اتنی فراخدلی سیاست میں بھی دکھائیں

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے جس نے پاکستان کو چلانا ہے وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نہیں لڑسکتا تاہم اسٹیبلشمنٹ کی سمت کا تعین کرنا ضروری ہے۔ فوج اچھائی کی سب سے بڑی قوت بن سکتی ہے۔ملکی خزانہ کو لوٹنے والوں کے علاوہ سب سے مفاہمت پر یقین رکھتا ہوں۔چیئرمین تحریک انصاف کا اپنی فوج مخالف بیانات سے رجوع ایک مثبت پیش رفت ہے جس طرح ماضی میںا نہوں نے اسٹیبشلمنٹ کے خلاف سخت رویہ اختیار کرنے کے بعد اب وہ درگزر اور مفاہمت کی دعوت دے رہے ہیں اسی طرح اگر ان کی جانب سے تحفظات اور سخت اختلافات کے باوجوداگرصرف سیاسی معاملات پرحکومت اور سیاستدانوںسے سیاسی معاملات سیاسی طور طریقوں سے طے کرنے پرآمادگی کااظہار کریںتویہ وقت اورملک وقوم کی ضرورت کا ادراک ہوگا سیاسی قائدین کے خلاف ان کا سخت رویہ اور سیاسی جماعتوں سے معاملات کوسیاسی طور پر طے نہ کرنے سے حکومت اور ان جماعتوں پر اثرات مرتب ہوتے ہیں یانہیں ہوتے مگر وہ اس کا توڑ کرکے مزید بحران پیدا کرتے ہیں ساتھ ہی سخت ردعمل دینے سے ملک مزید بحران کاشکار ہوتا ہے اس کے اثرات سیاست سے بڑھ کر ملکی معیشت کے لئے مضر ثابت ہوتا رہا ہے اس وقت ملک جن معاشی معاشی حالات کا شکار ہے اس کی متحمل نہیں ہوسکتی بنابریں ملک وقوم کا مفاد اسی میں ہے کہ سیاسی معاملات کو سیاسی انداز میں طے کرکے اور آئین ودستور کی پابندی کے ساتھ عام انتخابات کے لئے ایک ہموارفضا پیدا کی جائے اورشفاف انتخابات کویقینی بنایا جائے جس کے نتیجے میں جس اتحاد یا جماعت کو عوام کی اکثریت کی حمایت مل جائے اسے اقتدار سونپ دیاجائے اسٹیبلشمنٹ کومداخلت سے روکنے کا بہتر فارمولہ سیاستدانوں کا باہمی معاملات کونمٹانے کی صلاحیت کاحامل ہونا ا ورایک دوسرے کے مینڈیٹ کے احترام میں ہے سیاستدان اسی طرح بیری رہے اور اہل سیاست کے یہی اطوار رہے توخدشہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ چاہنے کے باوجود بھی سیاسی معاملات سے خود کو علیحدہ نہیں رکھ سکے گی جس کی ذمہ داری بھی سیاستدانوں ہی پرعائد ہو گی بہتر ہوگا کہ ملک کی سیاسی فضا کو معتدل بنا کرآئندہ انتخابات کی تیاریاں شروع کی جائیںاور تصادم کی صورتحال پیدا کرنے سے گریز کیاجائے۔

مزید دیکھیں :   بیانات نہیں ٹھوس ثبوت