قدر گوہر یک دانہ جوہری داند

ترقی یافتہ اور خصوصاً مغربی معاشروں میں یہ کوئی نئی بات ہے نہ اچھنبے والی بات یعنی وہاں پرکسی بھی لکھاری کی کتاب کے کئی کئی ایڈیشن شائع ہونا عام سی بات ہے اور اگر کتاب کسی اہم شخصیت نے لکھی ہوتو اس کی فروخت کے ریکارڈ کو ضرور دیکھا جاتا ہے یعنی یہ جو برطانوی شہزادے ہیری کی کتاب نے فروخت کے تمام اگلے پچھلے ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں تواس پرحیرت کا اظہار کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے حالانکہ جب سے کمپیوٹر نے کتابوں کومحفوظ کرکے دنیا بھر کے قارئین تک ایک کلک کے ذریعے پہنچانا شروع کر دیا ہے ‘ ہم جیسے غریب ‘ ترقی پذیر ممالک میں کتابوں کی چھپائی کو مزید مشکلات سے دو چار کر دیا ہے کیونکہ اکثر کتابیں تقریباً مفت مل جاتی ہیں اورمفت ہاتھ آئے توبرا کیا ہے کے لئے کے تحت یارلوگ مفت کے اس مال کوحاصل کرنے کو چھپی ہوئی کتاب کے مقابلے میں ترجیح دیتے ہیں ‘ لیکن مغربی ممالک میں اب بھی کتاب چھپی ہوئی صورت میں خرید کرپڑھنے کا رجحان کم نہیں ہوا بلکہ ایک طویل عرصے سے وہاں جوبھی کتابیں شائع ہوتی ہیں ان کی ایک تومجلد شکل ہوتی ہے جواعلیٰ کاغذ ‘ خوبصورت اور نفاست سے ہوئی جلد بندی اورتزئین وآرائش کی وجہ سے خاصی مہنگی ہوتی ہے لیکن کتابوں کے شوقین اپنی ذاتی لائبریری کوایسی کتابوں سے مزین کرنے کے لئے یہ مہنگی کتابیں بھی خرید لیتے ہیں جبکہ عام کم آمدنی والے قارئین کے لئے ان کے پیپر بیک نسخے نہایت ہی معمولی قیمت پر کروڑوں کی تعداد میں دستیاب ہوتے ہیں ‘ اور جب شہزادہ ہیری جیسی شخصیت کی کتاب ہو تو کتابوں کی دکانوں کے باہر لوگ لائن میں لگ کر دکانیں کھلنے کاانتظارکرتے تاکہ وہ
کتاب کے پہلے ایڈیشن سے محروم نہ رہ جائیں ‘ ان سستی کتابوں کے نسخے بھی ”ہاٹ کیک” کی مانند فروخت ہوتے ہیں ‘ حالانکہ کتاب پڑھنے کے بعد یہ سستے ایڈیشن والی کتابیں پھر کباڑی کی دکانوں پرزیادہ نظرآتی ہیں جنہیں غریب ممالک کو ردی کے بھائو منتقل کیاجاتا ہے مگرمزے کی بات یہ ہے کہ ہم جیسے ممالک میں کتابوں کے کاروبارسے وابستہ بڑے بڑے بیوپاری انہی پیپربیک سٹائن میں چھپی ہوئی کتابوں کے ڈھیر ردی کے بھائو خرید کر امپورٹ کر لیتے ہیں اور پھران پر ڈالر ‘ پائونڈ سٹرلنگ ‘ یورو وغیرہ کی چھپی ہوئی قیمتوں کے عوض فروخت کرکے تجوریاں بھرتے ہیں ‘ خریدنے والوں کواس پر کوئی اعتراض بھی نہیں ہوتا حالانکہ یہ ردی کے بھائولائی ہوئی کتابیں ہوتی ہیں ‘ یہ الگ بات ہے کہ مغربی دنیا میں کوئی ایک بھی کتاب لکھ کرکسی پبلیشنگ ادارے سے چھپوا کر مارکیٹ میں لے آئے تواس کی دنیا توچھوڑ عاقبت بھی سنور جاتی ہے کہ وہاں ایک عجیب اصول ہے یعنی کتاب کے جتنے بھی ایڈیشن آتے جائیں گے ‘ مصنف یا مولف کورائیلٹی پہلے سے زیادہ ملے گی یہ وہاں پرکاپی رائٹ ایکٹ کے تحت عام سا طریقہ ہے اس کے برعکس ہمارے ہاں اس کے بالکل الٹ صورتحال ہے’ پہلے توکسی تازہ کار لکھاری کوپبلشر گھاس ہی نہیں ڈالتا ‘ الٹا اس سے رقم لے کرکتاب شائع کرتا ہے اوراس کے بھی زیادہ سے زیادہ پچاس نسخے اسے تھما کر باقی کتاب کی فروخت سے بھی اپنی جیب بھرتا