سیاسی فکر اور سیاسی کارکن سے لا تعلق جماعتیں

ملک کی سیاسی صورتحال کے تناظر میںلوگ اب جس طرح تبصرہ کرتے ہیں ، الیکٹرانک میڈیا پر دانشور جو گفتگو کر رہے ہوتے ہیں ، اخبارات میں جو کالم و مضامین پڑھنے کو ملتے ہیں اور سیاسی رہنما جس نوعیت کی سیاست میں اُلجھے ہوئے ہیں تو ایسے میں ہمارے ہاں ایک اکثریت اپنی آنے والی نسل اور مُلکی مستقبل کے بارے مایوسی کا شکار ہو چکی ہے ۔ زمینی حقائق اور عوام کو درپیش مسائل کے حوالے سے دیکھیں تو یہی لگ رہا ہے کہ ہم ایک سیاسی بھنور میں پھنس گئے ہیں جہاں سیاسی رہنماؤں کے پاس بھی ایسا کوئی لائحہ عمل نہیں کہ وہ نہ صرف فوری طور پر قومی معیشت کو سنبھالا دے سکیں جبکہ سیاسی عدم استحکام کا حل نکالنے کے ساتھ ساتھ بدلتی ہوئی علاقائی و عالمی صف بندیوں میں مُلک کو مستحکم جگہ فراہم کرنے کی راہ پیدا کر سکیں ۔ مُلک میں سیاسی عدم استحکام اور سیاسی قوتو ں کا غیر سیاسی قوتوں پر انحصار کرنے کی سب سے بڑی وجہ سیاسی جماعتوں کے اندر سیاسی فکر کا فقدان ہے ۔ اسی باعث یہاں داخلی تضادات ، غیر یقینی فضا اور غیر جمہوری رحجانات میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے ۔کسی بھی قوم کا انحطاط اور ان میں سیاسی بصیرت کی کمی آپس میں لازم و ملزوم ہیں ۔ ایک ایسا معاشرہ جس میں خود احتسابی کی جڑیں گہری نہ ہوں ، سوچنے سمجھنے یا تفکر کی صلاحیت سے عاری ہو اور جہاں سیاسی جماعتیں اپنی سمت کا تعین کرنے سے معذور ہو جائیں تو وہاں ایسی سیاسی صورتحال اور عوامل کا پیدا ہونا لازمی امر ہے ۔ جب سے انسانی معاشرے وجود میں آئے ہیں ، اسی وقت سے سیاست کا انسانی زندگی کے معاملات سے تعلق ثابت ہے بلکہ ہر دور میں اہل فکر و نظر نے سیاست کے موضوع کو اہمیت دی ہے ۔ اس غور و فکر کے نتیجہ میں سیاسی گرو ہ اور جماعتیں قائم ہوتی رہیں اور انہی جماعتوں نے اپنی سیاسی فکر سے افراد کی ذہن سازی اور تربیت میں ایک فعال کردار ادا کیا ہے ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ مختلف ادوار میں کسی مُلک کے حالات اور ماحول کی تبدیلی کے ساتھ لوگوں کے فہم و شعور کی سطح بھی بدلتی رہی ہے ، خاص کر اجتماعی ، اقتصادی اور تاریخی اسباب کا اثر ان کے سیاسی فکر پر تسلیم کیا جاتا رہا ہے لیکن ایسے میں سیاسی جماعتوں کے ہاں غور و فکر کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہا۔ سیاسی جماعتوں کے اس عمل کی وجہ سے ان ممالک میں جمہوریت ہمیشہ مضبوط رہی ہے ۔ ہمارے ملک میں اگر سیاسی استحکام برقرار نہ رہ سکا اور جمہوریت نے آمریت کے ہاتھوں شکست کھائی تو اس کی تمام تر ذمہ داری بھی سیاسی جماعتوں پر عائد ہوتی ہے ۔ ان کی کمزوری اور ناکامی کی وجہ یہ بنی کہ اول تو کسی ٹھوس فکری بنیاد پر جماعت قائم نہ ہو سکی اور اگر ماضی میں کسی جماعت نے اپنی سیاسی فکر کا تعین کیا بھی تو بر سر اقتدار آنے کے بعد یا اقتدار کے حصول میں اپنے تفکر کی روش کو چھوڑ کر خود فراموشی کا طریقہ اپنا لیا ۔ اہل فکر اور سیاست سے دلچسپی رکھنے والوں نے ہمیشہ اپنی ذہنی سوچ کے مطابق کسی جماعت میں شمولیت اختیا ر کی ۔ سیاسی جماعتیں بھی اپنے کارکنوں کی فکری تربیت کرتی رہی ہیں ۔ ایک کارکن کی اپنی جماعت سے وابستگی اس کے نظرئیے اور جماعتی منشور سے ہی جڑی ہوتی ہے جس میں کسی فرد کی محبت کا دخل ہرگز نہ ہوتا ۔ یہ جماعتیں سیاسی معاملات اور جمہوری اقدار کے حوالے سے کارکنوں کے درمیان مکالمے کا اہتمام کرتیں کیونکہ سیاست ایک جدید علم ہے جس کی بنیاد تجربے اور مشاہدے پر ہے ۔ یہاں المیہ یہ رہا کہ سیاسی جماعتوں میں ایسی کوئی روایت پروان نہ چڑھ سکی بلکہ قیام پاکستان کے بعد مسلم لیگ جیسی جماعت کی قیادت اندرونی سازشوںاور دھڑے بندیوں کا شکار ہوگئی ۔ غیر سیاسی قوتوں نے ریاست پر گرفت پانے کے لیے مُلک مین جمہوریت کو کمزور کیا اور نظریاتی رہنماؤں کو سیاست سے باہر کرنے کی ہر ممکن کوشش جاری رکھی ۔جب بھی سیاسی کارکنوں اور کسی جماعت کے قائدین نے اس کے خلاف مزاحمت کی تب سیاست کا توڑ سیاست سے کیا گیا ، سیاسی اتحاد بنائے گئے اور جماعتوں کو تقسیم کیا جانے لگا ۔ ایک ایسی سیاسی کشیدگی شروع کی گئی جو آج تک جاری ہے ۔ اب صورتحال یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اقتدار کی رسہ کشی میں اُلجھ گئیں اور ساتھ ہی اپنے کارکنوں پر انحصار کم کر دیا۔ سیاسی فکر نہ رہی تو سیاسی کارکنوں کا وجود بھی ختم ہو گیا ۔ اگر کسی سیاسی جماعت میں شخصیت پسندی کی بجائے سیاسی فکر رکھنے والے موجود بھی ہیں تو جماعت ان سے لا تعلق ہو چکی ہے کیونکہ ہر سیاسی جماعت اب غیر سیاسی قوتوں کے ساتھ تعلق جوڑنے میں مگن ہے ۔ کسی مقبول سیاسی پارٹی کے پاس سیاسی فکر ، نظریہ اور سمت نہیں ہے ۔ ستم یہ ہے کہ ان سیاسی جماعتوں نے اقتدار کی خاطر آپس میں تصادم کی حکمت عملی اپنا لی ہے ، اگر ان کے قائدین نے یہ راستہ ترک نہ کیا اور مُلک کو موجودہ سیاسی اور معاشی بحران سے نکالنے کے کسی ایجنڈہ پر متفق نہ ہوئے تو اس میں جمہوری نظام کا نقصان ہوگا ۔ مُلک کے حالات کو سب نے مل کر درست کرنا ہوگا ورنہ کسی سیاسی جماعت کے پاس ایسا کوئی نسخہ نہیں کہ خود اکیلے مُلک کو اس بحران سے نکال سکے ۔ ان سیاسی جماعتوں کو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ ایک ایسی سیاسی فکر کے لیے منصوبہ بندی کرنی چاہیے جو جمہوری اقدار اور سیاست کے اصل سرچشمہ سے مربوط ہو ۔ سیاست جو کچھ بھی ہو ، آدمی کی ہمزاد ہے ۔

مزید دیکھیں :   میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں