مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی

مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کے مصداق پشاور سمیت صوبہ بھر میں ذخیرہ اندوزوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگیاہے تمام تر دعوئوں اورمبینہ کوششوںکے باوجود مارکیٹ میں عدم استحکام پیدا کرنے کیلئے آٹے کی ذخیرہ اندوزی جاری ہے سرکاری آٹا بھی مارکیٹ سے غائب کر دیا جاتا ہے جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کاسامنا ہے۔ پشاور کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق سرکاری آٹے کی ذخیرہ اندوزی اور خورد برد کی شکایات ملنے پر کارروائیاں کی گئی ہیں۔ سرکاری آٹے کے ریکارڈ میں خردبرد کرنے اور ریکارڈ صحیح حالت میں موجود نہ ہونے پر 8 ڈیلروں کو گرفتار کرتے ہوئے دکانوں کو سیل کر دیا گیا جبکہ ریکارڈ درست حالت میں نہ رکھنے والی فلور ملوں کو نوٹس جاری کئے گئے ۔دریں اثناء صوبائی دارالحکومت میںروٹی کی قیمت بڑھ گئی ہے پشاور میں کسی بھی جگہ 20روپے کی135گرام روٹی دستیاب نہیں ہے نانبائیوں نے روٹی کا وزن کم کردیا ہے یا پھر قیمت میں اضافہ کردیا ہے جس پر انتظامیہ نے آنکھیں موند لی ہیں پشاور کے علاقوں حیات آباد ‘ یونیورسٹی ٹائون’ اندرون شہر’ ہشتنگری’ افغان کالونی’ کریم پورہ اور دیگر میں نانبائیوں نے ضلعی انتظامیہ کے احکامات کی دھجیاں اڑا تے ہوئے روٹی کی قیمت میں دس روپے اضافہ کر دیا یا پھر روٹی کا وزن انتہائی کم کردیا ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ اس حوالے سے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ جس کے بعد پشاور کے مختلف مقامات پر اب روٹی 30روپے میں دستیاب ہے یہ تو ایک اجمالی صورتحال ہے وگر نہ شہر کے بعض مقامات پرروٹی پہلے ہی سے 30 روپے کی فروخت ہو رہی تھی جس کا وزن اب کم کرکے مزیدناانصافی شروع کردی گئی ہے مگرپرسان حال کوئی نہیں۔ اس پر شہریوںمیں تشویش فطری امر ہے متعلقہ انتظامیہ بھی اس حوالے سے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔یہ درست ہے کہ آٹے کی قیمت میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے مگر یہ کمی واجبی اس لئے ہے کہ جب تک آٹا کی حقیقی قیمت تک قیمتیں واپس نہیں آتیں اور مارکیٹ میں آٹا کی قیمتوں میں استحکام نہیں آتا اس وقت تک صورتحال کومعمول پر آنے کے سرکاری دعوئوں کی حقیقت مفروضوں سے زیادہ کچھ نہ ہو گی المیہ یہ ہے کہ جس وقت آٹے کی قیمتوں میں اچانک گھنٹہ وار اضافہ ہونے لگا سمگلنگ عروج پرتھی اور ذخیرہ ا ندوزی ریکارڈ سطح کو پہنچ رہی تھی بدقسمتی سے اس وقت ضلعی انتظامیہ اور محکمہ خوراک کے اہلکار محو خواب تھے اگر قرار دیا جائے کہ ان کی ملی بھگت کے بغیر یوں عوام کی جیبوں پر ڈاکہ اور کھلواڑ ممکن نہ تھا تو غلط نہ ہوگا اس سارے عمل میں حکومت کی ناکامی اور انتظامی افسران کی ملی بھگت کوئی پوشیدہ امر نہیں عدالت عالیہ نوٹس نہ لیتی تو نجانے یہ عمل مزید کتنا عرصہ جاری رہتا اور قیمتوں میں نجانے مزید کتنا اضافہ ہوتا بعید نہیں کہ آٹے کا بحران مکمل ناپیدگی کی حالت کوپہنچ جاتی ۔ عدالت عالیہ کی ہدایت کے باوجود بھی انتظامیہ روٹی کی قیمت اور وزن دونوں حوالوں سے عدالتی احکامات پرعملدرآمد میں ہنوز سخت ناکامی کا شکار ہے اور نانبائیوں نے الٹا انتظامیہ کو دھمکی دے دی ہے قبل ازیں بھی پشاور کی ضلعی انتظامیہ پر نانبائی بھاری ٹھہرتے آئے ہیں اب بھی ڈپٹی کمشنر کے اعلان پرنانبائیوں کی انجمن کے صدر کا اعلان عملی اور بھاری پڑ رہا ہے اور ضلعی انتظامیہ بے بسی کی تصویر بنی ہوئی ہے یہ صورتحال پہلی مرتبہ سامنے آئی تو حکومت اور انتظامیہ کو اس پر قابو پانے کے لئے اقدامات کی مہلت اور وقت دی جا سکتی تھی مگر یہاں برسوں سے ایسا ہی ہو رہا ہے کہ انتظامیہ نانبائیوں کی مطیع ہے جو بغیر کسی وجہ اور ملی بھگت کے ممکن نہیں انتظامیہ فی کلو آٹا سے روٹی کی تعداد لاگت اور فروخت کی شرح کے مطابق باسانی روٹی کے وزن اور قیمت کا تعین کر سکتی ہے اور نانبائیوں کے حقوق کا تحفظ اور منافع کی جائز شرح باآسانی مقرر کرکے اس پر ہر دو جانب سے عملدرآمد کا راستہ نکال سکتی ہے مگر یہاں تو رانی میں رانی کون بھرے گا پانی والا معاملہ ہے یاپھر انتظامیہ کی آنکھوں پر مفادات کی پٹی بندھی ہوئی ہے اس ساری صورتحال میں جب نانبائی اور انتظامیہ کا گٹھ جوڑ اور محکمہ خوراک کی نانبائیوں کی مکمل سرپرستی کی صورتحال ہے عوام کا بھی اپنے حق کی خاطر سڑکوں پر نکلنے انجمن صارفین کی تشکیل اور تندوروں سے روٹی لینے کی بجائے گھروں پر انتظامات کرنے جیسے عملی اقدامات کی طرف مائل ہونا پڑے گا صورتحال کا مقابلہ جوابی حکمت عملی سے نہ کیا گیا تو ملی بھگت والے عناصراپنی منوائیں گے اور عوامی حقوق کا تحفظ کرنے والاکوئی نہیں ہوگا ۔ عدالت عالیہ پشاور اس ضمن میں سخت ہدایات اور ٹھوس لائحہ عمل کی ہدایت کرکے عوام کوناانصافی سے بچانے میں کردار ادا کرے تو اس کی امید ہے علاوہ ازیں یہ مرض بڑھتا ہی جائے گاعطائیوں کی جعلی ادویات کی عدم اثرپذیری نوشتہ دیوار ہے۔

مزید دیکھیں :   ڈار'ڈالر اور ڈکٹیٹر