کوئی حل تلاش کیجئے!

صوبائی دارالحکومت پشاور کے تقریباً تمام علاقوں میں بجلی اور گیس کی معطلی کے حوالے سے جوسنگین صورتحال اس وقت شہریوں کودرپیش ہے ‘ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ شہر بھر میں گیس کی بندش17گھنٹوں سے بھی زیادہ پر محیط ہوگئی ہے ‘ جبکہ روزانہ بعض علاقوں میں مرمت اورتاریں تبدیل کرنے کے نام پرجن علاقوں کے بار ے میں اخبارات میں بجلی لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے خبریں شائع ہوتی ہیں ‘ ان پرتوجوگزرتی ہے سوگزر ہی جاتی ہے مگر جن علاقوں میں بجلی لوڈ شیڈنگ نہ ہونے کی ”خوشخبری” لوگ سنتے اور پڑھتے ہیں ‘ ان میں بھی روزانہ بلاناغہ صبح سے سہ پہر تین چار بجے تک لوگ بجلی سے محروم رہتے ہیں ‘ حالانکہ چند روز پہلے حکومت نے ملک بھرمیںسی این جی سٹیشنز بند کرکے گھریلو صارفین کو بلا تعطل گیس کی فراہمی کااعلان کیاتھا مگراب اسے کیاکہا جائے کہ بقول شخصے وہی ہے چال بے ڈھنگی ‘ جوپہلے تھی سو اب بھی ہے کے مصداق گیس بھی صرف تین ا وقات یعنی صبح فجر کے بعد نو بجے ‘ دن ساڑھے گیارہ سے دوبجے ‘ دوپہر اور پھر شام ساڑھے پانچ بجے سے رات نوبجے تک ہی دستیاب ہوتی ہے یعنی حکومت کے محولہ اعلان کی دھجیاں بکھیر کر محکمہ سوئی گیس والے عوام کا تمسخراڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔وفاقی حکومت توایکطرف ‘ صوبائی حکومت بھی عوام کے مسائل سے آنکھیں بند کرکے ان کو حالات کے رحم و کرم پرچھوڑ چکی ہے ‘ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر سی این جی سیکٹر کوگیس کی فراہمی بند کرکے گھریلوصارفین کوسہولت کا اعلان واقعی سنجیدگی کے ساتھ کیا گیاتھا تو اس اعلان کو اس کی روح کے مطابق کیوں روبہ عمل لا کر عوام کی مشکلات ختم کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ‘ اور محکمہ سوئی گیس والے کس برتے پرحکومت کے اعلان کو درخواعتناء سمجھنے سے احتراز پراترا ہوا ہے ؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ صورتحال کوبہتر کرنے کیلئے ضروری اقدام اٹھائے جائیں اورعوام کی مشکلات میں کمی لانے کے لئے خلوص نیت سے آگے بڑھاجائے ‘ ٹرانسپورٹ والوں نے ویسے بھی متبادل کے طور پر فان گیس پر گاڑیوں کو منتقل کرکے سی این جی پربوجھ بننے سے ہاتھ اٹھا لیا ہے توپھر گھریلو صارفین کے ساتھ مسلسل زیادتی کیا معنی رکھتی ہے؟۔

مزید دیکھیں :   اتفاق رائے کی ضرورت