو منتخب کابینہ اور گورننگ باڈی کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ 25 ویں آئینی ترمیم کے بعد ضم اضلاع کی باگ ڈور صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے جسے وہ بخوبی نبھا رہی ہے۔ ضم اضلاع کے حوالے سے تمام تر ترقیاتی منصوبہ بندی صوبائی حکومت نے کی ہے تاہم امپورٹڈ سرکار ترقیاتی منصوبوں کیلئے درکار فنڈز فراہم نہیں کر رہی۔
اسٹیئرنگ کمیٹی کے بارے اپنے خطاب میں وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ سٹیئرنگ کمیٹی میں گورنر خیبر پختونخوا کو بطور ممبر نامزد کیا گیا ہے جو خیبر پختونخوا کی خود مختاری پر حملہ ہے ، ہم اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کریں گے اور اسے کالعدم کروائیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت نے ضم اضلاع کیلئے 55 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز رکھے ہیں مگر اب تک صرف پانچ ارب روپے ہی جاری کئے گئے ہیں۔ صوبائی حکومت ضم اضلاع کے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور صحت کارڈ کے پیسے اپنے بجٹ سے ادا کر رہی ہے۔ محمود خان نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت پر نہ عوام اعتماد کر رہے ہیں اور نہ ہی بین الاقوامی ادارے۔ یہ جینیوا کانفرنس میں بھیک مانگتے ہیں اور اگلے دن ان پیسوں سے اشتہارات شائع کرتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہمارے دور میں مہنگائی کے خلاف پیٹ پر اینٹ باندھنے والے موجودہ مہنگائی کے دوران منظر سے غائب ہیں۔ خیبر پختونخوا حکومت35 ارب روپے گندم پر سبسڈی دے رہی ہے ۔ صوبے کی سالانہ ضرورت 50 لاکھ ٹن ہے جبکہ صوبائی پیداوار صرف13 لاکھ ٹن ہے باقی ضرورت دیگر صوبوں اور اوپن مارکیٹ سے پوری کی جاتی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہت جلد ملک میں عام انتخابات ہوں گے اور انشاء اللہ اپنی کارکردگی اور عوامی اعتماد کی بدولت پورے پاکستان میں دو تہائی اکثریت سے حکومت بنائیں گے۔ صوبائی وزیر کامران بنگش، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف، سیکرٹری اطلاعات ارشد خان، ڈائریکٹر جنرل اطلاعات امداد اللہ اور صحافیوں نے کثیر تعداد میں تقریب میں شرکت کی۔ وزیر اعلیٰ نے نئی کابینہ اور گورننگ باڈی ممبران کو منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ نئی کابینہ صحافیوں کی فلاح و بہود کیلئے اپنا موثر کردار ادا کرے گی۔

مزید دیکھیں :   گورنرنے انتخابات کی تاریخ کی بجائے مشورہ دیا