رہتا ہے تھوڑا بہت مشہورلکھاری ہوتواس کی کتاب کے مزید ایڈیشن شائع کرکے مزے کرتا ہے اور اگر کوئی سمجھدار مصنف ‘ شاعر ‘ ادیب ہوجس نے ناشرکے ساتھ باقاعدہ معاہدہ بھی کررکھا ہو کہ مزید ایڈیشنز چھاپنے کی صورت میں اسے رائیلٹی دی جائے گی توکتاب کوباربارشائع کرنے کے باوجود اس پر”پہلا ایڈیشن” اسی طرح چھپا ہوتا ہے تاکہ لکھاری رائیلٹی کلیم نہ کرے’ البتہ وہ جوابتدائی پچاس ساٹھ نسخے اس کوتھمائے گئے ہوتے ہیں وہ منصف بے چارہ مفت میں بانٹ کر دوستوں سے شکریے کے الفاظ ضرور وصول کر لیتا ہے اوردوستوں کی تعداد زیادہ ہو تو اپنی ہی کتاب ناشرسے کمیشن کاٹ کر خریدنے پر مجبور ہو جاتا ہے تاکہ بقیہ دوستوں میںتقسیم کرسکے اور خود کو ثقہ لکھاریوں کی صفمیں شامل کرسکے ۔ گویا بقول مرزا داغ دہلوی
داغ وارستہ کوہم آج ترے کوچے سے
اس طرح کھینچ کے لائے ہیں کہ جی جانتا ہے
ویسے یہ صورتحال ہمارے ہاں بھی ہرلکھاری کے ساتھ نہیں ہوتی اور ہمارے ہاں بھی گنتی کے (دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کے مطابق ہی سہی) اتنے اہل کتاب ضرورموجود ہیں جن کی کتابیں ہاٹ کیک کی صورت ہاتھوں ہاتھ لی جاتی ہیں ‘ ان میں کئی نام ہیں ‘ یعنی فیض ‘ فراز ‘ مشتاق احمد یوسفی ‘ مستنصرحسین تارڑ ‘ پروین شاکر وغیرہ وغیرہ جن کی کتابوں کے لاتعداد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں اوراب بھی یہ سلسلہ جاری ہے ‘ تاہم بعض نہایت اہم شخصیات ایسی بھی ہماری سیاسی تاریخ کاحصہ ہیں جنہوں نے کتابیں لکھیں(یا دوسروں سے لکھوا کر اپنے نام سے شائع کروائیں) اوران کے ادوارمیں تو وہ ”سرکاری سطح” پرفروخت ہوتی رہیں مگرجیسے ہی ان کے اقتدار کاسورج غروب ہوا’ ان کی کتابیں بھی ردی کے بھائو بکنے کے لئے فٹ پاتھ پرسجائی گئی ردی کتابوں کی زینت بنیں ‘ ان میںایک تو خود ساختہ فیلڈ مارشل ایوب خان تھے جنہوں نے ایک کتاب انگریزی ٹائیٹل کے ساتھ Friends- not Masters مع اردو ترجمے کے ساتھ غالباً(جس رزق سے آتی ہو ۔۔۔)شائع کروائی ‘ اس کتاب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ان کے دور کے سیکرٹری انفارمیشن الطاف گوہر مرحوم کے زورقلم کا نتیجہ تھی اورپھرجنرل مشرف نے بھی In the line of fire کے نام سے کتاب لکھی(لکھوائی) مگر اب یہی کتابیں ردی کے بھائوبھی کوئی خرید نے کو تیار نہیں ہے ۔ اتفاق کی بات یہ ہے کہ دونوں کتابوں کے اصل مصنف باپ بیٹا یعنی الطاف گوہر نے ایوب خان کے لئے اور جنرل مشرف کے لئے الطاف گوہر کے برخوردار ہمایون گوہر تھے ‘ قتیل شفائی نے لگتا ہے ویسے ہی یہ شعرنہیں کہا کہ
کھلا ہے جھوٹ کا بازارآئو سچ بولیں
نہ ہو بلا سے خریدار آئوسچ بولیں
شہزادہ ہیری بہت خوش نصیب ہے جس نے شاہی خاندان سے لاتعلقی اختیار کرکے کچھ سخت وقت گزارا مگراب اس کتاب کے ذریعے اس کو اتنی آمدن ہو گئی ہے بلکہ یہ سلسلہ جاری رہے گا کہ وہ اسی کروفر کے ساتھ زندگی گزار سکے گا ‘ کاش یہ صورتحال ہمارے ہاں بھی لکھاریوں کامقدربن جائے اور ہر شاعر ‘ مصنف کو اس کی محنت کا اتنا صلہ ضرور ملے کہ وہ رزق کی تلاش کے لئے کبھی سرگرداں نہ ہو۔

مزید دیکھیں :   آنسو ایک نہیں کلیجہ ٹوک ٹوک