طالبات کی تعلیم اور انوکھی چوری

جیسا کہ آپ کو معلوم ہے یہ کالم عوامی مسائل کے لئے وقف ہے ۔چارسدہ سے ایک طالبہ کا برقی پیغام ہے ایک بڑی آبادی والے علاقہ چارسدہ میں طالبات کے لئے صرف دو سرکاری ڈگری کالجز ہیں جس میں بی ایس کے مضامین پڑھائے تو جاتے ہیں لیکن سارے مضامین کی تعلیم نہیں دی جاتی جو طالبات اختیارکرناچاہتی ہیں چارسدہ کی ان گرلز کالجز میں صرف اسلامیات ‘انگلش اور پولیٹیکل سائنس بس ان تین مضامین کی تعلیم دی جاتی ہے علاوہ ازیں کسی اور مضمون کی تدریس کا کوئی انتظام موجود نہیں یوں تو چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی بھی ہے نیزپوسٹ گریجویٹ کالج بھی ہے مگر وہاں پر مخلوط تعلیم ہے چارسدہ روایتی پختون معاشرہ کا علاقہ ہے یہاں کا معاشرہ لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے کچھ حوصلہ افزاء نہیں بلکہ اس حوالے سے منفی ہی ہے والدین اپنی بچیوں کو مخلوط تعلیم والے اداروں کی بجائے گرلزکالجوں میں پڑھانے کو ترجیح دیتے ہیںبہت ہی کم والدین ہیں جواپنی بچیوں کو مخلوط تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ چارسدہ ایک بڑاعلاقہ ہے یہاں کے لئے دو گرلزکالجز کافی نہیں میں خود پوسٹ گریجویٹ کالج کی طالبہ تھی دو سمسٹر تک پڑھی تھی مگر ماحول کی خرابی اور مخلوط تعلیم میں پڑھنے کی مشکلات کی وجہ سے گھر والوں نے ایک معمولی بات پر پڑھائی جاری رکھنے کی اجازت نہ دی اور مجھے گھر بٹھا دیاگیایہاں پراس طرح کے واقعات معمول بن چکے ہیں مخلوط تعلیم کے باعث میں اچھے نمبر لینے اور شوق کے باوجود بھی اپنی تعلیم اس لئے جاری نہ رکھ سکی کہ جودو گرلز کالجز ہیں اس میں بی ایس میں مطالعہ پاکستان کا مضمون سرے سے پڑھایا ہی نہیں جاتا ۔ باچا خان یونیورسٹی میں مخلوط طرز تعلیم کے باعث مجھے وہاں سے بھی حصول تعلیم کی اجازت نہیں ملتی پھرمیں نے مجبوراً شہید بے نظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی میں مائیگریشن کرائی مگر اس کی فیس بہت زیادہ ہے جس کے باعث مجھے مجبوراً یہ سال ضائع کرنا پڑ رہا ہے جس کامجھے بہت افسوس ہے میری تعلیم توچھوٹ گئی ہے اس طرح باقی بچیوں کی تعلیم کا بھی حرج ہو رہا ہے تاجو میں واقع گرلز کالج میںبی ایس کیمسٹری کے صرف چار سمسٹر پڑھائے جاتے ہیں اس کے بعد باقی سمسٹرز کے لئے باچا خان یونیورسٹی جانا پڑے گا جہاں میری دوست پڑھتی ہیں لیکن ان کی والدہ کی طرف سے اجازت نہیں مل رہی ہے اور وہ تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہے ان مشکلات کے باعث چارسدہ کی گرلز کالجوں میں تمام مضامین ہونی چاہئیں تاکہ طالبات باآسانی من پسند مضامین میں بی ایس کی تعلیم حاصل کر سکیں ۔ محولہ طالبہ نے بڑی درد مندی سے چارسدہ میں ویمن یونیورسٹی کے قیام کی تجویز دی ہے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو کم از کم ویمن کیمپس ہی ہوتا کہ اس طرح کی طالبات تعلیم سے محروم نہ ہوںیا پھر یہاں پر جو پوسٹ گریجویٹ کالج ہے اسے صرف خواتین کے لئے مخصوص کیا جائے میرے خیال میں اس پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں سوائے اس کے کہ ایک روایتی معاشرے کی بچیوں کو دیگر بچیوں سے زیادہ تعلیم اور شعور کی ضرورت ہوتی ہے جسکا تقاضا ہے کہ اس طرح کے معاشروں اور علاقوں میں تعلیم نسواں کا خصوصی انتظام ہونا چاہئے۔
