قبائلی فنڈ ز۔۔۔۔تنازعہ

وفاقی حکومت کی جانب سے فاٹا انضمام کے دس سالہ پلان کے لئے تیزرفتار ترقی پروگرام کے تحت فنڈز کا80فیصد حصہ اپنے تصرف میں لے کر اسے ایک سٹیرنگ کمیٹی کے نگرانی میںخرچ کرنے کے اقدام پرشدیدا عتراضات سامنے آگئے ہیںاور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے اسے غیر آئینی قراردیتے ہوئے عدالت سے رجوع کرنے کا عندیہ دیا ہے ‘و فاقی حکومت نے مجوزہ کمیٹی کی سربراہی ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن کو دیتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا ‘ قبائلی اضلاع سے دو منتخب ارکان قومی اسمبلی ‘قبائلی اضلاع ہی سے منتخب دو ارکان صوبائی اسمبلی اور کچھ بیورو کریٹس کوکمیٹی کا رکن نامزد کیاہے ‘ فنڈز کا20فیصدوسیع ترقی کے منصوبوں پرایس ڈی جی کے مطابق خرچ کیا جائے گا جبکہ کمیٹی کے پاس ترقیاتی منصوبوں کی ضرورت ‘ نشاندہی اور اس کی تکمیل کے لئے تجاویز اور سفارشات کا بھی اختیارہوگا ‘ادھر وزیر اعلیٰ محمود خان نے سٹیرنگ کمیٹی میں گورنر خیبرپختونخوا کی نامزدگی کو صوبائی خود مختاری پرحملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ25ویں ترمیم کے بعد ضم ا ضلاع کی باگ ڈور خیبر پختونخوا کے پاس ہے ‘ وفاقی حکومت صوبے کوفنڈز نہیںدے رہی ہے بلکہ اپنے ممبران قومی اسمبلی کودینا چاہتی ہے ‘ غیرآئینی سٹیرنگ کمیٹی صوبے کے حقوق پرڈاکہ کے مترادف ہے اس کے خلاف عدالت سے رجوع کریںگے ۔ جہاں تک قبائلی ضم اضلاع کے لئے ترقیاتی فنڈز کاسوال کا تعلق ہے اس سے قطع نظراگر دیکھا جائے توسابقہ قبائلی اوراب کے ضم اضلاع کے عوام کو ان کے حقوق اوروسائل کے حوالے سے کبھی تسلی کرنے کی نوبت نہیں آئی سابق ادوارہوں یاموجودہ دور حکومت وہاں کے عوام کو ہر وقت محرمیوں اورناانصافی کاشکوہ رہا ہے ستم بالائے ستم یہ کہ اضلاع کے ضم ہونے کے بعد بھی یہ صورتحال جاری رہی بلکہ مزید پیچیدہ ہوگئی اور اب تازہ صورتحال ایک نیا تجربہ اور وہاں کے عوام سے کھلواڑ ہے ۔توموجودہ صورتحال اس حوالے سے صوبائی حکومت کے خلاف بھی ماضی میں محولہ علاقوں کی جانب سے فنڈز کی یا توعدم فراہمی کے بارے میں شکایات سامنے آتی رہی ہیںیا پھر جس طرح اب پورے ملک میں ترقیاتی فنڈز کی تقسیم غیرمنصفانہ طور پرہونے اور ہر صوبے میں وہاں کی حکومتوںکی جانب سے اپنی اپنی جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ کویہ فنڈز دینے کی حکمت عملی اختیار کرنے کی شکایات عام ہیں اسی طرح قبائلی ضم اضلاع میں بھی یہی وتیرہ اختیار کیا جاتا رہا ہے ‘ خیبر پختونخوا حکومت صوبائی اسمبلی کے حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے اراکین کی شدید احتجاج کے باوجود بمشکل ہی انہیں فنڈز دینے پر آمادہ ہوتی رہی ہے اور نہ صرف تحریک انصاف کے اراکین صوبائی ا سمبلی کوہی فنڈز دے کر ان کو ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں ا پنا کردار ادا کرتی رہی ہے بلکہ تحریک انصاف ہی کے اراکین قومی اسمبلی اور سینٹ تک کوفنڈز فراہم کرکے بھرپورفائدہ پہنچاتی رہی ہے جبکہ حزب اختلاف کے اراکین اسمبلی فنڈز کے لئے احتجاج ہی کرتے رہ جاتے ہیں اب جبکہ وفاقی حکومت نے ایک سٹیرنگ کمیٹی بنا کر ضم اضلاع کے ترقیاتی فنڈز کوان علاقوں کی ترقی کے لئے استعمال کرنے کے لئے اقدام اٹھایا ہے تو وزیراعلیٰ کو صوبائی حقوق یاد آگئے ہیں ‘ اگر تحریک انصاف کی حکومت گزشتہ دس سال میں اپنی دو حکومتوں کے دوران حزب اختلاف کودیوارسے لگانے اور ان پرترقیاتی فنڈز بند کرنے سے احتراز کرتے ہوئے انصاف کے تقاضوں کوملحوظ خاطر رکھتی تویقینا آج صوبے کی حزب اختلاف بھی وفاق سے صوبے کے جائز حقوق کی بازیابی میں صوبائی حکومت کے شانہ بشانہ کھڑی نظرآتی ‘ بہرحال اب یہ دیکھنا ماہرین آئین وقانون کا کام ہے کہ وفاقی حکومت کا سٹیرنگ کمیٹی بنا کر ضم اضلاع کے فنڈز اس کی صوابدید اورگورنر خیبرپختونخوا کوکمیٹی کا حصہ بنانا واقعی غیرآئینی ہے یاپھر یہ اقدام درست ہے ‘اور اب عدالت ہی اس بات کا فیصلہ کرسکتی ہے کہ صوبائی حکومت کا موقف کس حد تک درست ہے ۔تاہم ہمارے تئیں ضم اضلاع کے عوامی مسائل کا حل اہم ہے ان کوکس طریقہ کار کے تحت فنڈزفراہم کئے جاتے ہیں یہ حکومتوں کے معاملات تو ہوسکتے ہیں عوام کواس امرسے زیادہ دلچسپی ہو گی کہ این ایف سی ایوارڈ میں ان کو وعدے کے مطابق پورے وسائل فراہم کئے جاتے ہیں اور ان وسائل کااستعمال کس دیانتداری سے کرکے ان کے مسائل کے حل کی سعی ہوتی ہے۔ یہ جو ملک میں منتخب نمائندوں کو ترقیاتی فنڈز دینے کا رواج ضیاء الحق کے دور سے جاری ہے اور یہ سیاسی رشوت جب تک بند نہیں ہوگی تب تک اس کی قباحتیں ختم نہیں ہوںگی۔

مزید دیکھیں :   مودی، مغرب کے اثاثے سے بوجھ تک