پنجاب اسمبلی کی تحلیل

پنجاب میں سیاسی رابطوں میں تیزی،لاہورجوڑتوڑ کا گڑھ بن گیا

ویب ڈیسک: :پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے بعد سیاسی رابطوں میں تیزی آ گئی ہے جبکہ لاہور جوڑ توڑ کا گڑھ بن گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں سیاسی جوڑ توڑ اور سیاسی جماعتوں کے اتحاد بننے کا عمل بھی شروع ہو جائے گا۔ پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے بعد سیاسی رابطوں میں تیزی آ گئی ہے ۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو جو نومبر سے لاہور میں موجود ہیں اپنی سیاسی سر گرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے تاہم پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے بعد زمان پارک میں سر گرمیاں مزید بڑھ گئی ہیں ۔
تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کے درمیان رابطے بڑھائے گئے ہیں جس میں نگران وزیر اعلیٰ کے لئے نام پر اتفاق رائے کے علاوہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر بھی بات چیت کا آغاز ہو گا۔ مسلم لیگ ن کی جانب سے بھی سیاسی سر گرمیاں شروع کر دی گئی ہیں اور رابطوں کے حوالہ سے بھی حکمت عملی مرتب کی جارہی ہے ۔ سابق صدر و پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر آصف زرداری بھی لاہور پہنچے ہیں اور انہوںنے پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کی ہے جس میں آنے والے دنوں میں مختلف رابطوں کے حوالے سے حکمت عملی مرتب کی گئی ہے ۔
بتایا گیا ہے کہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو بھی لاہور میں موجود رہ کر پنجاب میں ہونے والے انتخابات کے لئے پارٹی امور کی نگرانی کریں گے۔ ذرائع کے مطابق آنے والے دنوں میں مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین سے بھی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت ملاقاتیں کرے گی ۔ پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے بعد آنے والے دنوں میں سیاسی اتحاد بننے کا عمل بھی شروع ہو جائے گا۔

مزید دیکھیں :   انتخابات کی تاریخ کا فوری اعلان کریں، صدر کا چیف الیکشن کمشنر کو خط