قیدی کا رلا دینے والا خط کے عنوان سے ایک مراسلہ ملا ہے اس میں کتنی سچائی اور حقیقت ہے اس کی جانچ آسان نہیں البتہ قیدیوں کی حالت زار اور ہماری پولیس اور عدالتی نظام کی اس میں پوری تصویر واضح ہے ملاحظہ فرمائیں۔
”میں تم سے اور بچوں سے بے پناہ محبت کرتا ہوں، جانتا ہوں تم لوگ سخت حالات میں ہو، فاقے کاٹ رہے ہو، مگر میں یہاں بیٹھ کر کچھ نہیں کر سکتابس اتنا کر سکتا ہوں کہ کھانا پینا چھوڑ دوں تاکہ خود کو تمہارے ساتھ تو محسوس کروں ۔۔۔”
یہ وہ خط تھا جس نے سینٹرل جیل کراچی کی انتظامیہ کو مشکل میں ڈال دیاخط لکھنے والا قیدی بھوک ہڑتال کر چکا تھا۔ انتظامیہ کوشش کے باوجود بھوک ہڑتال ختم نہ کرا سکی تو اعلیٰ حکام کو مطلع کیا، جس کے بعد اس معاملے کی انکوائری ایک نوجوان پولیس افسر کے پاس آگئی ۔۔۔
یہ قصہ پولیس افسر نے سنایا ۔۔۔ پولیس افسر کے مطابق ۔۔۔
میں نے خط پڑھا تو بے چین ہو گیا۔ فائل اپنے گھر لے گیا اور وہ خط اپنی اہلیہ کو دکھایا تو وہ رونے لگی۔
میں نے اس قیدی کی فائل پڑھی، وہ قیدی ڈکیتی کے الزام میں سزا بھگت رہا تھا۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ جن کے گھر میں ڈکیتی کی تھی انھوں نے مقدمہ کیا اور نہ تھانے آئے، سب کچھ سرکاری مدعیت میں ہوا اور ملزم کو سزا ہو گئی۔ جس گھر میں ڈکیتی کی گئی تھی۔ جو تفصیلات بتائی گئیں وہ ہوشربا ہیں۔انہوں نے بتایا کہ دوپہر کے وقت گھر میں خواتین تھیں، وہ شخص پستول کے ساتھ گھر میں داخل ہواوہ شخص کچن میں گیا، ہم سے ایک چادر لی اور کچن میں موجود راشن چادر میں جمع کر کے روانہ ہو گیا۔ جاتے ہوئے ہم سے معذرت بھی کر کے گیاباہر نکلا تو محلے والوں نے اسے پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا اور پولیس کے حوالے کر دیا۔ خاتون خانہ اور اس گھر کے مردوں کا کہنا تھا کہ طریقہ واردات اور صرف راشن چوری کرنے سے ہمیں اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ شخص ضرورت مند ہے، اس لئے ہم نے اس شخص کے خلاف تھانے گئے اور نہ مقدمہ کرایا۔
میں نے متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو بلایا تو اس نے بتایا کہ محلے والے پکڑ کے لائے تھے، اس نے اعتراف بھی کیا کہ ڈاکہ مارا ہے اور اس کے پاس سے جو پستول برآمد ہوا وہ نقلی تھا۔ مقدمہ کرانے کوئی نہیں آیا تھا تو ہم نے سرکاری مدعیت میں مقدمہ عدالت میں پیش کیا اور عدالت نے سزا دے دی۔
میں نے انکوائری رپورٹ تیار کی، ساتھ ہی اس گھرانے کے افراد کے بیان لگائے جن کے گھر ڈکیتی ہوئی تھی، اور تفصیل اعلیٰ حکام کو بھیج دی۔ مقدمہ عدالت میں دوبارہ چلا، اس شخص کو چند دن میں ہی ضمانت اور کچھ عرصے بعد رہائی مل گئی۔ذرا سوچیں تویہ ہڑتالیں اور لاک ڈائون کتنے گھر اجاڑتے ہیں، کتنے گھروں میں فاقے کراتے ہیں اور کتنے ڈاکو پیدا کرتے ہیں؟ اس کا اندازہ بے حس حکمران لگا سکتے ہیں اور نہ ہمارا عدالتی نظام ۔ مختصراًحالات ہماری سوچوں سے بھی کہیں زیادہ خراب ہیں۔
قارئین اپنے پیغامات 03379750639 پر واٹس ایپ ‘ کر سکتے ہیں

مزید دیکھیں :   ''حیات شیرپاؤ۔۔سیاست سے شہادت تک''