سندھ میں بلدیاتی انتخابات

سندھ میں بلدیاتی انتخابات کادوسرامرحلہ،پیپلزپارٹی نے میدان مارلیا

ویب ڈیسک :کراچی اور حیدر آباد کے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کاایم کیو ایم نے بائیکاٹ کیا جبکہ پیپلز پارٹی نے جیت کادعویٰ کیا ہے ،جماعت اسلامی کاکہناہے تقریباً ہر جگہ پر نمبر ون پارٹی کی پوزیشن میں موجود ہیں۔ پولنگ کاوقت ختم ہونے پرکراچی، حیدرآباد بلدیاتی الیکشن کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے ، کراچی کے علاقے منگھو پیر میں جماعت اسلامی اورپیپلز پارٹی کے کارکنوں کے درمیان جھگڑا ہوا۔ پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی جانب سے جماعت اسلامی کے کارکنوں پر ڈنڈوں، لاتوں اور گھونسوں کا کھلم کھلا استعمال کیا گیا اور پولنگ اسٹیشن میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگا۔ گلشن معمار میں تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے کارکنان کے درمیان تصادم ہوا۔
پولیس نے ایم این اے شاہدہ رحمانی کے بیٹے ہلال رحمانی پر تشدد کے الزام میں تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی رابستان خان کو حراست میں لے لیا جبکہ کئی اورپولنگ سٹیشنز پر بھی لڑائی جھگڑے کے واقعات ہوئے۔ حیدرآباد کی 129 یوسیز میں سے 14 کے مکمل غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج آ گئے ہیں۔کراچی میں بلدیاتی الیکشن کے نتائج موصول ہونے کا سلسلہ سست روی کا شکار ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حتمی نتائج مرتب کرنے میں 6 سے 7 گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق کراچی میں گڈاپ ٹائون اور ملیرٹائون میں پیپلزپارٹی کو برتری حاصل ہے۔ حیدرآباد کی129یوسیز میں سے اب تک14 کے مکمل غیرحتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق 12 نشستوں پر پیپلزپاٹی جیت گئی ہے جبکہ ایک نشست پر تحریک انصاف اور ایک پر جماعت اسلامی کو سبقت حاصل ہے۔
حیدرآباد میں31 نشستوں پر پیپلزپارٹی کے امیدوار پہلے ہی بلامقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں۔ ٹنڈومحمدخان ٹائون کمیٹی میں19میں سے15وارڈز کے نتائج کے مطابق 13 نشستوں پر پی پی، ایک جی ڈی اے جبکہ ایک نشست پر ایس ٹی پی کے امیدوار نے میدان مارلیا۔ میونسپل کمیٹی بدین کے غیرحتمی غیرسرکاری نتائج کے مطابق 14میں سے 12وار ڈز پر پیپلزپارٹی کے امیدوار کامیاب ہوگئے جبکہ ایک پر پی ٹی آئی اور ایک پر جی ڈی اے کو کامیابی ملیں۔ غیرحتمی غیرسرکاری نتائج کے مطابق ٹھٹھہ اور سجاول کی 77 یوسیز میں سے 51 پر پیپلزپارٹی امیدوار کامیاب قرار پائے ہیں۔ کراچی میں کسی بھی جماعت کو میئر منتخب کرنے کیلئے سادہ اکثریت یعنی 124 یوسیز پر کامیابی حاصل کرنا ہوگی۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ پی پی نے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کا میدان مار لیا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ پیپلز پارٹی نے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کا میدان مار لیا ہے، انہوں نے پیپلز پارٹی کے انتخابی نشان تیر والا جف بھی لگایا۔ ادھر ایم کیو رہنمائو ں خالد مقبول صدیقی،فاروق ستار ودیگر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلدیاتی انتخابات میں کم ووٹنگ ٹرن آئوٹ کو اپنے مقف کی فتح قرار دیدیا الیکشن کمیشن نے ایک بار پھر جانبداری کا مظاہرہ کیا، اگر ایک ادارہ شفاف الیکشن نہیں کروا سکتا تو اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے دریںاثناء امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کراچی کے الیکشن کے نتائج میں تاخیر پر عوام سے پولنگ اسٹیشنوں کا گھیرائوکرنے کا حکم دیدیا۔ میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا ہمیں فارم 11 اور 12 فراہم نہیں کیے جا رہے ،انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے کچھ ڈی سیز نتائج جاری کرنے میں رکاوٹ بن رہے ہیں
نتائج جاری نہ ہوئے تو شہر بھر میں دھرنے شروع کردیں گے، عوام پولنگ اسٹیشنوں کا گھیرائوشروع کر دیں۔ انکا کہنا تھاکہ جماعت اسلامی تقریباً ہر جگہ پر نمبر ون پارٹی کی پوزیشن میں موجود ہے۔ سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولنگ اسٹیشن بند ہونے کے بعد جو بیلٹ پیپرز چوری ہوئے وہ آج ڈالے جائیں گے، اگر انتخاب کو چوری کرنے کی کوشش کی ہم کراچی کو بند کردیں گے، آئی جی ، چیف سیکرٹری کو باور کراتا ہوں ہم آرام سے گھر پر نہیں بیٹھیں گے۔

مزید دیکھیں :   انتخابات کے دوران دہشتگردی کا امکان رد نہیں کیا جاسکتا، آئی جی پولیس